تاریخ فرانس کا کم عمراور تیز ترین صدر
سات مئی 2017 کو فرانس کے باشعور عوام نے ملک کی جمہوری تاریخ کے سب سے کم عمر سیاستدان ایمنیونل مارکن کوانتہائی مختصر سیاسی جو و جہد کے نتیجے میں اپنا صدر منتخب کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انتالیس سالہ صدر اکیس دسمبر سن ستتر کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ننتئر یونیورسٹی پیرس سے فلسفہ میں ڈگری لی اور پبلک افئیرس میں ایم اے کیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز انسپکٹر جنرل فنانس کی حیثیت سے کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ ایک انویسٹمنٹ بنکر بن گئے۔
2012 کو انہیں فرانسواس ہولاندے کی پہلی حکومت میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنایا گیا جبکہ 2014 میں دوسری حکومت میں انہیں فنانس اور انڈسٹری کی وزارت دی گئی۔ 2006 سے 2009 تک وہ سوشلسٹ پارٹی کے رکن رہے۔ اپریل 2016 کو ایمینیول مارکن نے اینمارشے موومنٹ کے نام سے ایک تحریک کا اعلان کر کے اس کے پلیٹ فارم سے صدارتی الیکشن کا فیصلہ کیا۔ سیاسی پنڈتوں کو اس پر حیرت ہوئی کہ ایک نومولود پارٹی کا ایک نوجوان فرانس جیسے بڑے جمہوری ملک کا صدارتی الیکشن جیتنے کا کیسے سوچ سکتا ہے۔ لیکن عوام کے ساتھ گہرے روابط رکھنے والے اس نوجوان کو اپنے آپ اور عوام پر پورا بھروسہ تھا۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ مارکن قومی سطح پر متعارف تو ہو جائے گا لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ صدارتی مہم کے دوران متعدد تجربہ کار سیاستدان میدان میں اترے لیکن قواعد کے مطابق آخرمیں سیاسی اکھاڑے میں صرف دو امیدوار رہ گئے، جن میں ایک قوم پرست میر ی لی پین اور دوسرے ایمینیول مارکن تھے۔
فرانسیسی عوام نے اب دونوں صدارتی امیدواروں کا سیاسی ایجنڈا دیکھنا تھا ۔ فرانسیسی انقلاب کے فرانس کی سیاست پر اثرات اتنے گہرے ہیں کہ وہاں ہر فرد اپنی سوچ و فکر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ کسی پر خاندانی یا اداروں کا دباؤ نہیں ہوتا۔ وہ براہ راست امیدواروں کے سیاسی و معاشی پروگرام کو سننے کے بعد اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ میری لی پین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح نسلی کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے خلاف اور برطانیہ کی طرح یورپی یونین سے انخلا کا نعرہ لگایا۔ اس نے مارکن کو ناتجربہ کار قرار دیتے ہوئے ذاتی لزامات لگائے۔ لیکن مارکن ہر مرحلہ پر اپنے سیاسی و اقتصادی پالیسیوں پر بڑے تحمل مزاج اور مدبر سیاستدان کی حیثیت سے اظہار کرتے رہے۔ مارکن نے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پورا تحفظ دینے کا اعلان کیا اور فرانس کو یورپی یونین سے نکالنے کی مخالفت کی۔
فرانس کے حالیہ الیکشن میں سب سے خوبصورت کردار فرانسیسی عوام کا ہے جو کسی منفی پروپگنڈے کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے شاید اس بات کو بھی نوٹ کیا ہوگا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے الیکشن مہم کے دوران تو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا لیکن اسی ٹرمپ نے بعد میں وائٹ ہاؤس میں مسلمانوں کو مدعو کیا اور اب او آئی سی جسے یوں تو امریکہ ایک مردہ گھوڑا قرار دیتا تھا، اسے اپنے مفادات کی خاطر استعمال کرنے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔ ریاض سعودی عرب میں امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت میں او آئی سی کے اجلاس میں ایک اسلامی اتحاد کا اعلان کیا گیا جہاں بہت سارے او آئی سی کے اراکین کو بولنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ کیونکہ اظہار خیال اور رائے تو آزاد لوگ دیا کرتے ہیں غلاموں کا کام صرف سننا اور حکم کی تعمیل کرنا ہوتا ہے۔ مسلمان لیڈروں کی سیاسی نظر اتنی کمزور ہے کہ وہ یہ بھی نہیں دیکھ اور اندازہ کر سکتے کہ اگلے لمحے کیا ہونا والا ہے۔ اسی وجہ سے جب ٹرمپ صاحب نے وہائٹ ہاؤس میں مسلمانوں کو مدعو کیا اور ایک پاکستانی مسلمان کو اپنے دورہ پر اپنے ساتھ رکھا تو سادہ لوح پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر امریکہ کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہی پڑی۔ مگر اس وقت اس اہمیت کا بھانڈا پھوٹ گیا جب پاکستانی وزیر اعظم کو ریاض میں ٹرمپ کی قیادت میں قائم ہونے والے اسلامی اتحاد کے قیام کے وقت اظہار خیال کا موقع نہ دیا گیا۔ وہائٹ ہاؤس میں مسلمانوں کو دعوت دینے کا اصل مقصد ریاض میں قائم ہونے والے اسلامی اتحاد کے لیے ایک پیش بندی تھی۔
امریکی الیکشن ، وائٹ ہاؤس میں دعوت اور آخر میں ریاض میں ٹرمپ کی قیادت میں قائم ہونے والے اسلامی اتحاد سے ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ اکثر مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو بڑی طاقتوں کے ایجنڈوں کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔ انہیں اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان سے ایجنڈے پر عمل کروانے کا آغاز کیا جاتا ہے اور وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے۔ مسلمان ملکوں سے تو فرانس اور جرمنی بہتر ہیں جو وقتا فوقتا مسلمان ملکوں کے اندر امریکی اور روسی مداخلت کو امن کے لیے خطرہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ اور کبھی بھی آنکھیں بند کرکے غیر ملکی ایجنڈوں کو قبول نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور سوویت یونین کے ٹکراؤ یا دائیں بائیں کی سیاست نے جموں کشمیر، فلسطین اور دوسری چھوٹی قوموں کے مسائل کو دبا دیا تھا اسی طرح اب جموں کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل چین کی قیادت میں ون بیلٹ ون روڈ اور امریکہ کی قیادت میں اسلامی اتحاد کے ٹکراؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بڑی طاقتیں جب آپس میں ٹکرائیں تو چھوٹی قوموں کے لیے خیر کا کوئی پہلو نکل آئے۔ بالکل اس طرح جس طرح پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سامراجی قوتیں پاش پاش ہوئیں اور ہندوستان، پاکستان سمیت کئی ممالک آزاد ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ممالک اب بھی سیاسی ریموٹ کنٹرول کے زریعے چلائے جا رہے ہیں۔
جہاں تک فرانس کے انقلاب اور موجودہ صدارتی الیکشن کی بات ہے اس میں جموں کشمیر اور فلسطین کی تحریکوں کے لیے بھی سبق موجود ہے۔ دوسروں سے حمایت حاصل کرنا بری بات نہیں لیکن اس حمایت کے بدلے اپنے قومی مقاصد سے ہٹ جانا بہت بڑی حماقت ہے۔ فرانسیسی انقلاب سمیت کسی بھی عوامی انقلاب نے کسی ملک سے حمایت کے بدلے اسے اپنے اندر آنے کی دعوت نہیں دی اور نہ ہی فرانسیسی انقلاب نے موروثیت کو پروان چڑھنے دیا ۔ حقیقت میں ہمارا چار ہزار مربع میل علاقہ آزاد نہیں بلکہ جموں کشمیر تقسیم ہوا۔ لیکن جو لوگ آزاد کشمیر کے قیام کے بعد حکمران بنے انہوں نے یہاں صرف اپنی اولادوں کو پالا جبکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی موجود ہ تحریک کو ہائی جیک کرکے اسے موروثی تحریک بنا دیا گیا۔
فرانسیسی انقلاب اگر صرف چہروں کی تبدیلی تک محدود رہتا تو آج اتنے بڑے ملک میں مارکن جیسے نوجوان کو صدر بننے کا موقع نہ ملتا بلکہ یہاں بھی ہمارے حکمرانوں کی طرح ایسے لوگ ملتے جنہیں کارکن پکڑ کر واش روم میں لے جاتے ہیں۔ اور کوئی سیاسی کارکن کبھی وزیر یا صدر بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ اس کا کام صرف موروثی سیاستدانوں کی خدمت ہے۔