ایک دن اوول کرکٹ گراؤنڈ میں

27 مئی کے رات گیارہ بجے سنجے گپتا جی کا فون آیا کہ ’ کل انڈیا اور نیوزی لینڈ کا وارم اپ میچ ہے ۔کیا آپ میرے ساتھ چلے گے‘ ۔ میں نے بھی بلا جھجھک سنجے بھائی کو اپنی رضامندی دے دی اور اتوار کی صبح دس بجے لندن کے مشہور اور تاریخی (Oval) اوول گراؤنڈ پہنچنے کا وعدہ کر لیا۔

صبح سحری کھانے کے لئے اُٹھا تو ذہن میں خیال آیا  میں نے کیوں کرکٹ میچ دیکھنے کی حامی بھری۔ ایک تو رمضان کا مہینہ اور دوسرے لندن میں سورج کا سر پر آنا جس سے پیاس کی شدّت محسوس ہورہی تھی۔ لیکن پھر ہم نے اللہ سے معافی مانگی کہ اے اللہ تو رحیم ہے اور کریم ہے تو میرے لئے روزے کی حالت میں میری آسانیاں فراہم کرنا۔  اتوار کی صبح آٹھ بجے آنکھ کھلی جلدی جلدی تیار ہوا۔ گھر سے نکل کر کچھ دیر چلنے کے بعد 163نمبربس پر سوار ہوا جو (Wimbledon) ویمبلڈن جارہی تھی۔ لندن ٹرانسپورٹ میں کافی سہولت ہے جس کی وجہ سے ٹکٹ وغیرہ خریدنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اپنے بینک کارڈ کے ذریعہ جس میں (contact less) کی سہولت ہے اسے مشین سے لگا کرکرایہ ادا کیا۔ دس منٹ کے سفر کے بعد رینس پارک
(Raynes Park) بس اسٹاپ پر اتر گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی برٹش ریل کے اسٹیشن رینس پارک کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر ٹرین کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ رینس پارک پر بھی لندن ٹرانسپورٹ کی سہولت کی وجہ سے ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں پڑی اور یہاں بھی ہم نے اپنے بینک کارڈ کو مشین سے لگا کر اپنا کرایہ ادا کردیا۔

کچھ ہی لمحوں میں ٹرین  آن و شان سے اسٹیشن پر پہنچی اور ہم ایک ڈبّے پر سوار ہوگئے۔ ٹرین کے سفر کے دوران ویمبلڈن ، ارلس فیلڈ، کلافم جنکشن اور پھر اپنی منزل (Vauxhall) واکسول پہنچے۔ واکسول پہنچتے ہی (ICC) آئی سی سی ٹورنامنٹ کے رضا کاروں سے ملاقات ہوئی جو کرکٹ میچ دیکھنے جانے والوں کو اطلاعات فراہم کر رہے تھے۔ میں جیسے ہی اسٹیشن سے باہر نکلا ہندوستانی لوگوں کا ہجوم دیکھا اور فوراً سمجھ گیا کہ یہ سارے لوگ انڈیا اور نیوزی لینڈ کا میچ دیکھنے کے لئے ہی اوول جارہے ہیں۔ میں نے ایک رضا کار (Peter May) پیٹر مے سے گیٹ کی تفصیل معلوم کرکے ہندوستانی ہجوم کے ہمراہ چل پڑا۔ سارے راستے لوگ ہندوستانی جھنڈے تھامے ہوئے تھے اور بہتوں نے ہندوستانی ٹیم کی ٹی شرٹ بھی پہن رکھی تھی۔ میں بھی ہندوستانی قافلے کے ساتھ اوول کرکٹ گراؤنڈ کی طرف تیزی سے قدم بڑھانے لگا۔

جیسے ہی پیٹر مے گیٹ پہنچا سنجے بھائے نے دونوں ہاتھوں سے مجھے دبوچ کر گلے لگا لیا۔ پھر سنجے بھائی کی رہنمائی میں ہم سخت سیکوریٹی چیک کے بعد اول اسٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ ہندوستانی شیدائیوں میں ہر عمر کے لوگ تھے۔ جس سے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ہندوستانیوں میں کرکٹ کس قدر مقبول ہے۔ میں نے چھ ماہ کے بچّے سے لے کر اسّی سال کے ضعیف کو اسٹیڈیم میں دیکھا جو کہ میرے لئے حیرانی کی بات تھی۔

