محمد علی چراغ

یہ 1977 کی بات ہے ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی ملک گیر تحریک کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ ہو چکا تھا اور جنرل ضیاءالحق کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین میں لیاقت بلوچ کی صدارت چل رہی تھی۔ ہم میں سے کچھ خوش خوش اور کچھ سہمے سہمے طلبہ داخلہ لے کر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں پہنچے تھے جہاں لیاقت بلوچ ہمارے استقبال کے لئے پہلے سے موجود تھے کہ وہ اس شعبے کے طالب علم تھے۔ صحافت کی ابتدائی کتب کے شہرہ آفاق مصنف ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اس شعبہ کے سربراہ تھے۔ اساتذہ میں مسکین حجازی، وارث میر، مہدی حسن اور شفیق جالندھری شامل تھے۔ ڈاکٹر روشن آرا راؤ بطور ریسرچ سکالر تھیں۔ ابھی کلاسیں شروع ہی ہوئی تھیں کہ ڈاکٹر ٹی آر خالد بطور اسسٹنٹ پروفیسر اس شعبے سے وابستہ ہو گئے۔

ہمارے کلاس فیلوز میں رخسانہ نور اور توقیر ناصر بھی تھے جبکہ سینئرز میں شعیب بن عزیز، اشرف عظیم، افتخار مجاز، امجد شاہین، ذوالفقار مرحوم، حسن نواز تارڑ، نیلوفر زبیری، عابدہ پروین اور اعجاز سہیل جیسے نابغہ روزگار لوگ شامل تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ اخبارات پر سنسر شپ عائد تھی اور ملک کا اکلوتا ٹی وی چینل پی ٹی وی مارشل لا ایڈمسٹریٹر کی سرگرمیوں، فوجی عدالتوں کے فیصلوں اور مارشل لا آرڈیننسوں کی تشہیر میں لگا ہوا تھا۔ لیکن یہی وہ دور بھی تھا جب پی ٹی وی کے ڈراموں میں بلا کی کشش اور دلچسپی تھی۔ ملک کے اندر ان ڈراموں کے نشر ہونے کے اوقات کے دوران سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات تاخیر کا شکار ہوتیں اور گھریلو اور سماجی زندگی کے معمولات میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی جاتی تھی جس کی وجہ ان ڈراموں کی مقبولیت تھی۔ سرحد پار بھارت میں بھی یہ مقبولیت فیصلہ سازوں کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی تھی جبکہ امریکہ، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ایشیائی باشندے ان ڈراموں کی کیسٹیں دھڑا دھڑ خرید رہے تھے۔ گویا یہ پی ٹی وی ڈرامے کا دور تھا۔ ان ڈراموں کو شکیل احمد، عظمیٰ گیلانی، شجاعت ہاشمی، روحی بانو، اورنگ زیب لغاری، جاوید شیخ اور ان جیسے دوسرے فنکاروں نے اپنی جاندار اداکاری کے ذریعے مقبول بنایا تھا۔ اور ان کے لکھنے والوں میں امجد اسلام امجد، فاطمہ ثریا بجیا، عطاءالحق قاسمی، حسینہ معین اور نور الہدیٰ شاہ جیسے لکھاری شامل تھے۔ جنہوں نے اپنی جانداری تحریروں سے ان ڈراموں کو ٹی وی ناظرین کے لئے ناگزیر بنا دیا تھا۔

ان دیوہیکل ڈرامہ نگاروں کے ساتھ اُن دنوں ایک نام اوربھی چل رہا تھا۔ یہ نام تھا محمد علی چراغ کا۔ ٹی وی پر ان کے کئی ڈرامے مقبول ہو چکے تھے لیکن ہمارے لئے ان کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کے اسی شعبہ صحافت سے فارغ التحصیل تھے جہاں ہم اس وقت اپنی قسمت آزما رہے تھے۔ ہمارے اساتذہ ان کا نام ہمیشہ محبت اور احترام سے لیتے۔ جن نامور سابق طلبا کا وہ ہمارے سامنے تذکرہ کرتے ان میں محمد علی چراغ کا نام ضرور شامل ہوتا۔ اس طرح 1977 ہی سے ہمیں ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہو چکا تھا۔ اور خوش قسمتی سے اپنے شعبہ کے ان تمام نامور سابق طلبا سے ہمیں بہت جلد ملنے کا نادر موقع مل گیا تھا۔ کچھ سے ملاقات کا اہتمام ہمارے اساتذہ نے کر دیا اور باقی سے ہم اپنی کوششوں سے مل لئے۔ مگر محمد علی چراغ سے ملاقات نہ ہو سکی جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو وہ اسلام آباد میں ہوتے تھے دوسرے وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے ایک گوشہ نشین فرد تھے۔ تقریبات اور میل ملاپ سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اپنے دور طالب علمی اور بعد کی عملی زندگی کے دوران جب کبھی سابق طلبا کا ذکر آتا ان کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ میں کیا جاتا۔ اور ایسے میں مجھے اپنی کوتاہی کا زیادہ شدت سے احساس ہوتا مگر ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکلتی۔

