پھر وہی شناسا بجٹ

  • تحریر
  • منگل 30 / مئ / 2017
  • 4181

گزشتہ چند دِہائیوں میں بہت کچھ بدل گیا۔ ریڈیو کی جگہ ٹی وی نے لے لی۔ سوشل میڈیا نے اب ٹی وی میڈیا پر بھی سبقت لے لی۔ معلومات کی فراہمی میں ایک انقلاب آ گیا ہے۔ ہم نے ہوش سنبھالا اور بجٹ تقریر سننے کے لائق ہوئے تو اسحاق خان کو وزیرِ خزانہ پایا۔ بجٹ کے اعلان سے قبل مارکیٹوں میں ایک سراسیمگی پھیل جاتی، کئی اشیاء مارکیٹ سے غائب ہو جاتیں۔ جن اشیاء پر ہر سال ٹیکس یا ڈیوٹیاں بڑھتیں ان میں سگریٹ، مشروبات، صابن، پان چھالیہ وغیرہ ضرورشامل ہوتے۔ اس زمانے میں ہمیں بجٹ کے اعداو شمار کی شدھ بدھ واجبی سے بھی قدرے کم ہی تھی لیکن نئے نئے کاروباری دنیا میں بذریعہ ملازمت وابستہ ہوئے تو بجٹ تقریر کو فرائضِ ملازمت سمجھ کر سنا کرتے۔ ٹی وی تک ہماری رسائی چند سال بعد میں ہوئی، اس لئے زیادہ تر بجٹ تقاریر ریڈیو پر ہی سنیں۔

دیگر بجٹ تفاصیل تو یاد نہیں ، البتہ ایک بات یاد ہے۔ وزیرِ موصوف ِ محصولات وصولیوں اور اخراجات کا میزانیہ پیش کرنے کے بعد ارشاد کرتے کہ محصولات اور اخراجات کے فرق کا اتنا حصہ بیرونی امداد سے پورا کیا جائے گا۔ ہم سادہ لوح ان بیرونی مسیحاؤں کی دل ہی دل میں تعریف کرتے جو کئی سمندر پار بیٹھے ہونے کے باوجود ہمارے بجٹ خسارے کو اپنی جیبِ خاص سے پورا کر دیتے تھے۔ یہ بھید تو بہت بعد میں کھلا کہ یہ بیرونی امداد جب قومی بہی کھاتے میں درج ہوتی ہے تو اس کا نام بیرونی قرضے لکھا اور پڑھا جاتا۔ بھلا زمانہ تھا عوام کے دل و دماغ کو خواہ مخواہ کی کوفت سے بچانے کے لیے چارہ گروں نے اس کڑوی دوا کا اس قدر انسان دوست نام رکھ چھوڑا کہ اہم ایسے پورا بجٹ سننے کے بعد ایک عجیب سے احساسِ تشکّر کے ساتھ ریڈیو سے جدا ہوتے۔

اب زمانہ بدل گیا ہے۔ میڈیا آزاد بھی ہے اور بے باک بھی۔ آج کی خبر تو دیتا ہی ہے ، بلکہ اگلے روز کی خبر بھی اپنے خصوصی ذرائع کے ذریعے آج ہی دے دیتا ہے۔ ایک زمانہ تھا بجٹ تفصیلات بجٹ تقریر سے قبل ایک ریاستی راز کی طرح سنبھالی جاتی تھیں لیکن اب میڈیا سے زیادہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ذرائع کو جلدی ہوتی ہے کہ وقت سے پہلے ہی تفصیلات کا بیشتر حصہ آشکار کر دیا جائے۔ تاکہ اچھی بری خبر کے لیے عوام اور ناقدین پہلے ہی تیا ر ہو جائیں۔ نفسیاتی حربے کے طور پر یہ طریقہ حکومت کے لئے کامیاب رہا ہے لیکن تفصیلات کا حرف حرف پہلے ہی معلوم ہونے کی وجہ سے بجٹ تقریر سننے کا وہ لطف نہیں رہا۔ اب تو مشتری صرف اسی بات پر ہوشیار باش رہتا ہے کہ پہلے سے طشت از بام کی جانے والی تفصیلات میں کسی زیر زبر کی تحریف دانستہ یا نادانستہ تو نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ دوسری دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ وزیرخزانہ کو بجٹ تقریر کے دوران کس قدر ہنگامہ آرائی کا سامنا کر نا پڑا۔ اپوزیشن کے کس کس رکن نے بجٹ دستاویز کو پڑھنے سے زیادہ پھاڑنے میں سرگرمی دِکھائی۔ کِن کِن پارٹیوں نے واک آؤٹ کیا اور سرکاری بنچ ارکان سے کتنی بار پِٹے جسے عرف عام میں ڈیسک بجانا بھی کہا جاتا ہے۔

