کچھ نیم ادبی یادیں۔2
- تحریر باصر کاظمی
- بدھ 31 / مئ / 2017
- 6621
راوی کی ادارت
گورنمنٹ کالج لاہور کے ادبی مجلے’راوی‘ کا مدیر سال ششم سے، شریک مدیر پنجم اور ایک ایک نائب مدیر چہارم اور سوم سے لیا جاتا تھا۔ میں جب سال سو م میں پہنچا تو میں نے اس اسامی کے لئے درخواست دی۔ میری غزلیں ’راوی‘ میں اور قطعات کالج گزٹ میں شائع ہوتے رہے تھے۔ میں ’مجلس اقبال‘ کی مجلس عاملہ کا رکن تھا اور انٹر کالجیٹ مشاعروں میں کالج کی نمائندگی کر کے متعدد انفرادی انعامات اور کالج کے لئے ٹرافیاں حاصل کر چکا تھا۔
مجھے پوری امید تھی کہ میں منتخب ہو جاؤں گا، لیکن میرا ہم جماعت حفیظ الرحمن بطور نائب مدیر چن لیا گیا۔ پہلے تو بڑا افسوس ہوا لیکن پھر سوچا کہ نگران چونکہ پروفیسر مرزامحمد منور تھے لہذا کسی رو رعایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ غور کیا تو احساس ہوا کہ اس ذمہ داری کے لئے حفیظ مجھ سے زیادہ موزوں تھا۔ وہ کالج گزٹ کا سٹاف رپورٹر تھا اور ’راوی‘ میں اس کا ایک طویل افسانہ شائع ہو چکا تھا۔ چونکہ کسی رسالے کے مدیر کو زیادہ تر مسودات نثر کے ملتے ہیں لہذا اس کام کے لئے ایک نثر نگار شاعر کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے ۔
’راوی‘ کی روایت یہ تھی کہ جو نائب مدیر بن جاتا وہ شرک مدیر، پھر مدیر بن جاتا لیکن یہ کوئی پتھر پہ کندہ اصول نہیں تھا۔ ہر سال امیدواروں کو نئے سرے سے جانچا جاتا۔ میں اپنا کام کرتا رہا۔ ’مجلس اقبال‘ کی نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتا اور وہاں ہونے والی گفتگوؤں میں حصہ لیتا۔ کچھ نثر بھی لکھی اور شاعری تو جاری رہی۔ اس کے بر عکس ادبی سرگرمیوں میں حفیظ کی دلچسپی کم ہوتی گئی۔ چنانچہ اگلے سال میں نائب مدیر بن گیا۔ ( دو سال بعد، جب میں مدیر تھا اور ایک اور افسانہ نگار محمد حفیظ شریک مدیر، سراج مدیر نے ہمارے کالج میں داخلہ لے لیا۔ سراج کا ادبی میرٹ حفیظ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا، چنانچہ وہ میرے بعد، براہِ راست ، مدیر بنا دیا گیا۔)
ٹی ہاؤس میں پہلی بار غزل سنانا
پاپا کی زندگی کے آخری برس کے دوران میں جب ان کی طبیعت خراب ہوتی اور انہیں کہیں جانا ہوتا تو وہ مجھے یا میرے چھوٹے بھائی حسن کو ساتھ لے جاتے۔ ایک دن میں ان کے ہمراہ ٹی ہاؤس میں تھا۔ احمد مشتاق، سہیل احمد خان اور سلیم شاہد موجود تھے۔ اچانک پاپا نے مجھے کہا، ’’غزل سناؤ۔‘‘
’’کونسی غزل؟‘‘ میں سمجھ نہ سکا کہ وہ کس کی غزل سنانے کی بات کر رہے تھے۔
’’اپنی غزل۔‘‘ انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
’’اپنی، یعنی میری؟‘‘
’’ہاں‘‘۔
میری تو سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ لیکن پاپا اور ان کے دوستوں کی حوصلہ افزائی پر میں نے اپنی قافیہ پیمائی ان کی نذر کر دی۔ رات کو پاپا نے اپنی ڈائری میں نوٹ کیا:
