عام آدمی اور بجٹ کی سیاست

پاکستان کی سیاست کا المیہ طبقاتی سیاست ہے ۔ یہ سیاست ہر ریاستی شہری چاہے وہ طاقت ور ہو یا کمزور اسے ایک نظر سے دیکھنے کی بجائے اس کو اس کی سیاسی ، سماجی اور معاشی حیثیت کے طو رپر دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے ۔ ہماری سیاست کے ماضی کے اوراق دیکھیں تو اس میں دائیں اور بائیں نظریات یا فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ طبقاتی تقسیم کو بنیاد بنا کر سیاست کرتے تھے ۔ بالخصوص بائیں بازو کی سیاست اسی طبقاتی سیاست کے نقطہ کے گرد گھومتی تھی ۔ لیکن آج پاکستان کی سیاست کا جائزہ لیں تو اس میں طبقاتی سیاست کے مسائل پس پشت چلے گئے ہیں ۔ حکمرانی کا نظام ایک مخصوص طبقہ کے گرد گھومتا ہے اور اسی نظام کو طاقت بھی حاصل ہے ۔ اس کے مقابلے میں کمزور طبقات کا ہر سطح پر ریاستی ، حکومتی ، ادارہ جاتی اور دیگر فریقین کی سطح پر بری طرح استحصال کرکے باور کروایا جاتا ہے کہ ان کی حیثیت برابری سے زیادہ کمزور فرد کی ہے ۔

ایک اچھی جمہوری ، منصفانہ اور شفافیت پر مبنی حکمرانی کا براہ راست تعلق عام اور کمزور افراد کے مفادات سے ہوتا ہے ۔ خوشحال طبقہ کے مقابلے میں حکومتیں کمزور طبقات کو ترجیحاتی بنیادوں پر ان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرتی ہیں۔  لیکن یہاں جو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا تصور ہے وہ عام آدمی کے مفادات سے براہ راست ٹکراؤ پیدا کرتا ہے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ عام اور کمزور آدمی کا استحصال  فرد واحد نہیں بلکہ ریاستی وحکومتی پالیسیوں کے ذریعے ہوتا ہے۔  یہ عمل ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی تعلق کو کمزورکرتا ہے ۔ اگرچہ ہماری جمہوری سیاست میں عام آدمی کی بات بڑی شدت سے کی جاتی ہے اور ساری سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت بظاہر یہی نقشہ پیش کرتی ہیں کہ عام آدمی ان کی بنیادی ترجیحات کا حصہ ہے ۔

مگر ہماری سیاست میں سیاسی جماعتوں ، سیاسی قیادت اور حکمرانی کے نظام کے  تضادات  معاشرے کے مختلف طبقات کو  یکجا کرنے کی بجائے ان میں تقسیم پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ ہربرس حکومتوں کی سطح پر ایک بجٹ پیش کیا جاتا ہے ۔ بجٹ سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اس طرح حکومتوں کی ترقیاتی منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم اور ترجیحات کے تعین سامنے آئے گا۔ اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ حکومتیں کس حد تک اپنی حکمرانی میں شفافیت کا نظام قائم کرتی ہیں ۔ اس بجٹ سے  یہ بھی مراد لی جاتی ہے کہ  حکومت کی اپنی ترجیحات میں کون سے سا طبقہ اہمیت رکھتا ہے ۔ بجٹ کے بارے میں معاشی امور سے تعلق رکھنے والے سیاسی ماہرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ عمومی طور پر حکومتیں مالدار سے  ٹیکس لے کر عام اور کمزور آدمی کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

لیکن ہماری بجٹ سیاست بھی ریاست اور شہری کے درمیان بداعتمادی کی واضح خلیج پیدا کرتی ہے ۔ ایک زمانے میں لوگوں کو بجٹ سے بہت زیادہ توقعات ہوتی تھیں لیکن اب ان کو اندازہ ہوگیا ہے کہ بجٹ کا گورکھ دھندہ یا اعدادوشمار پر مبنی مداری پن کا کھیل کا عام آدمی کی زندگی میں بہتری سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایک زمانے میں سالانہ بجٹ پیش ہوتے تھے، اب نئی سیاست میں سالانہ بجٹ کے ساتھ ساتھ منی بجٹ کا کھیل بھی شروع ہوگیا ہے ۔ یعنی عام اور کمزور فرد کو قسطوں میں موت یا تکالیف دی جاتی ہیں ۔ عام آدمی کے لیے اب حکومتو ں کے پاس صرف خیرات پر مبنی ترقیاتی نظام ہے ۔ اس نظام کے تحت عام اور کمزور آدمی کو اس کا حق سمجھنے کی بجائے اس پر ترس یا احسان کرکے خیرات دی جاتی ہے ۔ اس سے بھی زیادہ سنگین مذاق یہ ہے کہ جو خیرات یا چیرٹی پر مبنی خدمات پیش کی جاتی ہیں تو اس کی بنیاد عام آدمی کی خدمت سے زیادہ حکومتوں اور بڑی سیاسی قیادتوں کی تشہیری مہم  ہوتی ہے ۔

