مغربی ممالک میں مسئلہ کشمیر پر بحث ضروری ہے

اس وقت دنیا بے شمارمسائل کاسامنا کررہی ہے۔ کچھ مسائل بالکل نئے ہیں جن میں شام، یمن اور یوکرائن شامل ہے اور کچھ پرانے ہیں۔ کچھ مسائل دہشت گردی سے جڑے ہیں اور کچھ غیر ملکی جارحیت اورریاستی دہشت گردی کی وجہ سے ہیں۔ پرانے مسائل میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فائلوں میں کافی عرصے سے موجود ہیں۔ ان دیرینہ حل طلب مسائل میں کشمیرکامسئلہ بھی ہے جو ستر سالوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا۔

کشمیرکا مسئلہ پراناہونے کے باوجود ہرروز تازہ ہے۔ کشمیریوں کو ہر روز بھارتی دہشت گردی کا سامنا ہے کیونکہ کشمیری اپنے خطے پر نئی دہلی کی عمل داری ہرگزنہیں مانتے۔ بھارت نے انہیں منوانے کیلئے کثیر تعداد میں فوج تعینات کی ہوئی ہے جو ہرروز نت نئے ظالمانہ ہرحربے استعمال کرتی ہے۔ بھارت نے ان فوجیوں کو کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھانے کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے۔ نہ صرف انہیں مظالم ڈھانے کے مکمل آزادی ہے بلکہ ان مظالم پر انعام بھی دیئے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک بھارتی میجر کو اس بات پر ایک اعزاز سے نوازا گیا کیونکہ اس نے نہ صرف کشمیریوں پر ظلم کیا بلکہ ان کی عزت نفس مجروح کرنے کی بھی کوشش کی۔ یہ وہ فوجی آفیسر ہے جس نے چند ہفتے قبل ایک کشمیری نوجوان کو اپنے جیپ کے بونٹ پر باندھ کر گلی گلی گھمایا اور لوگوں سے کہا تھا کہ اب فوج پر پتھرمار کردیکھو۔

کشمیرپر عالمی برادری سنجیدہ نظرنہیں آتی ۔ دنیاکے طاقتور حلقوں میں کشمیریوں کی کوئی بات سننے کے لیے تیارنہیں۔ ایسے میں اگرکوئی کوشش کرکے کسی اہم ملک کے ایوان تک کشمیرکی بات پہنچا دیتا ہے تو ایسی کاوش قابل قدرہونی چاہیے۔ گزشتہ روز فیس بک پر اپنے ٹائم لائن کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک نارویجن پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث کی خبردکھائی دی۔ فیس بک کے اس صفحے پر بحث ناروے کی مرکزی پارلیمنٹ سے براہ راست دکھائی جارہی تھی۔ ناروے کے وزیرخارجہ کا بیان جاری تھا اور ان کے بعد ناروے کی پارلیمنٹ کے کشمیرگروپ کے چیئرمین کے تاثرات دکھائی دیئے۔ اس براہ راست ویڈیوکاسٹ کے نیچے اس پارلیمانی مباحثے پر لوگوں کے خیالات بھی جاری تھے۔ کچھ خیالات اس طرح بھی تھے، ’’ علی بھائی بہت اچھا‘‘۔ یعنی لوگ کشمیرسکینڈے نیوین کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردارعلی شاہنواز خان کی تعریفیں بھی کررہے تھے۔ نارویجن  وزیرخارجہ بورگے بریندے نے پارلیمنٹ میں کشمیرپر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیرحل کرلینا چاہیے۔