’’19جون (1971) ۔ ۔ ۔ طبیعت خراب رہی۔ رات کو گڈو کے ساتھ ٹی ہاؤس گیا، پہلی بار اُس نے ٹی ہاؤس میں غزل سنائی۔ سہیل، سلیم شاہد اور احمد مشتاق۔‘‘
لاہور ریڈیو پر ’سرخوں کا قبضہ‘
منتخب نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں تاخیر ہو رہی تھی۔ ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بے چینی بد امنی کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ ایک دوپہر پاپا اور میں ، اپنے صحن کے مقدمے کے سلسلے میں، ایڈوکیٹ محمد اقبال صاحب کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ پاپا نے کہا کہ وہ ریڈیو کے مشاعرہ میں اپنی تازہ غزل ،’ تم آگئے ہو تو کیوں انتظارِ شام کریں‘، سنانا چاہتے تھے۔ پھر پوچھا کہ یہ شعر سنانا چاہیے یا نہیں:
یہ خاص و عام کی بیکار گفتگو کب تک
قبول کیجیے جو فیصلہ عوام کریں
مجھ پر ان دنوں سیاست کا بھوت سوار تھا، سو میں نے کہا : ضرور سنائیں ۔ پاپانے کہا:’’مروا دو گے تم۔ نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘ میں نے کہا کہ سیاسی فضا ہے، حکو مت کس کس کو زیرِ اعتاب لائے گی؟ اربابِ اختیار غیر ضروری طور پر اپنے خلاف خبریں بنوانے سے گریز کریں گے۔ پاپا سوچ میں گم ہو گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ یہ شعرنہیں پڑھیں گے لیکن شام کو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس شعر سمیت پوری غزل سنائی۔ دو روز بعد ایک اخبارمیں کسی نے اس مشاعرے کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھا کہ لاہور ریڈیو پر ’سرخوں نے ’قبضہ ‘ کرلیا تھا اور پاپا کے مذکورہ بالا اورشہزاد احمد کے درج ذیل شعر کا حوالہ دیا :
وہ رنگ ہوں جسے پہچانتی نہیں دنیا
بھٹک رہا ہوں لبِ سُرخ سے جدا ہو کر
محبوب خزاں کے دفتر میں۔ قمر جمیل سے بات
مذکورہ مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے، ہم جسٹس ایم ایس ایچ قریشی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ پیشی کے بعد میں پاپا کے ساتھ خزاں انکل کے دفتر گیا۔ انہوں نے کراچی میں مقیم قمر جمیل صاحب سے فون ملایا۔ پاپا نے انہیں یہ کہتے ہوئے کہ ’’آج ہی مکمل ہوئی ہے‘‘، یہ غزل سنائی: غم ہے یا خوشی ہے تو/م یری زندگی ہے تو
احسان دانش کی تیمارداری
پاپا ہسپتال داخل تھے۔ ایک دن انہوں نے بتایا کہ احسان دانش صاحب بھی کسی وارڈ میں داخل ہو گئے تھے۔ ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے۔ پاپا نے ان سے کچھ شعر سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے اکبر الہ آبادی کے دو شعر سنائے:
اُسی سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبر
یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
جواب دینے کے بدلے وہ شکل دیکھتے ہیں
یہ کیا ہوا مِرے چہرے کو عرضِ حال کے بعد
پاپا کے ساتھ آخری مشاعرہ
میں سالِ اول میں تھا۔ ہمارے کالج میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں احمد ندیم قاسمی صاحب اور پاپا نے بھی شرکت کی۔ میں نے پہلی بار ان کے ساتھ کسی مشاعرے میں اپنے شعر سنائے۔ اس کے دو برس بعد، پاپا کی ڈائری کے مطابق 7ستمبر1971 کو، انہیں گوجرانوالہ میں ایک مشاعرے میں شرکت کرنا تھی ۔ ان دنوں ان کی طبیعت بہت خراب تھی ۔انہوں نے مجھے ساتھ چلنے کو کہا تاکہ میں بوقتِ ضرورت ان کا خیال رکھ سکوں اوردوا وقت پر دے سکوں ۔ ایک صاحب نے اپنی کار میں پہلے ہمیں ، پھر قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی صاحب کو لے کر گوجرانوالہ پہنچے۔ تمام راستے دلچسپ اور بصیرت افروز گفتگو سننے کو ملی ۔ غالباً کسی سینماکا ہال تھا۔ گراؤنڈ فلور مردوں سے اور گیلری خواتین سے بھری ہوئی تھی ۔ بہت بڑا سٹیج تھا ۔ شعراء جن میں جوش ملیح آبادی اوراحسان دانش بھی تھے، سفید چاندنی پر تشریف فرما تھے ۔ پاپا سٹیج کے ایک کونے میں بیٹھے تھے تاکہ سگریٹ پینے یا دوا وغیرہ کے لیے اٹھ کر باہر جانے میں آسانی رہے ۔ اتنے اہم شعراء کے ہمرا ہ آنے کی وجہ سے مجھے اگلی قطار میں بٹھایا گیا ۔ مقامی شعراء اپنا کلام سنارہے تھے کہ کسی نے آکر مجھے کہا ،’’ناصر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں ۔‘‘ میں جلدی سے ان کے پاس پہنچا ۔ انہوں نے مجھ سے پان لیا اور پھر مجھے اپنے پاس ہی بٹھا لیا ۔ کچھ دیر بعد کمپئر نے اگلے شاعر کو دعوتِ سخن دی ۔ کوئی شاعر سامنے نہ آیا ۔ میں نے دیکھا کہ قاسمی صاحب اور قتیل صاحب مجھے دیکھ رہے تھے ۔ میں نے پاپا کی طرف دیکھا ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے مائیک کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔ وہ چند لمحے میرے لیے قیامت سے کم نہ تھے ۔ بہر حال میں کسی طور جانبر ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ میں نے بعد میں پاپا سے کہا، ’’آپ مجھے کچھ دیر پہلے بتا دیتے تو مجھے ذہنی تیاری کے لیے کچھ وقت مل جاتا۔ ‘‘ جواب میں مجھے ایک خطبہ سننے کو ملا:
زندگی ہمیشہ تیاری کا موقع نہیں دیتی ۔ کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی آپ کو اچانک گہرے پانی میں دھکا دے دیتا ہے ۔۔۔۔۔
اور صر ف چند ماہ بعد زندگی نے ہمیں ذہنی تیاری کا موقع دیے بغیر گہرے پانی میں دھکیل دیا ۔باجی ،چچا عنصر اور پاپا کے کچھ دوستوں کو پاپا کی وفات سے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے معلوم ہوگیا تھا کہ انہیں کینسر ہوگیا تھا لیکن مجھ سے اور حسن سے یہ بات اہتمام کر کے چھپائی گئی ۔
محبوب خزاں
