ایک نئے مسلمان کا ظہور!

(وہ عالم پیر مر رہا ہے.....)
اعوذ باللہ اکون من الحٰجہلین۔ البقر67
میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں جیسی باتیں کروں۔
یہ تحریر کتاب و شنید سے ماخوذ ہے۔ فقرا کی صحبتوں میں جو سُنا اس پر غوروخوض کیا اور اپنی سمجھ بوجھ کا خاکہ یوں بنایا:
میں سورہ فاطر کی تلاوت کے دوران جب اس آیت پر قیام کرتا ہوں کہ:
’’لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے۔ وہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر کوئی نئی خلقت (خلقِ جدید) تہاری جگہ لے آئے۔‘‘ سورہ فاطر 22/6، تو مجھ پر حیرت کے متعدد زمانے بیت جاتے ہیں۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ خلق جدید کیا ہے اور اُس کا ظہور کن حالات و کیفیات میں ممکن ہے؟

برسہابرس کے غوروخوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ایک نئے مسلمان کے ظہور کا اشارہ ہے۔ خلق جدید ایک نئی اُمت کا استعارہ ہے۔ یہ نئی انسانیت کا ایک ایسا تصور ہے جو مسلمان بننے کے خواہشمند کو اسلام کے اصل سرچشمے سے منسلک کرتا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ مومن جس کے غلبے (139 آل عمران) کی ضمانت قرآن کریم مہیا کرتا ہے، آج موجود نہیں ہے۔ وہ مومن جو کبھی ماضی کی کتب میں پایا جاتا تھا، اب تو وہ حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کی تکلیف دہ کیفیت دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ اُس عالم پیر کو مرنے دینا انسانیت کے حق میں ایک بہت بڑی نیکی ہو گی۔ ایک بے حد مثبت قدم ہو گا۔ کیونکہ ایک نیا عالم اسلام اُسی صورت میں وجود میں آئے گا، جب پرانا حرفِ غلط کی طرح مٹ چکا ہو گا یا مٹا دیا جائے گا۔ کسی ملت کی تعمیر نو کے باب میں یہ ایک لازمی مرحلہ ہوتا ہے۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
ہر بنائے کہنہ، کابادآن کنند
اول آں بنیاد اویراں کنند
(جب کسی پرانی عمارت کی جگہ نئی عمارت استوار کرنی ہو تو پرانی بنیادوں کو مسمار کرنا پڑتا ہے۔)

چنانچہ سورہ فاطر کی محولہ بالا آیت کی روشنی میں اس عہد کا قرآنی پیغام یہ ہے کہ ایک نئے، توانا، دانا و بینا، صاحب عمل مسلمان کو منظر عام پر لایا جائے۔ اب کسی ردوبدل یا ترمیم و تفریق سے کام نہیں چلے گا۔ جو ہے اس میں بہتری کے امکانات کو رد کر دینا چاہیے کیونکہ صدیوں سے زوال اور انحطاط کے شکار نام نہاد اسلامی معاشرتی ڈھانچے کی بقا کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اب اس کا تسلسل بے معنی ہے، چنانچہ اسے بالکل منقطع ہو جانا چاہیے۔

مسلمانوں نے گزشتہ صدی کے اوائل سے جس طرح کی زندگی گزاری ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صداقت و امانت پر مبنی نہیں تھی۔ کیونکہ اُس پر نبی کریم ﷺ کی شہادت کی مہر ثبت نہیں تھی۔ اس کے برعکس اسلامی معاشرتی حلقوں کے لوگ بے حد غیر اسلامی زندگی گزارتے رہے ہیں۔ اس برائے نام اسلامی معاشرت کے قلب میں ایک بیماری تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی مگر کبھی کسی نے یہ سوال نہیں اُٹھایا کہ آخر ایسی دلسوزی کا اسیر رہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس لیے کہ یہ اسیری خود اُن کی اپنی ایجاد تھی۔ اس اسیری کے لیے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ان بر خود غلط مسلمانوں نے خود ہی ڈھا لی تھیں۔ وہ اس عصری عذاب اور ادبار کے اس لیے مستحق تھے کیونکہ انہوں نے لایغیر مابقوم* کا سبق کبھی یاد کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہرچند کہ وہ کسی رٹو طوطے کی طرح اس آیت کا ورد بھی کرتے آئے اور اس کے ترجمے کو شعری قالب میں ڈھال کر گاتے بھی رہے* (خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا) مگر اس آیت کے مفہوم کے عملی اطلاق سے اجتناب برتتے رہے اور یہی سمجھتے رہے کہ یہ ناظرہ خواندگی ہی اسلام کا حتمی مقصد ہے:
لیکن اب آسمانوں سے ایک انتباہ جاری کیا جا رہا ہے کہ:
یاایہاالناس! اب بہت ہو چکا۔ اب جاگو!
اُٹھ فریدا سُتیا، تو جھاڑو دیہہ مسیت
تو سُتا رب جاگدا تیری ڈاڈھے نال پریت

