صنوبر کادرخت اور جادوگر
- تحریر سرور غزالی
- بدھ 31 / مئ / 2017
- 7369
کسی زمانے میں ہماری خالہ زاد بہن کے شوہر نامدار جرمنی تشریف لائے تھے۔ بات بہت پرانی ہے اس لیے کسی زمانے میں ہی کہنا درست ہے۔ تو جناب اس دور میں جب کہ موبائل فون تو دور کی بات ہے، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ہم نے فون بھی نہ دیکھا تھا۔ ہاں اس زمانے میں ڈھاکہ میں نیا نیا ٹی وی اسٹیشن ضرور کھلا تھا اور یہ بہت بڑی جدت و ترقی کا علامت سمجھا جاتا تھا۔
ہمارے بہنوئی صاحب، جنہوں نے ٹیکسٹائل ڈیزائنگ میں ایم ایس کیا تھا اور جاب بھی پکڑلی تھی تو پھر ان کا ہاتھ رضیہ آپا کو پکڑا دیا گیا تھا۔ رضیہ آپا بہت خوبصورت اور خود بھی ایم اے پاس تھیں۔ بہت ہی خلیق و ملنسار مگر بھائی صاحب تو بس اللہ میاں کے گائے ہی تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے تو ایسا ہی لگتا تھا کہ شاید کبھی وہ دانت مانجھنا بھول جاتے تو کبھی بالوں ان کا کنگھی کرنا رہ جاتا۔ قمیص کا صرف سامنے کا حصہ پینٹ میں گھسیڑ دینا ہی کافی ہوتا۔ ویسے تو بہت باتونی تھے مگر منہ میں بھرا پان کم سخن بنائے رکھتا۔ اور شاید اس پان کی وجہ سے ہی ان کا ہنسنا مجھے سب سے برا لگتا تھا۔ ویسے اگر میری بڑی ممانی مرحومہ پان بھرے منہ سے مجھے بچپن میں اپنے بوسے نہ ڈراتیں تو مجھے بھی شاید پان خوری کی لت لگ جاتی۔ مگر اللہ بھلا کرے ان کا کہ میں اس علت بچا رہا۔ بھائی صاحب کے دور کا جرمنی ایک دور دراز ملک تھا۔ اس کی مشکل زبان کی وجہ سے شاذ و نادر ہی کو ئی بہت جینئس اس ملک کی جانب عازم ہوا کرتا تھا۔ جب بھائی صاحب جرمنی سے ٹکسٹائل میں کسی فنی تعلیم یا شاید پی ایچ ڈی کے بعد ملک لوٹے تھے تو ان کے ساتھ کئی ایک لوگوں کا ایک گروپ بھی تھا۔ ان سب کو اس وقت کے صدر ایوب خان نے مدعو کیا اور ایوب خاں سے ہاتھ ملاتے ہوئے ان ایک بڑی سی تصویر ان کے ڈرائینگ روم میں آویزاں تھی۔
شاید ان کی اسی تصویر کی وجہ سے رضیہ آپا انہیں برداشت کر رہی تھیں ورنہ وہ تو نہایت نفیس انسان تھیں جب کہ بھائی صاحب ان کی ضد۔ من موجی۔۔۔ جب چاہا نوکری کرلی دل بھر گیا۔۔۔ یا موڈ ہؤا تو چھوڑ دی۔۔۔۔ پھر نئی جاب پکڑ لی۔ ان دونوں کی بڑی بیٹی کا نام صنوبر تھا۔ صنوبر کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں صنوبر کا درخت اور اس وابستہ ایک بچپن میں پڑھی کہانی یاد آجاتی ہے۔ کہ کس طرح ایک جادوگر خوبصورت لڑکیاں اٹھا کر صنوبر کے جنگل میں لے آتا اور ہر ایک لڑکی ایک صنوبر کے درخت پرایستادہ کرکے اس طرح قید کر دیتا کہ اس کا چہرہ تو انسانی رہتا مگر تمام جسم صنوبر کے درخت میں تبدیل ہو جاتا۔ تمام لڑکیاں جادوگر کی غیر موجودگی میں درخت پر ٹنگی ایک دوسرے کا دکھ درد سنتیں۔ جادوگر ہر روز آتا اور ان لڑکیوں کو شادی کی پیشکش کرتا ۔ لڑکیوں کی رہائی اس شادی سے مشروط ہوتی۔ اور لڑکیاں مزید اذیت سے بچنے کی خاطر اسی صورتحال میں ہی رہنے کو ترجیح دیتیں۔
بھائی صاحب کے زمانے کا دور دراز کا جرمنی نہ صرف بہت خوبصورت نہایت ترقی یافتہ بلکہ بہت زیادہ امیر بھی ہوا کرتا تھا۔ اس کی بہت عزت تھی اور ماسوائے حصول علم وہ بھی اعلی تعلیم کے حصول کے ، کوئی ادھر کا رخ بھی کرنے کا نہ سوچتا تھا۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ تب جرمنی آنے کے لیے پاکستانی شہریوں کو ویزے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ کہاں اس دور کا جرمنی اور کہاں آج کا جرمنی جہاں ہر ایرا غیرا منہ اٹھائے چلا آرہا ہے۔ کہ اگر ملک میں کچھ کام دھندہ نہیں تو چلو جرمنی چلو۔۔۔۔ جہاں لوگ اعلی تعلیم کے حصول کی غرض سے آتے تھے وہاں آکر اب لوگ چرس اور منشیات کے کاروبار کو فروغ دینے میں اپنا نام پیدا کر رہے ہیں۔ چلو اس پر بھی بس ہوتا تو بات تھی۔ یہاں کی کافر ادا لڑکیوں کے تو ہم ہمیشہ سے ہی شیدائی رہے ہیں۔ بڑے بڑے سائنسداں جب یہاں سے لوٹتے تھے تو ایک عدد میم ساتھ ہوتی تھی اور آج بھی وہی میم پکے ویزے کی گارنٹی ہے۔ مگر اب ان کے مرد بھی کافر مانے جانے لگے ہیں۔ اور کافروں کا تو ان کے ملک سمیت ہم جو حال کرتے ہیں وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ ابھی مانچیسٹر کا واقعہ تازہ تازہ ہی ہے۔
ہم لوگ جادوگر ہیں اور صنوبر کے جنگل کے متلاشی۔ تب کا جرمنی اور ساتھ ساتھ سارا یورپ اب اتنا غریب ہو چکا ہے کہ اب متحدہ ہائے امریکہ اس سے دامن چھڑا کر سعودی عرب سے دوستی گانٹھ رہا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جو امریکہ اپنے ہم مذہب و نسل کا نہ ہوسکا وہ ان عربوں کا کیا ہوگا۔ مگر دلچسپ بات یہ کہ امریکی یہ بات خود بھی سعودیوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ انسان پہلے پاس پڑوس کا خیال رکھتا ہے، محلے والوں سے بنا کر رکھتا ہے۔ نہ کہ محلے کے لڑکوں سے پنگے لینے کے لیے کہیں دوردراز سے بدمعاش منگواتا ہے۔
اب وہ جادوگر آکر صنوبر کے درخت پر سارے محلے کے منچلوں کو ایستادہ تو کرنے سے رہا۔ وہ تو صرف خوبصورت دوشیزاوں کے سحر میں مبتلا ہے۔