تَب اور اَب کے زمانے میں اور بہت کچھ بدلا لیکن بجٹ کے خد و خال نہیں بدلے۔ بجٹ کا میزان آج بھی خسارے میں ہے۔ اس بار یہ خسارہ جی ڈی پی کا 4.1 % رہا۔ سالہا سال کے خسارے نے دھیرے دھیرے اب بجٹ اخراجات کی سب سے بڑی مد پر مستقل قبضہ کر لیا ہے یعنی قرضوں اور سود کی ادائیگی۔ اس کے بعد باری آتی ہے حکومتی ، ترقیاتی اور دفاعی اخراجات کی۔  خوشگوار باتوں میں دس سال کے بعد پہلی بار پانچ فی صد سے زائد شرح نمو کا حصول تھا یعنی 5.3 % گزشتہ سال کے حکومتی شرح نمو کے دعوے پر کئی ماہرین میدان میں اتر آئے اور حکومتی اعدادوشمار کو چیلنج کیا۔ لیکن اس بار ان ماہرین کی جانب سے خاموشی رہی جِسے ان کی نیم رضامندی ہی سمجھنا چاہئے۔ اللہ کرے اسی طرح شرح افزائش کے اسباب بنے رہیں۔ وزیر خزانہ نے اسی بل بوتے پر اپنے اس دعوے کو دوہرایا کہ 2030 تک پاکستان دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔

اس شرح نمو کو برقرار رکھنے کے لئے چند اشاریے بہت اہم ہیں جن میں بہتری نہ ہوسکنے کی صورت میں یہ خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔ ان میں ایک اشاریہ  ہے قومی بچت کا۔ ختم ہونے والے سال 2017 میں یہ شرح 13.1 % رہی جو گذشتہ سال کی شرح 14.3% سے کم تھی۔ واضح رہے کہ بھارت میں قومی بچت کی شرح 26 % ہے۔ اسی طرح ایک اور اہم اشاریہ ہے جی ڈی پی اور سرمایہ کاری کے تناسب کا۔ دس سال میں پہلی بار پانچ فی صد شرح نمو حاصل ہونے ے باوجود یہ شرح فقط 15.78 % رہی جو تقریباٌ گزشتہ سال کے برابر تھی۔ چند سالوں سے بیرونی سرمایہ کاری کا بہت شہرہ رہا ہے لیکن اعدادو شمار میں دیکھیں تو ختم ہونے والے سال میں بیرونی سرمایہ کاری بمشکل دو ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہو پائی ، جو اس سے گزشتہ سال کی نسبت یقیناًزیادہ تھی لیکن معقول شرح نمو برقرار رکھنے کے لئے بہت ناکافی۔ بھارت نے گزشتہ سال 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی جو دنیا میں بلند ترین حجم رہا جس کے بعد چین کا نمبر آیا۔ برآمدات بدستور کمی اور درآمدات اضافے کی جانب رواں رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس بار تجارتی خسارہ کل برآمدات سے بھی زائد متوقع ہے۔ بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سات ارب ڈالر کے الگ بھگ متوقع ہے۔