ذرا، آئینہ تو دیکھو! کہ اس تمہاری غفلت کی نیند نے تمہاری کیا گت بنا ڈالی ہے۔ فلسطین سے لے کر افغانستان تک اور عراق سے بالقان تک تم ایک دوزخ میں جلائے جا رہے ہو۔ کیا کبھی سچی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ایسا ہی ہوا کرتا ہے؟ تم دیکھ کیوں نہیں پاتے کہ تمہاری بستیاں اور ممالک پچھلی کئی صدیوں سے مسلسل آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ تم آخر دیکھ کیوں نہیں پاتے کہ تمہارا آگ بجھانے والا عملہ کب کا موت سے ہمکنار ہو چکا۔ دیکھو! محمد ﷺ کی بعثت تمہارے لیے اپنے ورود کو پھر سے نہیں دوہرائے گی۔ تم تک جو پیغام پہنچانا تھا وہ پہنچایا جا چکا ہے۔
مگر تم محمد ﷺ کے باغِ جنت کو خزاں کی زد پر لے آئے ہو۔ اور جو باغ خزاں کے زہر سے جل چکا ہو اُس میں بیٹھ کر پھولوں اور پھلوں کے اسما کا ورد کرنے سے پودے ہرے ہو کر رقص نہیں کیا کرتے اور نہ ہی گلاب کی خزاں رسیدہ جھاڑیاں رنگوں اور خوشبوؤں کے جام لنڈھایا کرتی ہیں۔ اگر کوئی اس طرح سے سوچتا ہے تو وہ صریح غلطی پر ہے۔ ہر شخص دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اُس میں مومن بن سکنے کی مکمل گنجائش اور صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اور اگر یہ نہ ہو تو اسلام کے پیغام کی تکمیل ممکن نہیں ہوتی۔
چنانچہ ہم کو احیاء اسلام کا ازسرنو اعلان کرنا ہو گا۔

لیکن اس مرحلے پر سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ ملت اسلامیہ سے غلطی کہاں ہوئی ہے؟ آخر پچھلے کئی زمانوں سے مسلمان خواروزبوں کیوں ہے؟ آخر وہ کون سے حالات تھے جن کی بنا پر شعری مجالس میں یہ نوحہ خوانی کی گئی کہ:
جو دین، بڑی شان سے، نکلا تھا وطن سے
اب اُس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

