سوشل میڈیا ، نوجوان طبقہ اور حکومتی ناراضگی

پاکستان سمیت دنیا میں رسمی میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے ۔ بالخصوص نوجوان طبقہ میں سوشل میڈیا اپنے استعمال کے حوالے سے زیادہ مقبولیت رکھتا ہے ۔ اس میں صرف نوجوان لڑکے ہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی پیش پیش ہوتی ہیں ۔ اسی مقبولیت کے پیش نظر محض اس کا استعمال نوجوان طبقہ تک ہی محدود نہیں بلکہ بچے ، بڑے سمیت ہر طبقہ کا فرد اس میڈیا کے استعمال کو اپنی بڑی طاقت سمجھتا ہے ۔ ماضی میں لوگوں کے پاس اپنے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کی طرح مواقع نہیں تھے  لیکن آج کی جدید دنیا میں اس کا استعمال تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال وہ لوگ بھی  کرتے ہیں جو خود کسی نہ کسی حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا حصہ ہیں ۔

پچھلے دنوں سے پاکستان کی سیاسی فضا میں سوشل میڈیا کے حوالے سے جہاں مثبت بحث موجود رہی ہے ، وہیں کچھ لوگ جن میں ریاستی وحکومتی ادارے بھی ہیں سخت تنقید کررہے ہیں ۔ ڈان لیکس کے معاملے میں جو بحث سوشل میڈیا پر چلی جس میں حکومت اور فوج کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، اس پر  ناراضگی  سامنے آنا بھی فطری امر ہے ۔ اس سے قبل  یہ بحث بھی موجود ہے کہ  پاکستان دشمنی کا ایجنڈا رکھنے والی قوتیں بھی اپنے مخصوص مقاصد  کے لیے نوجوان طبقہ کو’’ سوشل میڈیا پر بطور ہتھیار‘‘ استمعال کرتی ہیں ۔اسی قسم کا اشارہ حال ہی میں فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور وزیر داخلہ سمیت کئی حکومتی زعما نے بھی دیا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اول سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے یا دوئم ایسے لوگ جو ریاستی اداروں کو اس میڈیا کی مدد سے متنازعہ بنارہے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کرکے سبق سکھایا جائے ۔

ایک بات ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران طبقات کو سمجھنی ہوگی کہ نوجوان طبقہ میں جو مختلف امور پر ردعمل ہے یہ فطری ہے ۔ کیونکہ ہم جس انداز سے ریاستی اور حکمرانی کے نظام کو چلارہے ہیں وہ نوجوان طبقہ میں نہ صرف مایوسی پیدا کرتا ہے بلکہ ان میں غصہ اور نفرت کو بھی جنم دیتا ہے ۔ بنیادی طور پر تو اگر ریاستی اور حکومتی حکمرانی کا نظام شفافیت کی بنیاد پر عام اور کمزور لوگوں کے مفادات سے جڑا ہوگا تو  لوگوں میں نظام یا ریاست کے بارے میں منفی ردعمل پیدا نہیں ہوگا ۔ جب خود ریاستی ادارے اور حکمران طبقات  مصنوعی نعروں ، جذباتی وعدوں اور مختلف امور میں لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر یا ان کی توقعات میں بہت حد تک جذباتیت پیدا کریں گے تو اس کی ناکامی پر نوجوانوں کیسے اپنی زبان بند کرسکتے ہیں ۔

ایک بات ہمارے ریاستی اداروں اورحکمران طبقا ت کو سمجھنی ہوگی کہ پاکستانی سماج می آزادی اظہار پر قدغن لگانا کوئی آسان کام نہیں ۔ اس سماج میں  سیاسی عناصر، میڈیا اور سول سوسائٹی سے وابستہ لوگوں نے  بڑی جدوجہد کی ہے ۔ اس لیے اسے ایسے معاشرے  کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا جہاں بادشاہت اور آمرانہ نظام کی بنیادوں پر لوگوں کو اظہار سے روکا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض اوقات نوجوانوں سمیت تمام طبقات اظہار آزادی میں حدود و قیود کا خیال نہیں کرتے اوران کی تنقید یا اظہار میں ریاستی ادارے بھی زد میں آجاتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس اظہار کو جو حدود وقیود سے باہر ہو کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جائے یا ان لوگوں کی راہنمائی کی جائے۔ تاکہ تنقید کے دوران فرد یا اداروں کی تضحیک کے پہلو سے گریز کیا جاسکے ۔ اصولی طور پر یہاں تعلیمی اداروں میں اظہار آزادی اور سوشل میڈیا کو باقاعدہ  نصاب کی حیثیت ملنی چاہیے تاکہ لوگ جان سکیں کہ ہمیں کس دائرہ کار میں رہ کر اپنا اظہارکرنا چاہیے۔

