پانامہ کے شور میں کوئی میری بھی سنو

پچھلے کئی مہینوں سے میرے وطن میں ہر طرف پانامہ کا شور مچا ہوا تھا اور پھر پانامہ  پر عدالتی فیصلہ آیا تو میڈیا کو ایک نیا کھیل میسر آگیا۔  ہر کوئی فیصلے پر خوش بھی تھا اور غمگین بھی۔  فیصلے سے کسی کی بھی خواہش پوری نہیں ہوئی اور سب نے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔ ابھی یہ تماشا  جاری تھا کہ اوپر سے ڈان لیکس کھیل شروع ہو گیا ۔ صد شکر کہ اس کی دھول کچھ بیٹھ گئی ہے۔ لیکن پانامہ کا نیا ایڈیشن جاری ہے اور ہمارے سارے سیاستدان اور میڈیا پانامہ پر سوار ہو کر اپنی اپنی اڑان میں بازی لے جانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اس سارے شور کی دھول اور طوفان میں غریب عوام کی کوئی نہیں سنتا۔ میں آج آپ کو اور بالخصوص ارباب اختیار کو عوامی مسائل کی  جھلکیاں دکھانا چاہتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ کوئی ان پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ آئیے سب سے پہلے آپ کو آزاد کشمیر کے ایک ضلع بھمبر کے مرکزی تھانے کی سیر کرائیں۔ یہ تھانہ سٹی بھمبر کے نام سے مشہور ہے اور اسی جگہ پر موجود ہے جہاں سیکڑوں سال قبل اسے ڈوگرہ راج میں تعمیر کیا گیا تھا۔  البتہ اس کی عمارت کو 1984 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا لیکن ہوبہو اسی طرز پر اور اتنی ہی جگہ پر جو ڈوگرہ راج سے تھی۔ میرے خیال میں پورے تھانے کی عمارت لگ بھگ ایک سے ڈیڑھ کنال اراضی پر مشتمل ہے جس کے اندر 2 عدد حوالات (زنانہ اور مردانہ) بھی ہیں۔ اسی کے اندر تھانے کا دفتر، ایس ایچ او صاحب کا دفتر اور ملازمین کی رہائشیں بھی ہیں۔ بندہ تھانے کے اندر داخل ہوتے ہی خود کو ملزم محسوس کرنے لگتا ہے اور یہ لگتا ہے کہ میں حوالات میں بند ہوں۔ میرے خیال میں پولیس ملازمین اور حوالاتیوں میں اتنا سا فرق ہے کہ ملازمین کبھی کبھار باہر کی ہوا  بھی  کھا سکتے ہیں ورنہ وہ بھی حوالاتیوں کی طرح 24 گھنٹے ڈیوٹی پر حاضر اور اسی حوالات جیسے تنگ ماحول میں ہی محبوس رہتے ہیں۔  تو  خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ان ملازمین کا اخلاق اور عوام سے سلوک کیسا ہوگا۔  اوپر سے ان کی کوئی باقاعدہ تربیت ہوتی ہے نہ تنخواہیں ایسی کہ ان کا گزارا ہو سکے۔

میرے خیال میں سپاہیوں کی اوسط تنخواہ 25 سے  30 ہزار روپے ہے اب کوئی معاشیات کا ماہر مجھے اس تنخواہ میں صرف 5 لوگوں کے باورچی خانے کا بجٹ بنا کر دکھا دے۔ کپڑے، جوتے،  سکولوں کی فیس،  آمدورفت اور غمی خوشی کو رہنے دیں صرف باورچی خانے کا بجٹ بنا دیں۔ میں نے 5 لوگوں کے کچن کا بجٹ کہا ہے حالانکہ خیر سے  5 سے زیادہ تو بچوں کی اوسط پیداوار ہے۔ پھر ماں باپ کی خدمت اور بہنوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں۔  ان حالات میں آپ پولیس ملازمین سے تحفظ فراہم کرنے کی توقع کرنے کی بجائے پولیس پر اپنے تحفظات کی توقع ہی کر سکتے ہیں۔ بات یہاں تک ہی ہوتی تو بھی خیر تھی تھانے والوں کے پاس کام کی کوئی گاڑی ہے نہ اسلحہ۔ دفتر میں لکھنے کو کاغذ ہے نہ پین۔ کمپیوٹر کی تو ابھی بات ہی نہ کریں!  پھر ان حالات میں ہم یہ توقع کیوں کر کر سکتے ہیں کہ پولیس ہمارا تحفظ کرے گی اور ہمارے ساتھ بہترین سلوک کرے گی۔