حکومت کے محاصل کی تفصیل دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں پر دارومدار بدستور قائم ہے۔ ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھانے کے تمام دعوے اور کوششیں ابھی تک بارآور ثابت نہیں ہو سکے۔ بیس ارب کروڑ کی آبادی میں ٹیکس گزاروں کی تعداد بمشکل گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ایک بار پھر یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ حکومت کے پاس دس لاکھ سے زائد ایسے لوگوں کی تفصیل مرتب کر لی گئی ہے جو پر تعیّش زندگی گزار رہے ہیں لیکن قومی خزانے میں اپنا حصہ نہیں ادا کرتے۔ دیکھئے اس تفصیل کی زنبیل سے کیا برآمد ہوتا ہے کہ ماضی میں ایسی تفاصیل کا شہرہ تو خوب رہا لیکن حاصل وصول کچھ بھی نہ ہوا۔ ٹیکس گزاری کے لئے حکومت کی  کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو حکومت نے گزشتہ سال کی طرح نان ٹیکس فائلرز کے لئے ٹیکس فائلر کی نسبت کاروباری لاگت بڑھانے کا دائرہء کار اس سال مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس عمل سے حکومت کو یقیناً کچھ محصولات ملیں گے لیکن بلیک اکونومی کو دستاویز ی معمول میں لانے میں شاید زیادہ کامیابی نہ ہو کیونکہ بلیک اکونومی کے منافع میں سے کچھ حصہ دے کر ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا ایسے لوگوں کے لئے مہنگا سودا نہیں۔

تَب اور اَب کے زمانے میں ایک او ر قدر مشترک ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات یعنی Inequality ۔ پرویز مشرف دور اور حالیہ دور میں بھی معاشی ترقی کا خوب شہرہ رہا لیکن ترقی کے ثمرات نچلے طبقہ تک نہیں پہنچے۔ ایک معروف معیشت دان کا اس ترقی پر یہ تبصرہ بہت حقیقی ہے کہ نری اعدادوشمار کی ترقی ہی کافی نہیں بلکہ معاشرے میں مجموعی فلاح میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ پاکستان معاشی ناہمواری کے ایک معروف پیمانے یعنی GINI Coeffficient پر گزشتہ پندرہ سالوں میں 0.44 سے کھسک کر 0.55 تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان ہیومن ڈیو یلپمنٹ انڈکس پر دنیا کے ممالک میں 144 ویں نمبر پر ہے۔ معاشی طور پر کمزور افراد کے لئے خوراک کا حصول مہنگا ہوتا جا رہا ہے ۔ ان کی آمدن کا بیشتر حصہ خوراک پورا کرنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ گھر بنانا یا خریدنا درمیانے اور نچلے طبقے کے لئے تقریباٌ نا ممکنات میں سے ہوتا جا رہا ہے۔ زمین کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور تعمیری لاگت ہوش ربا۔ گھر بنانے کے لئے قرضوں کی سہولت نہ ہونے کے برابر۔ معیشت کی ترقی کے ثمرات پر اشرافیہ کا تسلط مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں اضافے کی برکتیں ہوں ، رئیل اسٹیٹ کے پھل پھول ہوں یا معیشت کی شرح نمو کے ثمرات، اشرافیہ کی جھولی مسلسل بھر رہی ہے۔

اس سال کی معقول شرح نمو اچھی خبر ہے لیکن مسلسل بڑھتے ہوئے بیرونی اور اندرونی قرضوں نے معیشت کے مزید زیر بار کر دیا ہے۔ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حجم کو دیکھتے ہوئے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ اگلے ایک دو سال میں پاکستان کو پھر سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اور ایسے قرضوں کے بارے میں محمود شام نے بڑی پتے کی بات کہی ہے:
کھا جاتا ہے احساسِ گدائی میرے بھائی
قرضے کبھی قوموں کو ابھرنے نہیں دیتے