احترام رمضان آرڈیننس ، ایک پہلو یہ بھی
آج صبح بیٹی کو سکول چھوڑنے گیا تو رمضان میں چھوٹے بچوں کو امتحانات کی غرض سے شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں سکول آتا دیکھ کر ان کی ہمت اور حوصلے پر رشک آیا۔ سکول کے گیٹ پر کھڑے چوکیدار سے پوچھا کہ کیا بچوں کی کینٹن کھلی ہے اس نے نفی میں جواب دیا۔ ارادہ تھا کہ بیٹی کو جوس لے دوں۔ خیر دفتر پہنچنے کی جلدی میں سکول سے نکل کر یونی ورسٹی پہنچا۔
سمسٹر کا اختتام ہورہا ہے اس لئے امتحانات ہو رہے ہیں۔ طالب علم امتحانات دینے میں مصروف ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور گرمی نے طالب علموں ہی کیا ہر خاص و عام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ اکثر طلبہ کا روزہ نہیں تھا لیکن یونیورسٹی کی کینٹن بھی احترام رمضان کے پیش نظر بند ہے۔ جنرل ضیاء کے دور میں جب احترام رمضان آرڈیننس نافذ کیا گیا تو اس بات کو دھیانمیں ہی نہیں رکھا گیا کہ بیمار اور کسی مجبوری سے روزہ نہ رکھنے والے لوگوں کا کیسے خیال رکھا جائے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اپنی کتاب دختر مشرق میں کراچی یونیورسٹی کی طالبات کا ذکر کرتی ہیں کہ کیسے جنرل ضیاء کے دور میں وہ پیاس لگنے پر غسل خانے کا پانی پینے پر مجبور ہوتی تھیں۔ میرے نزدیک احترام رمضان سے مراد روزہ داروں کو تنگ نہ کرنا اور ان کے روبرو کھانے پینے سے پرہیز کرنا ہے۔ لیکن جو لوگ کسی عذریا مجبوری کی بنا پر روزہ رکھنے سے قاصر ہیں انہیں اسلام نے تو چھوٹ دی ہوئی ہے لیکن مسلمان اور ان کی حکومت چھوٹ دینے کو تیار نہیں۔