بات یہاں  ختم نہیں ہوتی۔ تھانوں میں سیاسی مداخلت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مدعی اور ملزمان سے پہلے سیاسی راہنما یا ان کے گماشتے تھانے میں پہنچ  جاتے ہیں اور اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ اپنی پارٹیوں کی طاقت اور دھونس جما رہے ہوتے ہیں۔ اب ایسے میں ایس ایچ او صاحب یا دوسرے ملازمین کدھر جائیں کیا کریں۔ پھر یہی ہمارے سیاستدان رشوت کا لالچ بھی دیتے ہیں اور سائلین سے پیسے بٹور کر پولیس کو بھی دیتے ہیں اور کچھ اپنی جیبوں میں بھی ڈال لیتے ہیں۔ لیکن حرام ہے کہ یہی سیاستدان کبھی اسمبلیوں کے فلور سے پولیس کے لیے ایک لفظ بھی بول دیں یا تھانوں کی حالت زار میں کوئی تبدیلی لانے کی تحریک پیش کر دیں۔ کون سا سیاسی لیڈر یا اس کے گماشتے ہیں جو تھانوں کی اس حالت زار سے واقف نہیں ہیں لیکن کیا مجال کہ وہ اس طرف دھیان دیں۔ تھانوں میں نفری کی کمی کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی تھانے کی حدود میں بیک وقت 3 وارداتیں ہو جائیں تو نفری پوری نہیں ہو سکتی ہے۔ البتہ حکومتی اعلی شخصیات اور سیاست دانوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت پولیس چوکس رہتی ہے۔ میں نے صرف ایک تھانے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے بہت سے تھانوں کی حالت بھمبر تھانے سے بھی گئی گزری ہے۔

میرا سیاستدانوں اور حکومت سے سوال ہے کہ وہ کب اس صورت حال پر غور کریں گے۔  اگر کوئی وسائل کا رونا روئے تو بالکل غلط ہوگا۔ بات وسائل کی نہیں بلکہ  ترجیحات کی ہے ورنہ وسائل کا اندازہ وزراء کے ٹھاٹھ باٹھ سے بھی لگایا جاسکتا ہے اور ان کے خاندانوں کے زیر استعمال گاڑیوں سے بھی۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ جن اداروں نے ملک میں قانون کی عملداری قائم کرنی ہے، جن کے بل بوتے پر آپ کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل درآمد ہونا ہے، جنہوں نے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، وہ تو آپ کی ترجیحات میں کہیں نظر ہی نہیں آتے تو پھر آپ سے کس بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام مہذب ممالک میں جہاں پر لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں اور ہر آدمی کو پولیس دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے ، ان تمام ممالک نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سب سے پہلے توجہ مبذول کی ہے اور نہ صرف ان کی تربیت جدید خطوط پر کی ہے بلکہ ان کی تنخواہیں بھی بہت معقول ہیں۔ میں یہاں صرف ناروے کی مثال پیش کرتا ہوں جہاں پر پولیس کی بھرتی اور تربیت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ اگر پورے ملک میں ایک ہزار نئی آسامیاں درکار ہوں اور ان کو مشتہر کیا جاتا ہے تو لگ بھگ 12 ہزار لوگوں میں سے ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل صحت مند اور ہوشیار لوگوں کو بغیر کسی سفارش یا لالچ کے منتخب کیا جاتا ہے ۔  پھر 3 سال تک ان کو پولیس کے سکول میں تعلیم دی جاتی ہے۔ تب جا کر ایک سپاہی بنتا ہے اور اس کی تنخواہ کا تعین ملکی حالات اور قیمتوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ خود پاکستان میں موٹروے پولیس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لہذا میرا خیال نہیں کہ ہماری پولیس کے معاملات درست کرنے میں وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ خالص حکمرانوں کی نیت اور ترجیحات کا مسئلہ ہے۔ 

