رمضان ایک خارجی رسم نہیں باطنی عمل ہے!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 30 / مئ / 2017
- 5099
یورپ اور امریکہ کے دانشوروں کے گروپ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ کو ترغیب دے کہ وہ (امریکہ) مقدس ماہ رمضان کے دوران دنیائے اسلام میں اپنی فوجی کارروائیاں روک دے۔ ان حملوں کے جاری رہنے کی صورت میں مسلمان ملکوں میں بڑی نازک صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ یہ صورت حال اس واقعہ سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے جو 1988 میں دوران حج سعودی عرب میں پیدا ہوئی تھی جبکہ ہزاروں ایرانی عازمین حج نے مکہ معظمہ میں زبردست ریلیاں منظم کی تھیں جن کے باعث نہ صرف امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا بلکہ پولیس کی فائرنگ کی نوبت آ گئی تھی۔
امریکہ نے اپنی ہٹ دھرمی کے باعث رمضان میں شورش زدہ علاقوں میں بمباری جاری رکھنے کا جواز پیش کرنے کیلئے دانشوروں کے اس گروپ کو اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کے حوالے دیئے ہیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق اگر داعش اور طالبان پر بمباری میں کوئی نرمی کی گئی تو آنے والے دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو سنگین خطرات کا سامنا ہوگا اور یہ کہ وہ ان دانشوروں کی بمباری بند کرنے کی خواہش نہیں مان سکتا۔ امریکہ نے ایک پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے رمضان قریب آ رہا ہے امریکہ اوردیگر اتحادی ممالک کو مزید دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں تشویش ہے۔ اتحادیوں کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک تک پہنچے اور ہر جگہ سے دہشت گردی کے گروپوں کو اکھاڑ پھینکے۔ دن مہینہ اور سال کوئی بھی ہو۔
تو آیئے دیکھتے ہیں کہ اس مقدس مہینے کے تقدس کا مسلمانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ اصل روزہ محض ایک خارجہ رسم نہیں بلکہ وہ ایک باطنی عمل ہے، وہ مسلمان کی نفسیاتی حالت کا ایک جسمانی اظہار ہے روزہ پابند زندگی کی ایک مشق ہے۔ روزہ میں کھانا پینا چھڑانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو روزمرہ زندگی میں ”یہ کرو وہ نہ کرو“ کے ایک لازمی کورس سے گزار کر اس کو سبق دیا جائے کہ اسی طرح تم کو پوری زندگی گزارنی ہے اس طرح تم کو ساری زندگی کیلئے ”روزہ دار“ بن جانا ہے۔ روزہ کے مہینے کی پابند زندگی دراصل پورے سال اور ساری عمر کیلئے پابند زندگی کی ایک علامت ہے اگر ایسا نہیں ہے تو حدیث کے الفاظ میں اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ کوئی شخص محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ کہتے ہیں ہر مذہب میں روزہ جس کو عربی میں صوم، انگریزی میں فاسٹنگ اور ہندی میں برت کہتے ہیں کسی نہ کسی طور پایا جاتا ہے۔
رمضان کے مہینے کو حدیث میں ”صبر کا مہینہ“ (شہرالصبر) کہا گیا ہے۔ صبر و استقامت بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے یہی تمام فتوحات اور کامیابیوں کا راز ہے۔ حقیقی روزہ صبر کی صفات پیدا کرتا ہے اور صبر ہی وہ شے ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا دروازہ ہے۔ روزہ کیلئے عربی میں لفظ صوم کے اصل معنی ہیں ”رکنا“۔ صائم کے معنی ہیں ”رکنے والا“۔ زمانہ قدیم میں مشکل اوقات میں گھوڑا انسان کا سب سے بڑا ساتھی تھا۔ جنگ اور دشوار قسم کے سفر میں وہ انسان کے کام آتا تھا اس مقصد کیلئے تربیت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ گھوڑے کو محدود مدت کیلئے بھوکا پیاسا رکھا جائے۔ تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ سختی برداشت کر سکے۔ اس طرح کے تربیت یافتہ گھوڑے کو ”خیل صائم“ (روزہ دار گھوڑا) کہتے تھے۔ اس طرح صائم سے مراد وہ انسان ہے جو کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے وقتی طور پر رک جائے۔ یہ رکنا اور پرہیز کرنا آدمی کے اندر برداشت کی صلاحیت پیدا کرتا ہے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ جب سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں تو وہ ان کے مقابلے میں پوری طرح جم سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلامی کیلنڈر میں رمضان سب سے زیادہ مقدس مہینہ ہے۔ اتنا مقدس کہ قرآن شریف کا نزول اسی مبارک مہینے میں شروع ہوا۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان مقدس مہینوں میں ایک روایت کے مطابق جنگ ممنوع ہے۔ رجب، ذی قعد، ذی الحج اور محرم وہ چار مہینے ہیں جن میں جنگ و جدل کی ممانعت ہے مگر اس کا کیا کیجئے کہ اس کے باوجود واقعہ کربلا محرم ہی کے مہینہ میں ظہور پزیر ہوا۔ دوسری طرف جنگ بدر 17 رمضان کو لڑی گئی تھی جس میں خود حضور کی زیرکمان غازیوں کو پہلی فتح مبین حاصل ہوئی تھی۔ اس لئے یہ مقدس مہینہ کبھی کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ تاریخ حیرت انگیز طور پر رمضان کے مہینہ کی خصوصیت کی تصدیق کرتی ہے۔ روحانی مقابلہ کا یہ مہینہ اسلام کی تاریخ میں فوجی مقابلہ کا مہینہ بھی رہا ہے۔ اسلام اور غیر اسلام کے کئی بڑے معرکے اسی مہینے میں پیش آئے، مثال کے طور پر ان میں سے چند معرکوں کا ذکر کرتا ہوں۔
(1) جنگ بدر رمضان 2 جبکہ رسول اور اصحاب رسول کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔
(2) فتح مکہ رمضان 8 جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کر دیا۔
(3) جنگ تبوک۔ رجب میں شروع ہو کر رمضان میں ختم ہوئی۔
(4) فلسطینی رمضان 15 عمروبن العاص نے فلسطینی کو فتح کر کے بیت المقدس کو اسلام کی حدود سلطنت میں شامل کیا۔
(5) معرکہ سپین رمضان 91 جبکہ طارق بن زیاد نے سپین میں کامیاب پیش قدمی کی۔
(6) سندھ رمضان 96 محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوا اور وہاں اسلام کو پھیلایا۔
(7) اندلس رمضان 138 عبدالرحمن الداخل اندلس میں فتح یاب ہوا اور وہاں باقاعدہ سلطنت امویہ قائم کی۔
(8) صقلیہ رمضان 212 زیاد بن الاغلب نے جزیرہ صقلیہ کو فتح کیا۔
(9) حروب صیلیہ رمضان 584 صلیبی جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی طاقتوں کو شکست دی۔
(10) معرکہ نمین جالوت رمضان 658 جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔
(11) جنگ سویز رمضان 1393 جب کہ مصری فوجوں نے اسرائیلی فوج کو شکست دے کر نہرسویز پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ ماضی قریب (16 اکتوبر 1971) کی یہ جنگ جو کہ یہودیوں کے مقدس ’یوم کہور‘ کے موقع پر لڑی گئی تھی تاریخ میں یہ جنگ ”جنگ رمضان“ کے نام سے مشہور ہے۔ علاوہ ازیں ایران اور عراق کی آٹھ سالہ جنگ میں آٹھ بار رمضان المبارک وارد ہوا لیکن جنگ نہیں روکی گئی۔ لبنان، الجزائر اور افغانستان میں افغان گروپوں کے درمیان خانہ جنگیوں میں بھی جنگ نہیں روکی گئی۔
اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جدوجہد میں کوئی تضاد نہیں ہے روزہ کی مشقت آدمی کو کمزور نہیں کرتی بلکہ وہ اس کو اس قابل بناتی ہے کہ حق و باطل کے معرکہ میں وہ زیادہ قوت کے ساتھ حصہ لے سکے۔