اسی طرح نوجوان طبقہ یا دیگر طبقات کو سوشل میڈیا کی اخلاقیات کا درس دینے والے بالادست طبقات کو خود بھی اپنی اداؤں پر غور کرنا ہوگا۔ وہ خود اپنی گفتگومیں حدود وقیود سے تجاوز کرتے ہیں ۔ ہمارے ریاستی اداروں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ نوجوان طبقہ ان کی اصل طاقت ہیں اور ہماری فوج اور نوجوان طبقہ میں آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی خلیج پیدا نہیں ہونی چاہیے ۔ ہمیں نوجوان طبقہ کی راہنمائی میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان طبقہ میں ردعمل سخت ہے اور وہ ہر بات کو برملا ، بغیر کسی جھجک اور حدود قیود کی پروا کیے بغیر کہہ دیتے ہیں ۔ لیکن ان محرکات کو بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ ردعمل نئی نسل میں کیوں کر پیدا ہوا۔ محض نئی نسل کو الزام دے کر مسئلہ کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔

معروف دانشور اورمیڈیا کے اہم استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ  کے بقول ’’اگر کسی کا خیال ہے کہ ہم طاقت کی بنیاد پر سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں کا راستہ روک سکتے ہیں ، یہ ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا بنیادی طور پر ایک متبادل میڈیا ہے ۔ اگر ہم اس میڈیا پر پابندی لگائیں گے تو لوگ متبادل میڈیا کے طور پر اور بہت سی نئی چیزیں استعمال کرسکتے ہیں ۔ اب جدید دنیا میں  سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں ۔ اس لیے جو بھی اس میڈیا کو طاقت کے ذریعے نمٹنا چاہتا ہے اسے اس روش سے گریز کرنا چاہیے ۔ ان کے بقول اول سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت کے نظام پر زیادہ فوقیت دینی چاہیے کہ وہ  سوشل میڈیا میں اپنی بات کیسے پیش کریں ۔ سیاسی جماعتوں کو کارکنوں کی سطح پر خود احتسابی کا نظام لانا ہوگا۔ دوئم ہر طرح کے میڈیا بشمول سوشل میڈیا کو استعمال کرنے میں ’’ خود سے ذمہ داری کا احساس ‘‘ پیدا کرنا چاہیے ۔ سوئم سول سوسائٹی سے وابستہ ادارے نوجوان کی تربیت کے عمل میں شامل ہوکر ایک ذمہ دار میڈیا کی بحث کو آگے بڑھائیں ۔ چہارم میڈیا سے وابستہ تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کو باقاعدہ ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے ۔‘‘

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اعتراف کیا کہ جب تک ہم سماج کے انصاف پر مبنی نظام کی اصلاح نہیں کریں گے نوجوان طبقہ کے ردعمل کو کسی بھی صورت میں نہیں روکا جاسکے گا۔ ان کے بقول نظام میں ایسی خرابیاں موجود ہیں جو نوجوان طبقہ میں ردعمل  پیدا کرتی ہیں۔ میں اس بات کا حامی ہوں کہ سوشل میڈیا کو محض میڈیا کی تعلیم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر  مضمون میں اسے لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے افراد جن کا تعلق کسی بھی عمر سے ہو، ان کو بھی اس بات کا بخوبی احساس کرنا چاہیے کہ ان کی آزادی ریاستی بقا اور تحفظ سے جڑی ہوئی ہے ۔ یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ جس کے دل میں جو آئے وہ بغیر کسی سوچے سمجھے کہہ دیا جائے ۔ اصولی طور پر تو سوشل میڈیا کے بارے میں پوری قوم میں ایک نئی بحث کی ضرورت ہے ۔

یہ بات رکھیں کہ اس وقت دنیا میں آزادی اظہار کی بحث شدت سے موجود ہے ۔ وہ ممالک جہاں اظہار آزادی پر پابندیاں ہیں ان میں بھی شدت سے یہ بحث جاری ہے کہ لوگوں کو اپنی بات کرنے کی آزادی دی جائے ۔ اس لیے اس موقع پر اگر ہم دنیا میں اس تاثر کو اجاگر کریں گے کہ ہم نئی نسل کو اظہار  سے روک رہے ہیں تو اس سے ہر سطح پرمنفی تاثر پیدا ہوگا ۔ اس بات کا بھی ریاستی اداروں کو خیال کرنا چاہیے کہ کوئی ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر نہ چلائے اور یہ تاثر کہ یہ کام مخصوص اداروں کی خوشنودی کے لیے کیا جارہا ہے جو کسی بھی شکل میں اداروں اور نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے۔

حکومت آج کل سوشل میڈیا کے حوالے سےنوجوانوں یا اسے استعمال کرنے والوں کو ہراساں کررہی اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس سے بلاوجہ نوجوان طبقہ میں مزید ردعمل پیدا ہوگا۔ اس سے نہ تو حکومت اور نہ ہی اداروں کی بارے میں کوئی اچھا تاثر قائم ہوگا ۔ کافی عرصہ سے حکومت اپنی حکمرانی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے نالاں ہے ۔  اس پر پابندی کی باتیں بھی کی گئی ہیں۔  لگتا ہے کہ اب اداروں پر ہونے والی تنقید کو بنیاد بنا کر حکومت ایک تیر سے دونشانے کرنا چاہتی ہے جو کسی بھی صورت میں حکومت، اداروں اور ملک کے مفاد میں نہیں ۔  سوشل میڈیا کو حکومت اور ریاست بہتر حکمت عملی  سے اپنے مفاد میں استعمال کرے۔  کیونکہ اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا درست طریقہ نہیں۔