یہ تو تھا تھانوں کی حالت کا معاملہ۔ اب آئیے مزدوروں کی حالت زار پر ایک نظر ڈال لیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح پیدائش بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہو اور آبادی میں اضافہ اس طرح ہو جیسے خود رو جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں تو ایسے ملکوں کی طاقت اور سرمایہ اس کی افرادی قوت ہوا کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں  مزدور کی جو حالت ہے، اس سے کہیں بہتر سڑکوں پر مانگنے والے فقیروں کی حالت  ہے۔ اسی لئےتو آج کل پاکستان کے شہروں میں مزدور اپنے اوزار اٹھائے سڑکوں پر مانگتے نظر آتے ہیں اور یہ پہچان کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی فقیر ہے جس نے مزدور کا روپ دھار لیا ہے یا کوئی مزدور ہے جو فقیر بننے پر مجبور ہو گیا ہے۔ ہم گاؤں میں مکان بنوا رہے ہیں اور ایک ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دے رکھا ہے۔  مئی اور جون کی تپتی دوپہروں میں کام کرنے والے مزدور کو پورے دن کا جو معاوضہ ملتا ہے وہ  550 روپے یومیہ ہے۔ ہفتے میں 6 دن کام کرکے جو مہینے بھر کی اس کی کمائی بنتی ہے وہ لگ بھگ 13 ہزار ہے ۔ اب اگر شوکت عزیز کو بھی واپس ملک میں بلوا کر کہیں کہ وہ 13 ہزار میں کسی چھوٹی سے چھوٹی فیملی کے باورچی خانے کا بجٹ بنا دیں تو کیا یہ ممکن ہوگا۔

ہمارے سیکنڈلز زدہ سیاستدانوں اور تجارتی میڈیا کو کوئی خبر ہے کہ اس ملک کے مزدور کس حال میں ہیں۔ ہمارے ریمارکس کے دلدادہ ججز صاحبان جو خود 7 لاکھ تنخواہ کے علاوہ بےتحاشا سہولیات لیتے ہیں کبھی پاکستان کے مزدوروں کی حالت زار پر بھی کوئی ازخود نوٹس لیں گے۔ خدارا ذرا سوچئے۔ مگر ہمارے سیاستدانوں،   میڈیا اور  عدالتوں کا یہ مسئلہ ہی کہاں ہے۔ وہ سب تو ایسے مسائل خود تخلیق کرتے ہیں جن میں ان سب کی ریٹنگ بڑھے ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کا سامان ہو۔ جیسا کہ این آر او،   میموگیٹ یا اب  پانامہ کیس۔ (یاد رہے کہ اگر پانامہ کے مقدمے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو تو یہ ایک اچھی روایت ہوگی) لیکن ان پاپولر مقدمات کے ساتھ ساتھ عوام کے حقیقی مسائل پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ دنیا کے ان تمام ممالک نے جن کی آبادی زیادہ ہے اپنی افرادی قوت پر توجہ مرکوز کرکے ان کو ہنر مند بنایا ہے اور  مزدور کے کم از کم معاوضوں کو حالات کے تناظر میں مقرر کرکے افرادی قوت سے بھر پور فائدے اٹھائے ہیں۔  انڈونیشیا اور چین کی مثال آپ کے سامنے ہے۔