سوشل میڈیا، عوام کی آواز
صحافت کو درپیش خطرات اور آزادی اظہار کی راه میں آنے والے چیلنجز کے بارے میں معروف کالم نگار نصرت جاوید اور پهر برادرم رؤف کلاسره نے اپنے کالموں میں نوے کی دہائی کی تاریخ اور صحافت کو درپیش خطرات سے قارئین کو آگاه کیا ہے۔ ان کالموں کا مدعا آنے والے دور کی دھندلی تصویر کو واضح کرکے دکھانا تھا۔
حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سوشل میڈیا کے حوالے سے پریس کانفرنس اور پهر اس کے بعد ایف آئی اے کا متحرک ہو کر مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ سوشل میڈیا سیل کے نوجوانوں کو گرفتار کرنا ، ان پر مقدمات قائم کرنا، دراصل سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں خوف کی فضا قائم کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ طاقتور سرمایہ داروں، ارب پتی سیاستدانون ، ریاستی اداروں نے پہلے ہی میڈیا کو اپنے مفادات کا ترجمان بنایا ہؤا ہے۔
بڑے بڑے آزاد منش اور غیر جانبدار صحافی 2013 میں اپنے قلم اور تجزیوں میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو وسیع تجربہ کا حامل اور ملک و قوم کا نجات دہنده قراردیتے تھے۔ مسلم لیگ کے اقتدار میں آتے ہی بڑے بڑے نظریاتی ورکر اور لیڈر قیادت کی آنکھ سے اوجھل ہوگئے لیکن ان آزاد اور غیر جانبدار صحافیوں کے لیے سرکاری اداروں کے عہدے پلیٹ میں رکھ کر پیش کئے جانے لگے۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو اربوں روپے کے اشتہارات جاری کرنے بعد صرف سوشل میڈیا ہی باقی ره گیا ہے جہاں چند گھنٹوں میں ہی عوام مختلف ایشوز پر اپنی آزادانہ رائے دیتے ہیں اور مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں۔ اس طرح میڈیا پر بھی دباؤ بڑتھا ہے اور اسے اپنی ساکھ بچانے کےلئے ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا پڑتا ہے۔
مردان یونیورسٹی کے نوجوان طالب علم مشعال خان کا بہیمانہ قتل ہو یا بحریہ ٹاؤن میں نجی ٹی وی چینل کا سٹیج گرنے کا حادثہ، یہ سوشل میڈیا ہی تھا جس نے ان واقعات کو نظر انداز اور آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث سے عام آدمی بھی طاقتور لوگوں سے سوال طلب کرتا ہے۔ اور طاقتور لوگ عام آدمی کے سوال اٹھانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی اکثر ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نوجوان سب سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا ان کے لیے سٹڈی سرکل کا درجہ رکھتا ہے۔ قومی امور اور سیاست سے ان کی دلچسپی اسی کی بدولت ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد کی سیاست میں فعال کردار ادا کرنا روایتی سیاسی اشرافیہ کے مفادات کے خلاف ہے۔
صحافتی ذرائع پر حکومتی اثر ورسوخ برقرار رکھنے کے بعد بھی سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنا حکومت کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہ کسی سیٹھ کی نہیں عوام کی آواز ہے۔