بھارت میں مودی سرکار کی ناکامیاں

ہندوستان میں 2014میں لوک سبھا انتخابات عمل میں آئے تھے۔ان انتخابات میں 543سیٹس والی لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 282سیٹوں پر کامیابی ملی جبکہ اُن کے اتحاد کو 336سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔انتخابات میں بڑی کامیابی کے بعد 26مئی 2014کو ملک کے پندرھویں وزیر اعظم کے طور پر نریندر کمار مودی نے حلف اٹھایا تھا۔اس حلف میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ملک اور اہل ملک کے مسائل حل کریں گے اور جس وعدے اور نعرے کے ساتھ یعنی ’سب کا وکاس سب کا ساتھ‘ انہوں نے بطور وزیر اعظم حلف لیا تھا، اسے پورا کریں گے۔

مودی حکومت کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ان تین سالوں کا مختلف لوگوں اور سیاسی پارٹیوں نے تجزیہ بھی کیا ہے اور جائزہ بھی لیا ہے۔ اس دوران جو بات ابھر کر سامنے آئی ہے اس کے دو عام اور دو خاص دائرے سامنے آتے ہیں۔ایک:معاشی استحکام کے نعرے اور وعدے،جس میں بہت حد تک وہ ناکام رہے ۔تو دوسری جانب "سب کا ساتھ"یعنی معاشرے کے مختلف گروہ و اقوام کی ترقی، ان کی فلاح و بہبود کے کام اور اور انہیں امن و امان فراہم کرنا ،جس میں وہ انفرادی و اجتماعی کوششوں کے نتیجہ میں ایک خوشگوار زندگی گزارسکیں۔وعدوں اور نعروں کے اس دائرہ میں بھی وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔برخلاف اس کے ملک کے چند ہاتھوں کومعاشی و معاشرتی سطح پر فائدہ پہنچا ہے لیکن یہ وہی ہاتھ ہیں جو مودی جی سے عموماً ہاتھ ملاتے ہیں یا ان کے نظریہ سے اتفاق رکھتے ہیں

مودی کے گزشتہ دوسالوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات ابھر کے سامنے آتی ہے کہ جس تیز رفتاری کے ساتھ وزیر اعظم نے بے شمار ممالک کے دورے کئے،اس میں یہ بات پوشیدہ تھی کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن مزید اوپر اٹھانا چاہتے ہیں۔اِسی دوران میڈیا کے ذریعہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض اوقات وزیر اعظم نے وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی نظر انداز کیا۔اس کے باوجود تین سالہ جدوجہد کا اگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو جس تیز رفتاری کے ساتھ بڑی تعداد میں دورے کئیگئے، نتیجہ کے اعتبار سے وہ کامیاب نہیں ٹھہرے۔وہیں ملک کی سالمیت اور تحفظ کی اندرون و بیرون خانہ بات کی جائے تو اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

اس کی ایک مثال تو کشمیر کے بد ترین حالات ہیں جہاں ریاست اور اہل ریاست پریشان ہیں تو وہیں ہندوستان کا پڑوسی ملک چین اور اس کا نیو سلک روڈ منصوبہ او ر اس میں ہندوستان کا شریک نہ ہونا ،یہ واضح کرتا ہے کہ ہم اندرون خانہ ہی نہیں بیرون خانہ بھی بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔یہاں تک کہ نیپال جو ہندوستان ہی کا چربہ سمجھا جاتا رہا ہے ہندوستان کی مخالفت کے باوجود اُس نے بھی اِس منصوبہ پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ہندوستان ایشائی ممالک میں واحد ملک ہے جو اس منصوبہ کا حصہ نہیں ہے۔برخلاف اس کے چین کا کہنا ہے کہ ہمارے اس نیو سلک روڈ منصوبے کا مقصد ایک ایسی اقتصادی راہ داری قائم کرنا ہے، جس کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ کو زمینی اور سمندری راستے کے ذریعے ایک دوسرے سے بہتر انداز میں ملایا جائے گا۔

ان حالات میں جبکہ حکومت کو تین سالہ کارکردگی کے نتیجہ میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ملک اندرون و بیرون خانہ مسائل سے دوچار ہے۔معاشی و معاشرتی سطح پر چند ہاتھوں کے علاوہ ملک کی عوام بے چینی و اضطرابی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ایسے حالات میں حکومت جس نظریہ سے وابستگی رکھتی ہے ، اس کے نتیجہ میں ایک مخصوص قوم کے لوگوں ہی سے بیزاری کا اظہار ہی سامنے آتا ہے۔ اس نظریہ سے وابستہ افراد و گروہ مختلف ناموں سے یا بے نام تشدد و ظلم و زیادتیوں میں شریک ہیں۔ اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حکومت اصلاح احوال کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کرتی نظر نہیں آتی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کبھی واٹس اَپ گروپس کے ذریعہ تشدد کو فروغ دیا جاتا ہے تو کبھی مسافروں کو ظلم و زیادتیوں کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔کبھی مقدس گائے کے نام پر لوگوں کو بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جاتا ہے تو کبھی بچہ چوری کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔اس کے باوجود خواب دیکھنے اور دکھانے کا عمل جاری ہے۔ وہیں جملے اور نعرے بھی مستقل استعمال کیے جا رہے ہیں۔اور سمجھا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں اسی طرح پورے ملک میں امن و امان برقرار رہے۔ ملک کی یہ وہ تشویشناک صورتحال ہے جسے ایک عام شہری نظر انداز نہیں کر سکتا۔

ان حالات میں اقلتیں خصوصاً مسلمان سب سے زیادہ خوف و ہراس کا شکار ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ملک کا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا خوب اچھی طرح واضح کررہا ہے کہ دائرہ ہر دن وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔اس دائرہ میں ہر وہ شخص آتا چلا جائے گا جو مخصوص فکر و نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ان حالات میں اب کون کیا کرے گا یہ تو وہ جانیں لیکن بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ان حالات میں اسلام سے مکمل طور پر وابستگی اختیار کی جائے۔