اُمُ الفَسَاد کے قدموں میں بیٹھی ہوئی سیاسی قیادت
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- بدھ 31 / مئ / 2017
- 4328
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب سے اسرائیل پہنچتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں اُن کے ورودِ مسعود کے اصل مقاصد نمایاں ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب کے بادشاہ کے ساتھ طلوعِ اسلام سے پیشتر دورِ جاہلیت میں رائج تلواروں کے رقص اور ایران کے خلاف لفظوں کی شمشیر زنی کے بعد جب وہ اسرائیل پہنچے تو انہوں نے یہودیوں کی کالی ٹوپی اپنی کھوپڑی پر سجائی اور دیوارِ گریہ پر جا پہنچے۔ وہ اس عبادت سے فارغ ہوئے تو اُن کا داماد جوعقیدے کے اعتبار سے قدامت پسند یہودی ہے وہیں جا پہنچا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُن کے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا اصل مقصد اسرائیلی قیادت کو یہ خوشخبری دینا تھا کہ اُنہوں نے سُنّی مسلمان ملکوں کو ایک فرقہ وارانہ اتحاد میں ایران کے خلاف متحد کر دیا ہے۔
رابرٹ فِسک ہوں یا راجر کوہن یا دیگر مغربی اخبار نویس ہر کوئی اِس نام نہاد اسلامی اتحاد کو سُنی ممالک کا اتحاد قرار دیتا ہے۔ امریکہ میں ’کارنیگی مرکز برائے امن و سلامتی ‘ کے ایک دانشور نے ایک ای میل میں راجر کوہن کو درست اشارہ دیا ہے کہ’’ ایران کا خطرہ عربوں اور اسرائیلیوں کو ہم خیال بنا چکا ہے۔ ‘‘ روزنامہ نیوزیارک ٹائمز نے اپنے 24 مارچ کے اداریہ کو ’’ریاض میں رومانس ‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اپنے اس اداریے کی اختتامی سطور میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عقل کا ماتم کرتے ہوئے دنیا کو ایک نئی جنگ کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’ایران کے خلاف سنی عرب ریاستوں کا یہ اتحاد خطے میں ایران کو تنِ تنہا کر دے گا۔ نتیجہ یہ کہ خطے میں ایک خوفناک جنگ بھڑک اُٹھنے کے امکانات حقیقت کا رُوپ دھار لیں گے۔‘‘ اس سے صرف ایک دن پیشتر کے روزنامہ نیویارک ٹائمزکے ریاض میں مقیم نمائندوں نے مسلمان ملکوں کے اس نام نہاد اتحاد کو فرقہ وارانہ اتحاد قرار دیتے ہوئے امریکی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس فرقہ وارانہ اتحاد میں مسلمانوں کے صرف ایک فرقے کے ساتھ خود کو وابستہ کر دینے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ کیونکہ اس طرح ہم اس خطے کی ایک اہم طاقت ، ایران کو اپنا دشمن بنا لیں گے۔ اپنی اسی تجزیاتی اور تنقیدی رپورٹ میں ان امریکی صحافیوں نے عرب بادشاہتوں اور مسلمان آمریتوں کے مقابلے میں ایران کے جمہوری نظام کی تحسین کی ہے۔ اُنہوں نے اس خوشگوار توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ ایران کے نومنتخب اعتدال پسند صدر کی قیادت میں ایران عربوں کے مقابلے میں ایک ترقی پسند اور انسان دوست کردار ادا کر سکے گا۔ ایسے میں امریکی صدر کا ایرانی جمہوریت کے مقابلے میں سعودی آمریت کا آلۂ کار بن کر رہ جانا قابلِ صد نفرین ہے۔
یہ سب بجا اور درست مگر اس کا کیا کیا جائے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے انتہا پسند یہودی داماد کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ اپنے انتہا پسند فکر و عمل کے باعث دنیائے اسلام کی اعتدال پسند اور جمہور نواز قوتوں سے جنگ مقصود ہے۔ اس جنگ کے شعلوں کو ہَوا دینے کی خاطر سلطانی و مُلائی کے شعلوں کو ہَوا دینا لازم ہے ۔ یہ تو ہوئی صدر ٹرمپ کی مجبوری مگر ہمیں کیا مجبوری تھی؟ ہم وہاں کیا لینے گئے تھے؟ ایک ایسے وقت میں جب ہماری بہادر افواج فرقہ واریت سے جنم لینے والی دہشت گردی سے نبردآزما ہیں ہم ریاض میں دہشت گردی کی ماں یعنی اُمُ الفساد کے قدموں میں کیوں جا بیٹھے تھے۔ کون نہیں جانتا کہ اُمُ الفساد کی خوشنودی سے ردُالفساد ناممکن ہے۔
ہمارے ہاں سیاسی قیادت اور عسکری قیادت میں ہم آہنگی کے فقدان کا سوال آئے روز اُٹھایا جاتا ہے اور آئے روز اس سوال کا جواب نفی میں دیا جاتا ہے۔ اللہ کرے یہ جواب درست ہو مگر سُنی شہنشاہیتوں اور آمریتوں کے اس اسرائیل نواز اتحاد میں شمولیت سے تو ہم اُمُ الفساد کے چاکر بن کر رہ گئے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت نے یہ چاکری اُس وقت قبول کی ہے جب ہماری افواج وطنِ عزیز میں فرقہ واریت کی پھیلائی ہوئی قتل و غارت گری اور دہشت گردی سے نجات کے لیے سربکف ہیں۔ یہاں مجھے فیض احمد فیض کی ایک نظم کے درج ذیل مصرعے بیساختہ یاد آ گئے ہیں:
اب رسمِ ستم حکمتِ خاصانِ زمیں ہے
تائیدِ ستم مصلحتِ مفتئِ دیں ہے
اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے
لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اُترے
ملوکیت اور مُلائیت سے انکار کا یہ فرمان تو مصورِ پاکستان اور مفکرِ اسلام علامہ اقبال کی شاعری میں پہلے ہی سے جلوہ افروز ہے مگر افسوس صد افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت نے بانیانِ پاکستان کے فکر و عمل کو فراموش کرکے سلاطین و ملوک کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر رکھا ہے۔ یہ اسی طرزعمل کا شاخسانہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اُمُ الفساد کے سامنے چُپ چاپ بیٹھے رہنے کو کارِثواب گردانتی ہے!