ان گزشتہ زمانوں میں مسلمان کی زندگی کا محور فرقوں کی باہمی آویزش رہی ہے۔ وہ اس کشمکش میں خیر اور شر کے اصل تصور تک کو بھول گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان کی قوت کا اصل محرک جو توحید تھا، پس منظر میں چلا گیا اور اُمت کسان کے اُن بیٹوں کی کہانی کا کردار بن گئی جو نفاق کا شکار ہو کر اپنی طاقت کھو بیٹھے تھے۔ فرقہ آرائی امت کے لیے ایک زہر قاتل ہے مگر اس زہر کے سوداگر اسے تریاق مان کر اس سے نفاق کشید کرنے کو اسلام سمجھتے رہے ہیں۔ جبکہ ہو یہ رہا تھا کہ مسلمان کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جا رہا تھا۔ اُس کی قوت کے پرزے اڑائے جا رہے تھے۔ کتنا خوفناک المیہ تھا۔ یہ وحدت پرست مسلمان کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا عمل تھا۔ کہا تو یہ جا رہا تھا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو مگر درپردہ تفرقے کی بساط بچھائی جا رہی تھی جو اب لپٹتے نہیں لپٹتی۔ حالانکہ اللہ کی رسی سب کو ایک ساتھ باندھ رکھنے کا اسم تھی مگر امت اس طلسم سے ناواقف ہوتی جا رہی تھی۔ جب کوئی آوا پورے کا پورا بگڑ جائے تو کوئی ایک مصلح اسے راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ حق کے پیغام کا اعادہ کرنے والے آتے رہے مگر وہ اس بیماری دل کا مداوا نہ کر سکے۔ بلھے شاہ بھی سنی اور شیعہ کو صلح کل پر متفق نہ کر سکے، تاہم اُن کے کلام کے اثرات دلوں کے تاروں کو اب بھی چھیڑتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ صورت حال مسلمان کے المیے کا سبب بن رہی ہے۔ ایک ملت جو خود اپنے آپ پر برسرپیکار تھی دوزخ کا ایندھن بنی ہوئی تھی۔ جب لوگ نفاق کی کھائی میں جا گریں تو اُن کے سامنے وہ سرنگ کھل جاتی ہے جو دوزخ کے دروازے پر جا کر تمام ہوتی ہے۔ نفاق ذدہ آدمی کا مطلب ہوتا ہے ٹکڑوں میں بٹا ہوا آدمی جو خود اپنی ذات سے بچھڑ چکا ہوتا ہے۔ وہ ایک استقامت ناآشنا ہیولیٰ ہوتا ہے، جبکہ وہ آدمی جو اپنی ذات میں مستحکم ہو وہ دوسروں سے جڑ کر رہنے کے آداب جان جاتا ہے۔ مگر حقیقت حال یہ کہ امت اجتماعی طور ایک شکستہ تشخص کے مرض میں مبتلا ہے۔ کیونکہ مسجد و مکتب کے ایوانوں سے لوگوں پر جبر و اکراہ کی گولہ باری ہوتی رہی ہے۔ انہیں دباؤ میں رکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن شر کو دبانے سے شر کو نابود نہیں کیا جا سکتا۔ صرف یہ ہوتا ہے کہ شر نفس کی نچلی تہوں میں جا بسیرا کرتا ہے۔ اور ان نچلی تہوں سے وہ اپنی وارداتیں ڈالتا رہتا ہے۔ چنانچہ لوگ جو کچھ مونہہ سے اُگلتے رہتے ہیں اسے عملی طور پر انجام نہیں دے پاتے۔ تو کیا ہوتا ہے؟ منافقت اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے۔ منافقت وہ آکاس بیل ہے جو دین کے شجر کا لہو پی جاتی ہے۔

انسان حواس و اعضا کا مرقع ہے۔ خدا نے اُسے جو دیا ہے اُس کو استعمال میں لانا ہوتا ہے۔ کسی طرح کا انکار بھی جرم ہے۔ یہ جسم ایک سازینے کی طرح ہے جس پر باہمی محبت کے گیت چھیڑنے ہوتے ہیں۔ لیکن مذہب کا گماشتہ اس باہمی محبت کے برعکس فرقہ آرائی کے فلسفے کو رواج دے کر نفاق کا ڈھول بجاتا رہتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے اندر اور باہر دوسرے لوگوں سے اپنے تعلقات کے باب میں باہمی تضادات کو ہوا دیتا رہتا ہے۔ ہمارے مذہب کے مبلغوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو راست عقیدے کے نام پر داخلی عدم اطمینان سے دوچار کرتے آئے ہیں، فرقہ آرائی کی آڑ میں تعصب اور تضادات کے گوناگوں فلسفے تعلیم کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک طرح کی جنگ ہے جو مسلمانوں پر مسلط رہی ہے۔ اس اعصابی جنگ نے بدن کی اُن اعلیٰ توانائیوں کو نچوڑ لیا ہے، جو اجتماعی ملی تشخص کی تعمیر کے لیے بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔ یہ انسانی صلاحیتوں کا سفاکانہ قتل ہے جو آدمی کو کند ذہن اور بے حس بنا دیتا ہے۔ جب کہ مومن کو اپنی فراست کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سو فیصد توانائی درکار ہوتی ہے۔ فراست دانائی کا وہ مقام ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے ملا کرتا ہے۔ جب یہ مقام مل جاتا ہے تو توانائی پوری مقدار میں اپنا معجزہ دکھاتی ہے اور ذہانت فروغ پاتی ہے۔ مگر بے چارہ آج کا مسلمان فراست کی قلت کا شکار ہے اور داخلی مفلسی کے دن کاٹ رہا ہے۔ اُس کے لیے سورہ فاطر کے اُس پیغام کی اہمیت دوچند ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ خلق جدید کے ورود کے امکانات ہمہ وقت روشن ہیں، کیونکہ تمہارا خالق اس بات کی قدرت رکھتا ہے۔

