ایک عوام دوست پولیس افسر
ہمارے موجودہ نظام میں ہر اداروں کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے جس میں حکومت اورسرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی کردار ادا کرنا چائیے ۔ عوام باشعور، بیدار، باکردار اور باعمل ہوں گے تو نظام بھی بہتر ہوگا۔ مائرین نفسیات کے مطابق کمزور شخصیت کا مالک افسر ادارے میں ایسا ہی ہے جیسے فرنیچر جسے جہاں رکھا جائے گا وہاں ہی پڑا پڑا پرانا ہو جائے گا۔ لیکن مضبوط اور تخلیقی سوچ کا مالک افسر ادارے کو بہتر اور موثربنانے کے لیے کردار ادا کرے گا۔
ادارے مضبوط ہوں گے تو ریاست مضبوط ہوگی۔ چونکہ عوام کو ہماری پولیس سے بہت شکایات ہیں اس لیے میں آج اس نیت سے یہ کالم ایک ایسے پولیس افسر کی برسی کی موقع پر ان کے کارناموں بارے لکھ رہا ہوں کہ موجودہ پولیس افسران کو ان کی تقلید کرتے ہوئے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ پولیس افسر انسپکٹر راجہ سیداﷲ خان مرحوم ہیں جنہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو پنتالیس سال گزر گئے ہیں لیکن لوگ انہیں آج بھی اسی احترام اور عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کا آبائی تعلق کھوئیرٹہ آزاد کشمیر کے دو جڑواں بالائی گاؤں ٹھل ۔ کجھورلہ سے تھا۔ راجہ سیداﷲ خان کے فرزند اور انتہائی متحرک سیاسی رہنماء راجہ مروت خان کے مطابق ان کے والد راجہ سیداﷲ خان متحدہ جموں کشمیر کے مہاراجہ کے دور میں 1923 میں ٹھل کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کے والد راجہ فیض طلب خان خطے میں ایک منصف مزج انسان کی حیثیت سے مشہور تھے۔ لیکن اس دور میں مقامی سطع پر کوئی تعلیمی ادارہ نہ تھا جس کی وجہ سے راجہ سیداﷲ خان بغرض تعلیم اپنے بڑے بھائی راجہ فیض اﷲ خان کے ساتھ راولپنڈی چلے گئے۔ جہاں اولالذکر ریلوے میں ملازم تھے۔
راجہ سیداﷲ خان ابھی زیر تعلیم ہی تھے کہ سرینگر میں پولیس بھرتی کا اعلان ہوا جہاں انہیں 23 سال کی عمر میں سیلیکٹ کر لیا گیا۔ یوں تو وہ ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے لیکن پاسنگ آؤٹ ٹاپ کرنے کی وجہ سے پہلے دن ہی ہیڈ کنسٹیبل بنا دئیے گئے۔ وہ مہاراجہ ہر ی سنگھ کا دور تھا۔ مہاراجہ کے دور میں کسی بھی محکمہ میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے مقابلے میں ترقی پانے کے لیے دو گنا زیادہ کارکردگی اور صلاحیت دکھانا پڑتی تھی۔ لیکن راجہ سیداﷲ خان اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے بڑھتے گئے۔ اپنے حقوق کے لیے مہاراجہ کے خلاف کشمیری عوام کی بغاوت سے بیرونی قوتوں نے فائیدہ اٹھاتے ہوئے جب جموں کشمیر کو دو لخت کر دیا تو راجہ سیداﷲ خان نوشہرہ میں آئی ایس آئی تھے۔ وہاں سے ان کی معیت میں کھوئیرٹہ کے پولیس افسران کو سیز فائر لائن کراس کروا کر واپس اپنے گھروں میں روانہ کیا گیا ۔ گھر پہنچتے ہی راجہ سیداﷲ خان کو سیری تھانہ میں حاضر ہونے کا حکم ملا۔ متحدہ جموں کشمیر کے دور میں علاقہ کھوئیرٹہ کا تھانہ سیری ہوا کرتا تھا لیکن فائربندی کے بعد تھانہ کھوئیرٹہ منتقل کر دیا گیا کیونکہ سیری سیز فائر لائن کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے خطرے میں تھا۔