محبوب خزاں ایک بڑے افسر تھے لیکن ان میں ’افسروں ‘ والی کوئی بات نہ تھی۔ ایک وقت میں دو جوڑوں سے زیادہ کپڑے نہیں رکھتے تھے۔ بعض اوقات کوئی نئی خریدی ہوئی قمیص کسی کو دے دیتے۔ سب سے چھوٹی کار، فیٹ چھ سو ، جسے صابن دانی کہا جاتا تھا، صرف ضرورت کے لئے رکھی ہوئی تھی۔ کئی ماتحتوں کو مزید تعلیم کے لئے آمادہ کیا۔ امتحانات کی تیاری بھی کرائی اور فیسیں بھی دیں اور بہتر ملازمتوں میں جانے کے قابل بنایا۔ خاندان کے بچوں کوکسی نہ کسی بہانے انعام دیتے رہتے۔ کہا کرتے تھے کہ ان کی ساری تنخواہ دوسروں پہ خرچ ہو جاتی ہے۔ خود کو میسر سہولتوں میں دوسروں کو شریک کر نا اور دوسروں کی تکلیفوں میں شریک ہونا ان کے لئے سب سے زیادہ خوشی کا باعث ہوتا ۔
خزاں انکل کا مشاہدہ نہایت گہرا تھا۔ عملی دانائی کی پلے باندھنے والی باتیں سب سے زیادہ اُن سے سنیں۔ اُن کی تنقید بہت سخت ہوتی تھی لیکن کہا کرتے تھے کہ بات ہمیشہ مدلل کرنی چاہئے اور اختلافی رائے کااظہار کرتے وقت لہجہ طنزیہ اور تمسخر اُڑانے والا نہ ہو۔ انداز دھیما اور اسلوب شائستہ ہونا چاہئے تاکہ جس پہ تنقید کی جا رہی ہو اُسے یہ احساس نہ ہو کہ آپ اُس پہ حاوی ہونے یا اُس کی توہین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک دوپہر حسبِ معمول میں کالج سے ہسپتال پہنچا تو بستر پہ خزاں انکل بیٹھے تھے، گویا مریض وہ ہوں۔ پاپا ٹائلٹ سے باہر آئے تو ان سے کہا:’’ناصِر، ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمہاری آدھی بیماری ہم لے لیں؟‘‘ پاپا نے محبت آمیز برہمی سے کہا: ’’تم میرا اتنا خیال رکھتے ہو، جب میں مروں گا تو تم ہی سرہانے نہ ہو گے۔‘‘ (ع جب میں مروں گا تو کوئی سرہانے نہ ہو گا۔محبوب خزاں)۔ خزاں انکل شہر سے باہر کسی میٹنگ یا دورے پہ جانے سے پہلے کئی کئی بارڈاکٹروں اور نرسوں سے بات کر کے اپنی تسلی کرتے۔ یکم مارچ (1972)کو بھی اسی طرح اپنا اطمینان کر کے ایک میٹنگ کے لئے کراچی چلے گئے۔ اور پاپا کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہوگئی۔
میں اپنے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں کہ اپنی زندگی کی آخری شام، طبیعت کی بے انتہاخرابی کے باوجود پاپا یہ جاننے کیلئے بیتاب تھے کہ صدر ذوالفقار علی بھٹو اس شام زرعی اصلاحات میں کن اقدامات کااعلان کرنے والے تھے۔
ظہیرالدین بابر کا جوان بیٹا ہمایوں بیمار ہوا اور ایسا کہ طبیب اُس کی زندگی سے مایوس ہو گئے۔ جب امید کی کوئی کرن باقی نہ رہی تو بابر نے موت کے فرشتے کو ہمایوں کے بدلے اپنی جان کی پیشکش کر دی۔ اُس نے جاں بلب بیٹے کے بستر کے گرد سات چکر کاٹے، یہ کہتے ہوئے: ’’ہمایوں کی بیماری میں نے لے لی، ہمایوں کی بیماری میں نے لے لی۔ ‘‘ ماسٹر حبیب نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی اٹھا کے راسٹرم کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہماری کلاس کو بتایا تھا۔ اس کے بعد ہمایوں صحت یاب ہوتا گیا اور بابر بیمار، اور آخر اپنے خالق سے جا ملا۔
خیال کی ایک رو بجلی کی لہر کی طرح میرے ذہن میں کوند گئی: کیا ایک بیٹا بھی اپنے باپ کے لئے وہ کچھ کر سکتا ہے جو ایک باپ اپنے بیٹے کے لئے؟
(زیر اشاعت کتاب، ’ایک شاعر کی سیاسی یادیں‘ سے اقتباس)