پارلیمانی سیشن کے دوران یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں ناروے کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین کنوت آریلڈ ہاریدے نے اٹھایا جو پارلیمنٹ میں کشمیرگروپ کے چیئرمین بھی ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش ظاہرکی اور تعجب کا اظہاربھی کیا کہ بھارت میں کیسی جمہوریت ہے کہ جہاں کشمیرکے لوگوں کی اظہاررائے کی آزادی پر بھی قدغن ہے اورسوشل میڈیاپر پابندی ہے۔ انہوں نے ناروے کی حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ بھارت پردباؤ ڈالے تاکہ وہ مسئلہ کشمیرحل کرنے کے لئے  مذاکرات کی میزپر آئے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہرکیا کہ اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو صورتحال مزید خطرناک ہوسکتی ہے۔ نارویجن پارلیمنٹ کے کچھ دیگر اراکین نے بھی اپنے تاثرات بیان کئے۔ ان میں پاکستانی نژاد رکن نارویجن پارلیمنٹ عابد قیوم راجہ بھی شامل ہیں جنہوں نے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیرکے حل پر زوردیا۔

پارلیمنٹ میں بحث جاری رہی اور اس دوران فیس بک پر اس کی براہ راست ویڈیوبھی چلتی رہی ۔ لوگ تاثرات بھی دیتے رہے ۔ واقعاً مسئلہ کشمیرکا ناروے کی پارلیمنٹ اٹھایاجانا ایک اہم اقدام ہے۔ پارلیمنٹ کسی بھی ملک کی پالیسی سازی کے حوالے سے سب سے اہم منتخب ادارہ ہوتاہے۔ پارلیمنٹ میں ہونے والے بحث اس ملک کی پالیسیوں اور موقف پر بھی اثراندازہوتی ہے۔ نارو ے کی پارلیمنٹ میں اب تک چودہ بار مسئلہ کشمیرپر بحث ہوچکی ہے ۔ ان مباحث کاآغاز اس وقت ہوا جب ایک مدت قبل ناروے کی پارلیمنٹ میں ایک پاکستانی نژاد نارویجن  سیاستدان اطہرعلی بطور معاون رکن شریک ہوئے۔ انہوں نے سب سے پہلے کشمیرکے مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ پارلیمنٹ میں تازہ ترین مباحثے کے حوالے سے پارلیمانی کشمیرگروپ کے چیئرمین کنوت آریلڈ ہاریدے کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ یہاں یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیرپرناروے کے ایوان میں بحث کو برقراررکھنے کے حوالے سے کشمیرسکینڈے نیوین کونسل کے سربراہ سردار علی شاہنواز خان کے کردارسے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے تبصرے کے لئے جب راقم کی بات پی پی پی ناروے کے سینئر رہنماء مرزا محمد ذوالفقار سے ہوئی تو انہوں نے اس پارلیمانی بحث کو اہم قرا ردیا اور اس کے پیچھے کارفرما کرداروں کی تعریف کی۔

واقعاً یہ ایک اہم قدم ہے البتہ اس پارلیمنٹ میں کشمیرپر بحث کو موثر بنانے کے لئے سفارکاری کا تسلسل بھی ضروری ہے۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ کوئی بھی مسئلہ تسلسل کے بغیردب جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومتی اورسیاسی حلقوں کے ساتھ مسلسل رابطوں کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی کشمیرکے موضوع پر نارویجن پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے مابین مزید ہم آہنگی بھی درکار ہے۔ مسئلہ کشمیر کو پارلیمنٹ میں اٹھانے سے کم از کم نارویجن حکومت کو احساس تو ضرورہوگا کہ کشمیرنہ صرف دیرینہ تنازعہ ہے بلکہ بھارت کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھارہاہے۔ امید ہے کہ یہ بحث نارویجن پالیسیوں پر اثراندازہوگی۔

اگرچہ ناروے آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹاسا ملک ہے لیکن مغربی دنیا میں کافی اثرورسوخ رکھتاہے۔ توقع ہے کہ اس طرح کی پارلیمانی بحث ومباحثوں کے اثرات عالمی برادری بھی ہوں گے۔ اب عالمی برادری کو بھی بلاتاخیر یہ مسئلہ حل کروانے میں کردارادا کرنا چاہیے ۔ اس بات کی فوری طورپر ضرورت ہے کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کروائے جائیں اور مقبوضہ کشمیرسے بھارتی افواج کو واپس بلایا جائے تاکہ اس تنازعے کے سیاسی اورپرامن حل کی راہ ہموار ہوسکے۔