میں یہاں یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اسلامی فکری نظام میں مومن صرف اپنی روحانی استعداد کے باعث ہی مکمل نہیں ہوتا بلکہ اُسے اشیاء و خدمات کے شعبے پر بھی مکمل دسترس اور کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو اُن اخلاقی اقدار کو زندہ کرنے کا حکم ہے جنہیں ادارہ رسالت ﷺ نے وضع کر کے رائج کیا تھا۔ مگر آج کے مسلمان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اُس کے بدن میں روحِ محمد ﷺ باقی نہیں رہی ہے۔ اقبال ؔ یاد آ رہے ہیں:
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں کبھی
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
اور اسلامی پراپیگنڈے یعنی تبلیغ کے مروجہ ادارے نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے۔ اب مسلمان ایک فرضی مسلمان رہ گیا ہے، جس نے مسلمانیت کا ماسک پہنا ہوا ہے لیکن ماسک کے پیچھے وہ کنفیوژن ہے، جس کا جہالت کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں۔

آج ہمارے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ وہ چیلنج ہمیں للکار رہا ہے کہ مسلمانی کے ماسک کو اُتار کر خاک کے ہیولے کو اسمِ محمدؐ سے حیاتِ نو دو۔ وہ اسمِ محمدؐ جو بامسمیٰ ہو، محض لفظی علامت نہ ہو۔ خاک کے پتلے کو اسمِ محمدؐ سے زندہ کرنے کا عمل زمین اور آسمان کو باہم ملانے کا عمل ہے۔ جو دکھائی دے رہا ہے، اُسے نہ دکھائی دینے والے سے ہم آہنگ کرنے کا اقدام ہے۔ یہ قطبین کا نقطہ اتصال ہے۔ اصولِ تذکیر و تانیث کے ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک حیاتیاتی کل بننے کا امکان ہے اور پھر اسی امکان کی برکات سے خلقِ جدید کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ لیکن کیا واقعی اس نئے سورج کی کرن دکھائی دے رہی ہے؟ کیا کسی نئے مسلمان کا سراپا مرتب ہو رہا ہے؟
جی نہیں، اس کے برعکس لاتقنطو کی بارش میں بھیگنے کی حسرت دل میں لیے آج کا مسلمان، اُمت مسلمہ کو خودکشی کے رستے کی طرف مارچ کرتے دیکھ رہا ہے۔ خودکشی کے اِس پرانے تصور کو خودکش بمباری کے فروغ پاتے رواج نے اور بھی بدصورت بنا دیا ہے۔ یہ خودکش بمبار، دہشت گرد گروہوں کے سرغنوں کے وہ غلام ہیں جنہیں اختلالِ حواس کی ادویات کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے حسن بن صباحوں کی عطا کردہ منشیات کے زیر اثر اسلام کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں، اور مسلمان معاشرتوں کی ہڈیاں چبا رہے ہیں۔ کیا یہ طرزِ زندگی بھی کوئی طرزِ زندگی ہے؟ یہ تو مخبوط الحواس دیوانوں کے شہر کا موت کا سرکس ہے، جہاں زندگی اپنی بدنصیبی پر نوحہ کناں ہے۔ یہ خودکش بمبار انسان نہیں روبوٹ ہیں اور کوئی روبوٹ مسلمانوں کی سی زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ میں نے کبھی ان انسان نما روبوٹوں کے بارے میں ایک غزل کہی تھی جس کا مقطع ہے:
یہ، آدمی مشینوں کے دین پر مسعودؔ
فلک سے اُتری تھیں شاید مشین کی باتیں