یہ 2015 کی ایک ڈھلتی ہوئی سہ پہر تھی۔ مولانا ظفر علی خان کے پوتے اور ظفر علی خان ٹرسٹ کے متحرک سیکریٹری  راجہ اسد علی خان سے ملنے کے لئے میرا ٹرسٹ کے دفتر جانا ہوا۔ راجہ اسد علی خان کے کمرے سے پہلے والے کمرے میں ایک چھوٹی سی میز پر درجنوں کتابیں سلیقے سے چنی ہوئی تھیں اور میز کے پیچھے چھوٹی چھوٹی داڑھی والے ایک منحنی سے صاحب نہایت سنجیدگی سے بیٹھے اپنا کام کر رہے تھے۔ میں نہ جانے کیوں ان کی جانب بڑھ گیا۔ سلام کرکے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا تو دوسری جانب سے گرمجوشی اور مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملانے والے شخص نے ”محمد علی چراغ“ کہا، مجھ پر تو ایک لمحے کے لئے سکتہ سا طاری ہو گیا۔ جس شخص سے کوشش اور خواہش کے باوجود میں 37 سال تک نہیں مل سکا تھا آج کسی کوشش کے بغیر وہ شخص میرے سامنے تھا۔ انہوں نے فوراً ہی کرسی پیش کر دی۔ میں نے 37 سال کی یہ کہانی جلدی جلدی بیان کی۔ وہ بھی محبت اور اپنائیت کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میں راجہ اسد سے ملنے آیا تھا۔ ان کے یاد کرانے پر میں جلدی جلدی راجہ اسد سے ملا اور فارغ ہو کر پھر محمد علی چراغ کے پاس آ بیٹھا۔

اس دوران ماضی کے بہت سے دوستوں کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قصور سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی آئے تھے۔ لکھنے لکھانے کا شوق انہیں پہلے سے تھا۔ پنجاب یونیورسٹی اور شعبہ صحافت میں جو تحریری مقابلے ہوتے ان میں ہمیشہ وہ انعام کے مستحق قرار پاتے۔ ان کی تمام تر دلچسپی تعلیم اور لکھنے لکھانے سے تھی۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد انہیں نیشنل بک فاﺅنڈیشن میں ملازمت مل گئی۔ یہ کام ان کے مزاج کے مطابق تھا۔ چنانچہ وہ مطمئن ہو کر اپنا کام کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے پی ٹی وی کے لئے کئی ڈرامے اور طلبائے صحافت کے لئے کچھ کتابیں بھی لکھیں۔ بعض کتابوں پر انہیں ایوارڈ بھی ملے۔ وہاں سے ریٹائر ہو کر ظفر علی خان ٹرسٹ میں آئے۔ بچوں کا ذکر آیا تو یک دم ان کے چہرے پر خوش مزاجی کی جگہ غم کے گہرے تاثر نے لے لی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ دو سال قبل ان کا ہونہار جواں سال بیٹا اچھرہ نہر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ باقی بچے شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ ڈوبنے والے بیٹے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک کالج میں استاد تھا۔ دوستوں کے ساتھ گھر کے قریب ہی نہر پر نہانے گیا تھا کہ موت نے آ لیا۔

محمد علی چراغ کے ساتھ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک بار مولانا ظفر علی خان کے مزار واقع کرم آباد وزیر آباد میں ان کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔ پھر جب بھی موقع ملتا تھا یا ظفر علی خان ٹرسٹ جانا ہوتا ان سے ملاقات اور گفتگو ہوتی۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ وہ ناروے میں مقیم پاکستانی صحافی سید مجاہد علی اور ہمارے مشترکہ دوست  رفیق چوہدری کے بہنوئی ہیں۔ ایک بار پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی و روح رواں ڈاکٹر شریف نظامی سے معلوم ہوا کہ چراغ صاحب ان کے ہمسائے اور انتہائی شریف النفس انسان تھے مگر جوان بیٹے کے غم نے انہیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ مولانا ظفر علی خان کی برسی پر میں نے راجہ اسد علی خان کی خواہش پر کراچی پریس کلب میں ایک تقریب کا اہتمام کرایا تو اس کے سارے انتظامات اور رابطے محمد علی چراغ نے ہی کئے۔ ان سے محبت اور تعلق کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ظفر علی خان ٹرسٹ کے دیرینہ کارکن رستم علی خان کی ای میل کے ذریعے محمد علی چراغ کے  انتقال کی خبر ملی۔ ای میل میں یہ وضاحت بھی موجود تھی کہ انہیں نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک بھی کر دیا گیا ہے۔

دل کو ایک جھٹکا لگا مگر یہ اللہ کی رضا ہے اور زندگی اور موت کا ازل سے جاری یہ کھیل اسی طرح چلتا آ رہا ہے۔ فوری طور پر اس حادثے کی اطلاع سید مجاہد علی کو دی تو معلوم ہوا کہ انہیں پہلے سے اطلاع ہے۔ انہوں نے بھی مرحوم کی بڑی تعریف کی۔ آج یہ تحریر لکھتے ہوئے دکھ کا ایک احساس ہو رہا ہے کہ مرحوم کے ساتھ 39 سال کا یہ تعلق یوں ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کے اے لعین
تونے “یہ“ گنج ہائے گرایہ مایہ کیا کئے