ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی بصیرت
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 01 / جون / 2017
- 3723
دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت مفاہمتی اور مصالحتی پالیسیوں کی ہے۔ دنیا کو پر امن رکھنے کی تدبیریں اور پالیسیاں اگر دنیا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک شروع کریں تو ان کے نتائج بروقت اور بہت تیزی سے رونما ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اگر امن کی خواہش صرف تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کریں گے تو یہ کسی دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں ہوگا۔
آج دنیا کا ہر ملک بلا تفریق دہشت گردی کے نشانے پر ہے۔ کہیں بم دھماکے ہورہے ہیں تو کہیں اندھا دھند گولیاں کی گھن گرج ہے۔ کہیں تو خنجروں اور ڈنڈوں سے بھی موت تقسیم کی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کا جن تمام حدیں عبور کر چکا ہے اور دنیا میں خوف پیدا کررہا ہے۔ دین و مذہب سے آزاد یہ جن کسی طرح قابو میں آنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ یہ جگہیں بدل بدل کر اپنی کاروائیاں کر رہا ہے۔ دہشت گردی جوں جوں عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے ویسے ویسے ممالک اپنی اپنی سرحدوں تک محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کسی ملک پر قبضہ کرنا اب اتنی آسان بات نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا کوئی سوچ سکتا ہے۔ کسی بھی ملک پر قبضہ کرنے کا سوچ تو سکتا ہے مگر قبضہ کرنے کی غلطی نہیں کرسکتا، ڈرا دھمکا سکتا ہے مگر ختم نہیں کرسکتا۔
آمریکہ کے نئے صدر ڈولڈ ٹرمپ جنہیں صدارتی امیدوار سے لے کر صدر بننے تک خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا مگر ان کا عزم اور حوصلہ قابلِ دید ہی نہیں قابلِ ستائش بھی رہا۔
اب وہ امریکہ کے صدر ہیں اور اپنے صدارتی اختیارات کا استعمال بھی بہت خوب انداز میں کر رہے ہیں۔ ڈولڈ ٹرمپ کے صدر بننے میں جہاں ان کی اہلیہ اور ان کی صاحبزادی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے وہیں ڈولڈ ٹرمپ کا سب سے پہلے آمریکہ کا نعرہ بھی بہت کام آیا۔ بریکسٹ بھی کچھ ایسے ہی عوامل کا نتیجہ تھا۔ اب یہ بحث کی جاسکتی ہے کہ برطانوی پالیسی ٹرمپ نے اپنائی یا ٹرمپ کی پالیسی پر برطانیہ نے پہلے سے قدم اٹھا لیا۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دوروں میں سعودی عرب سے فلسطین، اسرائیل اور پھر ویٹی کن سٹی گئے۔ اس دورے کی اہم ترین بات جو بظاہر واضح نہیں ہے وہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس سرزمینوں اور مرکزی عبادت گاہوں کا دورہ ایک ساتھ کیا ہے۔ یقیناً مذہبی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہوں گی۔ اس طرح وہ دنیا کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے دنیا میں امن و امان کی فضا قائم ہوسکے اور مذہبی تناؤ میں کسی حد تک کمی واقع ہو۔ جی ہاں، اسے دیوانے کا خواب بھی کہا جاسکتا ہے لیکن یہ قدرت کی دنیا پر مہربانی بھی ہو سکتی ہے۔
اگر ساری دنیا کہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھ آجائے کہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ایک دوسرے کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا جائے تو مسائل پر قابو پانا زیادہ آسان اور ممکن ہوسکے گا۔ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی پالیسی کے اثرات ان کے اپنے ملک کے لوگوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