ہم نے ہر خیراتی عمل میں وزیر اعظم ، وزیر اعلی ، وفاقی و صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کی تصویروں پر مبنی اشتہاری مہم کو سہارا بنایا ہے۔  اس سے غریب کی خدمت کم اور اس کی تضحیک کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے ۔ ریاستی وحکومتی پیسوں سے سیاسی قیادت کی تشہر پر مبنی یہ مہم نہ تو سیاسی جواز رکھتی اور نہ ہی اخلاقی ۔ بلکہ اس عمل کو مکمل طور پر غیر قانونی بھی کہا جانا چاہیے۔ کیونکہ اس میں عام آدمی کا پیسہ حکمرانوں کی تشہیر میں استمعال ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کو بجٹ کے حوالے سے جن لوگوں پر ٹیکس لگانا ہوتا ہے ان کو سیاسی مفادات کے تحت سیاسی ریلیف د ے کر عام اورکمزور آدمی پر بے تحاشہ ٹیکس لگا کر ریاستی و حکومتی نظام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔  یہ عمل عام اورکمزور فرد میں بلاوجہ حکمرانی کے نظام کے خلاف ردعمل  کو جنم دیتا ہے ۔

اس حکمرانی کے نظا م کی اصل خرابی حکمران طبقہ کی ترجیحات کا تعین  ہے ۔ عام آدمی اور حکمران طبقات کے مسائل میں نہ تو کوئی میل  ہے اور نہ ہی بالادست طبقہ عام آدمی کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کی ایک سادہ سی وجہ ہے۔ جب یہاں حکمران اور اشرافیہ  طبقات کا انحصار سرکاری سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں ، ہسپتالوں ، کھیلوں کے میدان ، فیکٹریوں سمیت تفریح کے مواقع پر نہیں ہوگا تو ان کا سماج سے تعلق بھی کیسے جوڑا جاسکتا ہے ۔ یہاں کا حکمران اوربالادست چاہے وہ سیاست میں ہیں یا کسی اور شعبے میں ایک ایسی زندگی گزارتا ہے جو عام آدمی کی طرح نہیں تو طبقاتی  فرق تع جنم لے گا۔

آج بھی ہم تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات پر جو وسائل خرچ کررہے ہیں وہ بطور ریاست ہمارے لیے باعث شرم ہے ۔ اس کے مقابلے میں ہم سمجھتے ہیں کہ انسانوں پر وسائل خرچ کرنے کی بجائے انتظامی ڈھانچہ پر پیسہ لگایا جائے یا نمود نمائش پر ۔ ہم بطور ریاست جتنی بھی نمود نمائش کرلیں لیکن اگر عام آدمی یا عورت ہی معاشرے میں طاقت ور نہیں ہوں گے تو وہ ریاستی وحکومتی سہولیات کا کیا کریں گے ۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی ترقی میں پہلی  ترجیح انسان ہے۔ اگر انسان کو کمزور کرکے یا اس کا استحصال کرکے ترقی کے ماڈل کو آگے بڑھانا ہے تو وہ معاشرے میں انتشار اور بے چینی کی کیفیت پیدا کرے گی۔ المیہ یہ ہے کہ محض حکمران طبقات ہی نہیں بلکہ معاشرے کے وہ تمام طبقات جو وسائل رکھتے ہیں یا جو ان پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں سب نے اس نظام میں ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ عام آدمی کے وسائل پر قبضہ کرنا اور ان کا استحصال کرکے خود کو طاقت ور بناتا ہے۔ اس نظام میں حکمرانوں نے تبدیلی کی صلاحیت رکھنے والے  طبقات کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ نظام جو عام آدمی کے خلاف ہے اس کو کیسے تبدیل کیا جائے ۔ اصولی طور پر تو یہ نظام سیاسی اور جمہوری بنیادوں پر سیاسی جماعتوں ، ان کی قیادت اور کارکنوں نے بہتر بنانا ہے ۔ لیکن  سیاسی جماعتیں  ذاتی اور خاندانی مفادات پر مبنی گروہ  ہیں۔ اس لئے یہ لڑائی مشکل نظر آتی ہے ۔ اس نظام پر عملی طور پر ایسی قوتوں کا قبضہ ہے جو ریاستی و حکومتی ، ادارہ جاتی اور قانون کی طاقت سے اپنے ذاتی مفادات کو تقویت دیتی ہیں ۔ اس لیے یہاں ایک بڑی سیاسی اور سماجی تحریک کی ضرورت ہے ۔ یہ تحریک بنیادی طور پر حکمرانی کے نظام میں اصلاحات کی صورت میں دباؤ ڈالے اور جس انداز سے یہ سیاسی نظام یرغمال ہے اس کو ہر صورت اس طاقت ور طبقہ سے آزاد کرایا جائے جو عام آدمی کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے۔

عام آدمی کو سمجھنا ہوگا کہ یہ نظام ان کے نام پر مخصوص خاندانوں کی سیاسی اور معاشی اجارہ داری پر استوار ہے۔  اس کی حمایت کی بجائے اس کی مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس عمل میں سیاسی اور سماجی کارکنوں کو خود  کو منظم کرکے سیاسی جماعتوں اور قیادت کے لیے محض زندہ باد اور مردہ باد کی سیاست تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔  بلکہ اپنی قیادت پر بھی دباؤ بڑھانا ہوگا کہ ہمیں  مصنوعی سیاست کا کھیل قبول نہیں ۔