پرانے زمانے کے مذاہب میں ترکِ دنیا کا ایک شعبہ موجود تھا۔ ترکِ دنیا زندگی سے فرار بھی ہے اور گریز بھی۔ لیکن اسلام انسانیت کو ترکِ دنیا کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دنیا کے درمیان رہ کر، اُس کا سامنا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق مخلوق خدا کی فلاح و بہبود اور خدمت و خاطرداری کے منصوبے بنانے اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی تعلیم دیتا ہے۔ صحیفوں میں تعلیم کیا گیا ہے کہ دنیا ترک کرنے کی چیز نہیں کیونکہ خالق کائنات نے اسے ترک نہیں کیا ہے۔ تو ہم آپ کیوں ترک کریں؟ یہ دنیا خدا کا بنایا ہوا مہمان خانہ ہے، ہم اِسے کیوں چھوڑ بھاگیں اور کہاں جائیں؟ ہمیں اس دنیا میں آدھے ادھورے ہو کر نہیں پورے کے پورے رہنا ہے۔ پوری طرح رہنا ہی زندگی کے معیار کو بلند کرتا اور مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ زندگی کرتے ہوئے جب ارض و سما کا ملاپ ہوتا ہے تو کتنا خوبصورت منظر ہوتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ملاپ کے مناظر میں سارے تضادات ایک دوسرے میں مدغم ہو رہے ہوتے ہیں اور ضدیں ایک دوسرے کی تکمیلی قوتیں بن جاتی ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ماضی کا وہ مسلمان جو حرم کے درد کا درماں تلاش نہیں کر سکا، صحیح معنوں میں مسلمان تھا ہی نہیں۔ وہ شکل صورت میں مسلمانوں جیسا ضرور تھا مگر اپنے جوہر کے اعتبار سے مومن نہیں تھا۔ وہ پورا نہیں تھا اور جو پورا نہ ہو وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن اب شاید اللہ کا منشا پورا ہونے کو ہے۔ اب افق پر سے خلق جدید کی آمد کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ وہ نیا مسلمان شاید آ بھی چکا ہے مگر ابھی اقلیت میں ہے۔ فی الوقت اُس کی تعداد میں کم ہونا فطری امر ہے۔ تاہم جدت کے بیج بوئے جا چکے ہیں۔ اور گمان غالب ہے کہ یا تو اس صدی کے اختتام تک یا تو عالم اسلام کو میدانِ حشر میں طلب کر لیا جائے گا یا رحمت اللعالمینی کے تصرف کا اعادہ ہو گا اور دنیا محمد ﷺ کے نقشِ قدم پر پوری صداقت سے چل نکلے گی۔

اِن دونوں امکانات کا دارومدار ہم اور آپ پر ہے۔ اگر آپ اور ہم اُس پرانی معاشرت کے فرسودہ مشینی ڈھانچے سے جڑے رہے تو اُس ڈھانچے کے خودکشی پر مبنی نفسیاتی شکنجے کا شکار بن جائیں گے۔ خودکش بمباری کی تسلسل سے ہوتی ہوئی وارداتیں ہمارے ملی تشخص کو اپنی لپیٹ میں لے کر ملیامیٹ کر دیں گی۔ دوزخ کے دروازے عام داخلے کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ خودکش بمباری کی یہ پے در پے وارداتیں بتا رہی ہیں کہ سٹیریو ٹائپ مسلمان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر مسلمان اس وقت جنگ کی سی حالت میں مبتلا ہیں۔ کیا یہ تیسری عالمی جنگ ہے جو نئے نئے، اجنبی ار بدیشی حربی فنون آزما کر لڑی جا رہی ہے؟ تاہم دکھائی دے رہا ہے کہ اس جنگ میں جیت کسی فریق کی نہیں ہوگی۔ نہ تو طاقتور جارح جیتے گا اور نہ ہی کمزور حریف۔ کیونکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت سارے ممالک نہ صرف دوسروں کی، بلکہ اپنی تباہی کے بھی درپے ہیں۔ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ قیامت ہی کے آثار ہوں؟

