پاکستان کی خاتون جوہری سائنسدان
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- جمعرات 01 / جون / 2017
- 6988
(پاکستان کی پہلی جوہری سائنسدان ہاجرہ خان وطن سے محبت کا ایک لازوال کردار ہیں یہ کالم اس عظیم خاتون کو سلام عقیدت کی محض ایک کوشش ہے)
جیسے ہی پرانی گاڑی کا مخصوص ہارن بجتا کرسی پر اونگھتا ہوا چوکیدار بجلی کی سی تیزی کے ساتھ گود میں پڑی ہوئی ٹوپی سر پر رکھتا، دوسرے ملازمین کو آنکھ سے اشارہ کرتا ، شور کئے بغیر گیٹ کھولتا اور فوجی انداز میں نظر اٹھائے بغیر عمارت کے اندر داخل ہونے والی گاڑی کو سیلوٹ کرکے سیدھا کھڑا ہو جاتا۔ اس دوران باقی ملازمین بھی اپنی وردیاں درست کرتے ہوئے چاق و چوبند انداز میں کھڑے ہو چکے ہوتے۔ دفتر کا نیم خوابیدہ کلرک نظر کی عینک تلاش کرکے آنکھوں پر رکھ لیتا اور کئی دنوں سے پڑی ہوئی فائلوں کی ورق گردانی میں لگ جاتا۔
گیٹ کھلنے کی آواز پر لاؤنج، گراؤنڈ اور برآمدے میں کھڑے اور کھیلتے ہوئے بچے اس تیزی سے کلاسوں کی طرف دوراتے کہ کئی تو آپس میں ٹکرا کر گر جاتے مگر پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ دوبارہ اٹھ کر دوڑ پڑتے۔ گاڑی لاؤنج میں آ کر رکتی اور باوردی ڈرائیور تیزی سے اتر کر پچھلا دروازہ کھول دیتا ۔ پچھلی نشست پر بیٹھی ہوئی ایک باوقاربزرگ خاتون ساڑھی کا پلو درست کرتے ہوئے کار سے اترتیں، چاروں جانب طائرانہ نگاہ ڈالتیں جہاں اب خاموشی اور ڈسپلن کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا اور دھیرے دھیرے قدموں کے ساتھ اپنے دفتر کی جانب بڑھ جاتیں۔ برآمدے سے گزرتے ہوئے وہ یک لخت کسی کلاس روم میں داخل ہو جاتیں۔ انہیں اچانک وہاں دیکھ کر ٹیچر کے ہاتھ سے قلم یا چاک چھوٹ جاتا اور وہ بمشکل اپنے آپ کو سنبھال پاتی۔ اس دوران کلاس کے بچے بھی زمین پر نظریں جمائے دم بخود سیدھے کھڑے ہو جاتے۔ یہاں سے نکل کر وہ اپنے پی اے کو ضروری ہدایات دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی جاتیں۔ اسمبلی میں وہ کبھی کبھار جاتیں لیکن جس دن چلی جاتیں ٹیچرز اور بچوں کی شامت آ جاتی۔
یہ تھیں میڈم ہاجرہ خان۔ پاکستان کی پہلی جوہری سائنسدان۔ لاہور کالج فار ویمن میں شعبہ طبعیات کی سربراہ۔ پاکستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی چیئرپرسن جو ریٹائرمنٹ کے بعد علی گڑھ پبلک سکول لاہور کی پرنسپل کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ یہ عہدہ انہوں نے مشنری جذبے کے تحت قبول کیا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایم ایس سی فزکس کی واحد طالبہ تھیں۔ کلاس روم کو ایک پردہ کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے حصے میں طالب علم ہوتے اور وہیں استاد لیکچر دیتے۔ جب کہ پردہ کی دوسری جانب واحد طالبہ وہ ہوتیں۔ رزلٹ آنے پر وہ برصغیر کی پہلی مسلمان فزیسیسٹ قرار پائیں۔ اس دوران اُن کے استاد ڈاکٹر رفیع چودھری پاکستان آ گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریس و تحقیق کے کام میں لگ گئے۔ ان ہی کے حکم پر میڈم ہاجرہ خاتون اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان (نسبت روڈ لاہور) منتقل ہو گئیں۔ ڈاکٹر رفیع چودھری نے انہیں فوری طور پر ریسرچ کے کام میں لگا دیا۔ وہ خود بھی بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے اور اپنے ساتھیوں سے بھی اتنا ہی کام لیتے تھے۔ کام کے دوران وہ کسی دوست، رشتہ دار حتیٰ کہ اپنی اولاد سے بھی ملاقات نہیں کرتے تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب نوزائیدہ پاکستان کو بے پناہ مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے میں پاکستان نے مقابلے کے ایک امتحان کے بعد میڈیم ہاجرہ کو جوہری سائنس میں تحقیق کے دو سالہ پروگرام پر برطانیہ بھیج دیا۔ کچھ عرصہ قبل ان کی شادی ایک پاکستانی سے ہو چکی تھی جو برطانوی شہریت کے حامل اور برطانیہ میں ہی مقیم تھے۔ میڈم ہاجرہ برطانیہ میں جوہری تحقیق کے کام پر لگی ہوئی تھیں کہ فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان نے انہیں واپس آنے کو کہا۔ میڈم کا ریسرچ کا کام بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ان کے برطانوی اساتذہ بھی ان کے کام سے خوش تھے۔ برطانوی حکومت نے میڈم کو پیش کش کی کہ اگر وہ برطانوی شہریت قبول کر لیں تو برطانیہ کے خرچ پر ہی اپنا تحقیقی کام مکمل کر سکتی ہیں۔ مگر میڈم پاکستان سے محبت کے جذبے سے اس قدر سرشار تھیں کہ انہوں نے یہ پیش کش مسترد کر دی اور واپس پاکستان آ گئیں۔ حالانکہ ان کے شوہر انگلستان ہی میں تھے۔ پاکستان سے محبت کا یہ جذبہ ان کی موت تک موجود رہا۔
میڈم واپس پاکستان آ کر لاہور کالج برائے خواتین میں طویل عرصہ شعبہ طبیعات کی سربراہ رہنے کے علاوہ گورنمنٹ گرلز کالج گجرات کی پرنسپل رہیں۔ یہاں انہوں نے صدر ایوب خان اور گورنرامیر محمد خان کے ذریعے جو خود بھی علیگ تھے کالج کی توسیع کے لیے وسیع اراضی حاصل کی۔ بعد میں وہ ٹیکسٹ بورڈ کی چیئرپرسن ہو گئیں۔ اس دوران اُن کے بچے اور بچیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دھڑا دھڑا برطانیہ کی شہریت حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ جب میڈم ریٹائر ہوئیں تو ان کے شوہر اور تمام بچے برطانیہ منتقل ہو چکے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میڈم بھی لندن آ جائیں مگر میڈیم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان ہی میں مرنا اور یہیں دفن ہونا چاہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے علی گڑھ پبلک سکول میں بطور پرنسپل کام شروع کر دیا۔ یہ سکول مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی طرز پر علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن پاکستان نے مشنری جذبے کے تحت بنایا تھا۔ جس کے صدر یکے بعد دیگرے پروفیسر مرتضیٰ خان (پرنسپل ہیلے کالج آف کامرس) اور جسٹس مولوی مشتاق حسین جیسے نامور لوگ رہے ہیں۔ جب کہ سیکرٹری جنرل ایک درویش صفت بلکہ ولی اللہ قسم کے کسٹم آفیسر جناب جی ایم صابری تھے۔ جو اسسٹنٹ کمشنر کسٹمز کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود سائیکل پر دفتر آتے جاتے تھے۔
اس سکول میں بچوں اور ان کے والدین کے لیے سب سے مشکل دن پیرنٹس ٹیچرز ڈے ہوتا تھا۔ جب پرنسپل صاحبہ کسی لحاظ کے بغیر والدین کی کلاس لیتیں۔ اس روز بچے خوش اور والدین سہمے ہوئے ہوتے لیکن اس دوران میڈم خاموشی سے بچوں کے والدین کی مالی حالت کا اندازہ لگا لتیں اور ضرورت مند اور ذہین بچوں کی فیس میں از خود معقول کمی کر دیتیں۔ میڈم بچوں کی تعلیم سے زیادہ ان کی تربیت پر توجہ دیتیں خصوصاً بچیوں کی تربیت کے معاملے میں وہ کسی سمجھوتے کی قائل نہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اگلی نسلیں ان ہی بچیوں کی گودوں میں پروان چڑھنے والی ہیں۔ یہ اچھی مائیں ثابت نہ ہوئیں تو اگلی نسل برباد ہو جائے گی۔
میڈیم شاید مرتے دم تک اس سکول سے وابستہ رہتیں لیکن ان کی صحت نے ساتھ نہ دیا۔ مجبوراً انہوں نے سکول چھوڑ دیا۔ اس دوران ان کی ایک ڈاکٹر بیٹی لندن سے آ کر انہیں اپنے ساتھ لے گئیں۔ مگر میڈم نے ان سے یہ پیشگی شرط منوالی کہ اگروہاں ان کا انتقال ہو جائے تو انہیں پاکستان لا کر دفن کیا جائے گا۔ چند ماہ بعد لندن میں ان کا انتقال ہو گیا۔ جس پر ان کے تمام بچے وصیت کے مطابق میت لے کر لاہور آئے۔
پاکستان سے محبت کی اس علامت کو قبرستان میانی صاحب میں دفن کیا اور ہاتھ جھاڑ کر چارٹر طیارے پرواپس لندن چلے گئے۔ وطن سے محبت کی یہ ایک لازوال مثال تھی۔