آئیے (Oval) اوول گراؤنڈ کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ اوول کرکٹ گراؤنڈ انگلینڈ کا ایک عالمی کرکٹ گراؤنڈ ہے جو کہ کیننگٹم (Kennington) میں واقع ہے۔ یہ سرے کاؤنٹی کرکٹ کا ہوم گراؤنڈ بھی ہے۔ 2009میں اوول کرکٹ گراؤنڈ میں پہلی بار 1633.7 میلین پاؤنڈ کی لاگت سے فلڈ لائٹ کا اہتمام کیا گیا۔ اوول کرکٹ گراؤنڈ کو 2016میں شائقین کے بیٹھنے کی جگہ کو بڑھا کر 26,000کر دی گئی ہے۔ اوول کرکٹ گراؤنڈ میں 1845سے کرکٹ کھیلی جارہی ہے جبکہ ستمبر 1880میں یہاں انگلینڈ کا سب سے پہلا ٹیسٹ میچ ہو اتھا۔ 1868 میں بیس ہزار لوگ اوول کرکٹ گراؤنڈ میں پہلی بار (Aboriginal) ابوریجنل اورانگلینڈ کے عالمی میچ دیکھنے پہنچے تھے۔ 1907میں ساؤتھ افریقہ دوسری ایسی ٹیم تھی جس نے اوول میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ 1928میں ویسٹ انڈیز ،1931میں نیوزی لینڈ ، 1936میں انڈیا، 1954 میں پاکستان اور 1998میں سری لنکا نے اوول میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔

اس کے علاوہ اوول اور بھی کئی تاریخی گیم کی میزبانی کے لئے مشہور ہے۔ 1870میں میں انگلینڈ نے سب سے پہلا انٹرنیشنل فٹبال میچ اسکاٹ لینڈ کے خلاف اوول میں کھیلا تھا۔ 1872میں پہلا (FA Cup final)ایف اے کپ فائنل اوول میں کھیلا گیا تھا۔ میچ کے دوران ہندوستانی شیدائیوں نے اپنے انوکھے انداز سے اوول کی رونق کو بڑھا رکھا تھا۔ کئی لوگ ڈھول بجا کر لوگوں کو نچا رہے تھے تو کئی لوگ اپنے مخصوص انداز سے انڈیا ٹیم کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ اسٹیڈیم کے احاطے میں چاروں طرف کھانے پینے کا عمدہ انتظام تھا اور میچ کے دوران لوگوں کو ہر اسٹال پر کھاتے پیتے دیکھا گیا۔

سنجے بھائی اور اوم پرکاش اپنے مخصوص انداز میں ہندوستانی ٹیم کی دل کھول کر حمایت کر رہے تھے اور گاہے بگاہے چائے کی چُسکی بھی لے رہے تھے۔ یوں تو سارے وقت میں نے ہندوستانی ٹیم کی حمایت کی لیکن مجھے نیوزی لینڈ کی ٹیم پر افسوس بھی ہو رہا تھا کیونکہ ان کے شائقین کا دور دور تک پتہ نہ تھا اور ہندوستانی ٹیم کی جارحانہ باؤلنگ کے سامنے وہ ڈھیر ہوگئے تھے۔ ہندوستانی شیدائی اُس وقت پاگل ہو کر ہنگامہ کر نے لگے جب دھونی بیٹنگ کرنے کے لئے میدان میں آئے۔ پورا اسٹیڈیم دھونی دھونی کے نعروں سے گونجنے لگا۔ اور شاید اس کا فائدہ اُٹھا کر دھونی نے ایک چھکّا بھی لگا دیا۔ ابھی لوگ دھونی کی بیٹنگ کا لطف اُٹھا ہی رہے تھے کہ بارش نے کھیل کو روکنے پر مجبور کر دیا۔

آخر میں ہم سنجے بھائی اور اوم پرکاش سے ایک بار پھر ملنے کا وعدہ کرکے  ا پنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ بارش مزید تیز ہو چکی تھی اور ہندوستانی شیدائی اپنے اپنے گھروں کی طرف ایک امید کے ساتھ لوٹنے لگے۔ اس امید کہ ساتھ کہ یکم جون سے انگلینڈ میں ہونے والے آئی سی سی چمپئین ٹرافی ایک بار پھر انڈیا جیتے گا۔