کشمیر کا مقدمہ

مقبوضہ کشمیر کا معاملہ عالمی توجہ چاہتا ہے لیکن عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلہ پر سنگین نوعیت کی بے حسی پائی جاتی ہے۔ پچھلے دو برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی داخلی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور بالخصوص وہاں کے نوجوان طبقہ نے جس جرات کے ساتھ اپنی اس جدوجہد کو آگے بڑھایا ہے ، وہ ناقابل یقین ہے ۔ اس نوجوان نسل کی مزاحمت کا احساس بھارت کی قیادت کو بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھار ت طاقت کی بنا پرکشمیر میں نوجوان نسل کی جدوجہد کو ہر صورت میں ختم یا کمزور کرنا چاہتا ہے ۔ اس وقت بھارت کی ریاستی دہشت گردی مقبوضہ کشمیر کے میں عروج پر پہنچ گئی ہے۔

حالیہ بھارتی دہشت گردی کے نتیجے میں برہان وانی شہید کی جگہ سنبھالنے والے کشمیر ی مجاہد سبزار مجاہد بھٹ کو بھی 12 ساتھیعن سمیت  ریاستی تحویل میں تشدد کرکے  شہید کردیا گیا۔ بھارت سمجھتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی اس نئی لہر کو محض طاقت کی بنیاد پر کچل دے گا۔ لیکن جو حالات مقبوضہ کشمیر کے بن رہے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت جس طرح وہاں اپنی طاقت استعمال کررہا ہے اس کا ردعمل اور زیادہ سخت ہورہا ہے ۔ بھارت کی قیادت مقبوضہ کشمیر کی نئی نسل کے ردعمل کو جانچنے یا سمجھنے میں ناکام ہورہی ہے ۔ بھارتی قیادت یہ بھول رہی ہے کہ اب جو  نسل ہے وہ سوشل میڈیا کی وجہ سے نہ صرف متحرک ہوئی ہے بلکہ اس میڈیا کے باہمی رابطوں کے عمل نے نسل کو اپنی مزاحمت میں ایک دوسرے کے قریب کرکے  اسے ایک نئی طاقت دی ہے ۔

بظاہر ایسے لگتا ہے کہ بھارت کی قیادت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کچھ نیا سوچنے کی بجائے وہی پرانے روائتی طور طریقوں سے  پر مبنی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ بھارت میں ماضی اور حال کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا پہلو بھی نظر نہیں آتا۔ بلکہ اب بھی سیاسی ڈھٹائی کے ساتھ کشمیریوں کی نسل کشی کی حکمت عملی جاری ہے ۔  بھارت کی ریاست  خاص طور پر نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرکے اسے کچلنا چاہتی ہے۔ ان نوجوانوں کو باقاعدگی کے ساتھ ہراساں کیا جاتا ہے ، اغوا کیا جاتاہے ، تشدد اور ڈرانے کی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔ گھروالوں اور بالخصوص نوجوانوں لڑکوں کی بہنوں ، بیٹیوں اور ماؤں سمیت گھر کے بزرگوں کو بھی ڈرایا جاتا ہے ۔ ان لوگوں کو ہراساں کرنے کا مقصد  نئی نسل کی مزاحمت کو روکنا ہے۔ لیکن لڑکے تو کجا خو د مقبوضہ کشمیر میں نوجوان لڑکیاں بھی اس مزاحمت میں پیش پیش ہیں ۔

ایک زمانے میں بھارت کشمیر کی جدوجہد کو  بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیتا تھا ۔ پاکستان پر براہ راست الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ نہ صرف کشمیر کی جدوجہد میں فریق ہے بلکہ پاکستان سے بھی نوجوانوں کو ریاستی سرپرستی میں کشمیر بھیجا جاتا ہے ۔ بھارت کی منطق یہ تھی کہ اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں  مداخلت بند کردے تو مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد دم توڑ دے گی۔  لیکن اب جو مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد ہورہی ہے وہ کسی خارجی طاقت کا نتیجہ نہیں ۔ اس وقت کشمیری نوجوانوں اور ان کی قیادت نے اس جدوجہد کو اپنی  استقامت اور توانا آواز کے ساتھ پوری دنیا کو اپنی  جانب متوجہ کیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیری نوجوان جو جدوجہد کررہے ہیں وہ کوئی بڑے ہتھیار وں کے ساتھ نہیں ، بلکہ یہ جنگ اپنے زور بازو پر لڑی جارہی ہے ۔ ان کا بڑا ہتھیار دشمن کے خلاف غلیل اور پتھر کا استعمال ہے ۔

اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل کی یہ جدوجہد  دنیا کے حکمرانوں کے ضمیر کو نہیں جنجھوڑ سکی ، لیکن عالمی  اداروں ، سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں اورمیڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے ۔ عالمی سطح پر یہ بات اہل دانش میں برملا کہی جارہی ہے کہ حکومتوں کی بے حسی کے باعث کشمیری جدوجہد کو پس پشت ڈالا جارہا ہے۔ لیکن یہ جدوجہد ایسی نہیں کہ اسے کوئی بھی آسانی سے نظرانداز کرسکے ۔ بھارتی فوجیوں  کے مظالم پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس ، ویڈیو فلمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے مقدمہ کو سمجھنے کے لیے کافی ہے ۔  پاکستان کشمیر کی اس جدوجہد میں کشمیروں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ حالیہ پر تشدد واقعات پر بھی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے عالمی برادری ، اقوام متحدہ ، او آئی سی سمیت انسانی حقوق سے وابستہ تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی جارحیت کے خاتمہ میں موثر کردار ادا کرکے کشمیر ی نوجوانوں کا قتل عام رکوائیں ۔ لیکن مسئلہ محض بیان بازی سے حل نہیں ہوتا ۔

پاکستان  سفارتی  محاذ پر پوری جرات سے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے نہیں لا سکا۔  ہماری حکومتیں کشمیر کی بات تو بہت کرتی ہیں ، لیکن عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آتے۔ اس کی اہم مثال کشمیر کمیٹی کے سربراہ کے طور پر مولانا فضل الرحمن کی تقرری  کا معاملہ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن پر کشمیر کمیٹی کے سربراہ کے طور پر بہت تنقید ہوتی ہے۔ ان کی تقرری ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت حکومت کی ترجیحات میں کشمیر کا مسئلہ کہاں کھڑا ہے ۔ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کا مقصد اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ لیکن وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔  حتی تک کہ کشمیر کی حالیہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر یہ میٹی کی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جو اہل کشمیر کی طرف مجرمانہ غفلت سے کم نہیں ۔  پاکستان میں بلاوجہ کشمیر کی جدوجہد کو مذہبی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ کشمیر کی جدوجہد خالصتا سیاسی جدوجہد ہے اوراس کو سیاسی تناظر یا فریم ورک میں ہی دیکھا جانا چاہیے ۔

پاکستان دنیا پر الزام لگاتا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر بے حسی کا شکار ہے لیکن خود پاکستان کو بھی اپنی سفارتی تعلقات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس نے کشمیری جدوجہد کو کس حد تک طاقت دی ہے ۔ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو حکومت سمیت اہم عہدوں پر فائز ہیں جو برملا کہتے ہیں کہ ہمیں کشمیر کے مسئلہ کو نظرانداز کرکے یا اس ایجنڈے کو پس پشت رکھ کر تجارت سمیت دیگر معاملات میں بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔  کسی حد تک جماعت اسلامی سمیت کچھ مذہبی جماعتیں اس مسئلہ کو زندہ رکھے ہوئی ہیں۔ وگرنہ یہ مسئلہ حقیقی معنوں میں محض پانچ فروری کو کشمیر کا دن منانے تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔ خود کشمیر میں موجود سیاسی قیادت اور بالخصوص نئی نسل سمجھتی ہے کہ پاکستان کا کشمیر کے معاملے میں وہ کردار نہیں جو اصولی طور پر ہونا چاہیے تھا ۔ کشمیر میں اگر یہ سوچ طاقت پکڑتی ہے کہ پاکستان ہمارے بارے میں کمزوری دکھارہا ہے تو یہ ہمارے لیے کوئی اچھا عمل نہیں ۔

کچھ عرصہ قبل پاکستان کی حکومت نے عالمی برداری کو جھنجوڑنے کے لیے ایک پارلیمانی وفد کشمیر کے مسئلہ پر مختلف ملکوں میں بھیجا ، جو اچھی کوشش تھی۔ لیکن اس میں بیشتر ارکان ایسے تھے جن کوخود کشمیر کی جدوجہد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا ۔ ایسے لاعلم  لوگ کیسے کشمیر کا مقدمہ پیش کرسکتے ہیں۔  اس طرح کے غیر اہم اور بغیر ہوم ورک کے وفود کو بھیجنا خود حکومت کی  نااہلی اور کمزوری  کو نمایاں کرتاہے ۔ حالانکہ اگر ہم بھارت  کے ریاستی ظلم وتشدد کو بنیاد بنا کر عالمی دنیا میں مضبوط انداز میں سفارت کاری کریں تو بھارت پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہاں تو المیہ یہ ہے کہ ہمارے میڈیا سمیت رائے عامہ بنانے والے ادارے اور افراد  کشمیر کے مسئلہ پر ٹھوس کردار ادا نہیں کرتے۔