راجہ سیداﷲ خان نے اس جنگی ماحول میں جب لوگ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے تو انہوں نے صرف مہاجرین ہی کی نہیں بلکہ علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے آزاد کشمیر فوج کی بھی بڑی مدد کی۔ کرنل رحمت اﷲ خان اپنی پوری یونٹ سمیت اکتیس دن راجہ سیداﷲ خان کے گھر رہے جہاں یونٹ کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام راجہ سیداﷲ خان نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ ایک ایسے دور میں جب ہر انسان اپنی حفاظت کے لیے گھر بار چھوڑ کر دور دراز پہاڑی علاقوں میں چھپ رہا تھا، ایک یونٹ کو اپنے گھر رکھنا اور مہاجرین کی مدد کرنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ اس طرح کے کارناموں کی وجہ سے راجہ سیداﷲ خان حکومت وقت کی نظر میں اہم حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ ان کی سروس میں دوسرا بڑا امتحان اس وقت آیا جب پاکستان کی ایوبی حکومت نے منگلہ ڈیم کی تعمیر کے وقت لوگوں کو پرانا میرپور خالی کرنے کی درخواست کی۔ مگر متاثرین نے سخت مزاحمت کی جن میں ضیاء الحق دور کے ہمارے ایک رشتہ دار جنرل اور بے نظیر حکومت میں گورنر پنجاب راجہ سروپ خان کے والد میجر راجہ عباس خان شامل تھے۔
اس وقت راجہ سیدا ﷲ خان ایس ایچ او تھے اور فوج کے زریعے طاقت کے بل بوتے پر پرانا میرپور خالی کرانے کے خلاف تھے۔ انہوں نے جب متاثرین کے ساتھ حکومت پاکستان کو گفت و شنید کا مشورہ دیا تو میجر راجہ عباس خان اور دیگر بااثر افراد کو قائل کرنے کی ذمہ داری راجہ سیداﷲ خان کو ہی سونپی گئی جنہوں نے سب سے پہلے حکومت کے ساتھ متاثرین کے حقوق کی بات کی۔ جبکہ آج بہت کم پولیس افسروں سے ایسے مشوروں کی توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ تو صرف خود کو حکومت کے حکم کے پابند تصور کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے نصف صدی گزر جانے کے باجود ابھی تک کچھ متاثرین کو ان کے حقوق نہیں ملے اور بجلی مفت دینے کا وعدہ تو حکومت سرے سے بھول ہی گئی۔ راجہ سیدا ﷲ خان کی پیشہ وارانہ صلاحتیں ایک بار پھر قومی سطع پر اس وقت ابھر کر سامنے آئیں جب پاکستان کے اس وقت کے صدر ایوب خان نے آزاد کشمیر کے پہلے جمہوری صدر کے ایچ خورشید کے دور میں میرپور کا دورہ کیا جہاں متاثرین منگلہ ڈیم اور آزاد کشمیر حکومت کے اختیار کے حوالے سے ایوب خان اور کے ایچ خورشید کے درمیان اختلاف کھل کر سامنے آگے۔ 1960 میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے آزاد کشمیر کے آئی جی پولیس راؤ عبدالرشید نے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی قومی لیول کی ایک تقریب میں انسپکٹر راجہ سیداﷲ خان کو تمغہ خدمت دیا جو آزاد کشمیر کے کسی پولیس افسر کو ملنے والا پہلا تمغہ تھا۔
1963 میں ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کے بعد راجہ سیدا ﷲ خان کے ایچ خورشید کی جموں کشمیر لبریشن لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1966 میں یونین کونسل کھوئیرٹہ کے چئیرمین منتخب ہوئے۔ سن ستر میں سٹیٹ کونسل کا الیکشن لڑامگر مختصر علالت کے بعد دو جون 1972 کو اس دنیا سے رخصت فرما گئے۔ لیکن عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کی خوش اخلاقی اور خوش لباسی کے چرچے آج بھی زبان زد عام ہیں۔ وہ جہاں بھی بغرض ڈیوٹی گئے ایک نئی داستان چھوڑ آئے۔ فطری طور پر عوام کو کسی کے منصب سے غرض نہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کسی نے اپنے منصب کو عوم کے لیے کس طرح استعمال کیا۔ اس لیے ہر جگہ لوگ انہیں نصف صدی گزر جانے کے باوجود بھی ان کے اخلاق عوامی خدمت کے جذبہ کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔
اس علاقے کا کوئی بھی ملازم جب کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہوتا ہے تو وہاں کے لوگ انہیں راجہ سیداﷲ خان کے بارے لازمی پوچھتے ہیں۔ دو جون کو ایک بار پھر ان کی برسی کے موقع پر ان کی خدمات کو یاد کیا جائے گا۔ ہماری دعا ہے کہ آج کے سیاسی کارکنان اور پولیس افسران بھی راجہ سیداﷲ خان جیسے افسران کی تقلید کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں عوام کے محافظ اور خدمتگار بنیں۔ اور سیاسی و سرکاری اداروں کا وقار بحال کرنے میں عملی کردار ادا کریں۔