افسوس یہ ہے کہ اس وقت سب سے خطرناک کھیل سیاستدان کھیل رہے ہیں۔ ان سیاستدانوں کا ہر داؤ پیچ کرہ ارض کی آبادی کے گرد خودکشی کی فصیلیں تعمیر کر رہا ہے۔ لوگوں کو گروہ در گروہ در گروہ بانٹا جا رہا ہے۔ اس وقت دنیا دو بڑے ہی خطرناک گروہوں میں تقسیم ہے اور یہ دونوں گروہ امریکی یورپی سیاست کی ایجاد ہیں۔ ان میں ایک گروہ دہشت گردوں کا ہے جس کی تربیت کرائے کے فسادی اور مذہبی انتہاپسند کرتے ہیں اور دوسرا گروہ دہشت گردی کے سرپرستوں کا ہے جس میں امریکہ اور اُس کے یورپی اتحادیوں کے گماشتے شامل ہیں، جو اپنی سیاسی ضرورتوں کے لیے درپردہ دہشت گردی کو پروان چڑھاتے ہیں اور بظاہر اُس کا قلع قمع کرنے کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔

نیا مسلمان اس گروہ بندی سے آزاد ایک تیسری سمت کا ہراول ہے۔ وہ دہشت، جبر اور اکراہ کے ہر طریق کار سے مکمل اختلاف رکھتا اور اجتناب کرتا ہے۔ یہ نیا مسلمان اقبال کی اصطلاح میں مردِ آفاقی ہے۔ مردِ آفاقی جو دو عالم میں بھی نہیں سما سکتا۔ یہی ہو گا وہ جس کے آنے سے انسانیت کی بقا کی ضمانت مل سکے گی۔ یہ مسلمان صحیح معنوں میں دوسری اُمتوں پر گواہ ہو گا اور خود اُس پر رحمت عالم ﷺ گواہ ہوں گے۔ نیا مسلمان نہ صرف ظاہری طور پر خوشحال ہو گا بلکہ اس کی خوشحالی اُس کے روحانی تمول سے بھی ہم آہنگ ہو گی۔ وہ ظاہر اور باطن دونوں سطحوں پر خوشحال ہو گا۔ لیکن ایک بات کا اعادہ ضروری ہے کہ نئے مسلمان کی شناخت علاقائی نہیں آفاقی ہو گی کیونکہ علاقائی شناخت رحمت اللعالمینی کی حدودِ وسعت پر سوالیہ نشان لگاتی ہے اور یہ بات اس مضمون میں پہلے بھی کہی جا چکی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر اس نئے مسلمان کا نقطہ آغاز کیا ہو گا؟
یہ نقطہ آغاز..... میں اور آپ ہوں گے اور ہیں۔ اور ہمیں اس عظیم چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ایک بار ایک ویسی ہی معاشرتی کائنات کا احیاء کرنا ہے جیسی نبی کریم ﷺ کی مہربانیوں، محبتوں، رحمتوں اور شفقتوں کے سائے میں مدینے میں قائم ہوئی تھی۔ یہ ایک ذمہ داری ہے جو ہم پر ڈالی گئی ہے۔ یہ ایک فرض ہے جو ہمیں پکار رہا ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو نصیب والوں کو ہی میسر آتی ہے۔ کیا ہم واقعی خوش قسمت نہیں ہیں کہ ہم ایک ایسے بحرانی دور میں پیدا ہوئے، جس میں ہمیں جہات کے اندھیرے مٹا کر علم و عرفاں کی شمعیں روشن کرنے کے مواقع میسر آ رہے ہیں؟ آؤ، ہم مل کر ایک ایسا مسلمان وجود میں لائیں جو بے نیازی میں اصحابِ صفہ کے ہم پلہ ہو۔ علم و معرفت میں جعفر صادقؑ کے مکتب کا فارغ التحصیل ہو۔ وہ، جس کے تمول میں رزاقی ہو اور امورِ معاشرت میں عدل گستری ہو۔

یہ نیا مسلمان صاحب حال اور صاحب تخلیق ہو گا۔ وہ نظری بحثوں اور روایتی اعتقادات سے ہٹ کر شعور و فراست پر بھروسہ کرے گا۔ وہ ایک ہمہ صفت موصوف مسلمان ہو گا اور وہ لمحہ لمحہ باخبر اور آگاہ رہے گا۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں ذمہ دار اور جواب دہ ہو گا کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ۔

یہ نیا مسلمان اپنے ساتھ ایک نئی اسلامی دنیا لے کر آئے گا۔ وہ ایک نئی ثقافت کا حامل ہو گا۔ وہ مصدقہ، کشادہ دل اور دیانتدار ہو گا جسے منافقت کا سرطان لاحق نہیں ہو گا۔ آؤ، ہم سب اپنے اپنے اندر خلق جدید کو تلاش کریں۔