پارس ہاتھ ہمیشہ نہیں رہتا

  • تحریر
  • جمعہ 02 / جون / 2017
  • 4214

اس کے ہاتھوں میں کچھ خاص ہے، مٹّی کو بھی ہاتھ لگا دے تو سونا بن جاتی ہے۔ انگریزی میں اسے Midas touch کہتے ہیں۔ اس قدر جادوئی ہاتھوں پر بھی لیکن وہ وقت آتے دیکھا کہ انہوں نے سونے کو بھی ہاتھ لگایا تو مٹّی ہو گیا۔ کمال کی ایسی کہانیوں میں ہم میں سے اکثر کو صرف کامیابیوں کے روشن مینار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ٹریننگ کورسز ہوں یا گرومنگ کی کوچنگ کلاسز، ٹرینرز سارا زور کامیابیوں کی آبشار کی جلترنگ سنوانے اور دکھانے پر دیتے ہیں۔ اس لئے کہ لوگ باگ اس نسخہء کیمیا کی دریافت کرنے ہی تو آتے ہیں لیکن اس کے باوجود پارس بنانے کی صلاحیت ہر ایک کے ہاتھ نہیں آتی یا ہاتھ آئے تو ہمیشہ نہیں رہتی۔

ایک بزرگ سے منسوب ایک قول کچھ یوں ہے کہ میں نے عقل احمقوں سے سیکھی۔ پوچھنے والا ہکّا بکّا رہ گیا۔ پوچھا، حضور وہ کیسے؟۔ بولے، میں نے ہر وہ کام کرنے سے گریز کیا جسے کسی بھی احمق نے سر انجام دیا۔ چند سال قبل پلاننگ کمیشن نے چند تحقیقی مقالوں کے لئے تجاویز منگوائیں۔ ہم نے بھی ایک ٹیم ممبر کے طور پر اس میں شرکت کی۔ اپنی کاروباری مشاہدے میں کامیابیوں سے کہیں زیادہ ناکامیوں کو وارد ہوتے دیکھا۔ مشاہدہ یہی ہوا کہ نئے کاروبار میں سے اسّی فی صد پہلے سال ہی ناکام ہو جاتے ہیں۔ بمشکل دس فیصد کاروبار دوسری سالگرہ کو پہنچ پاتے ہیں۔ بھرپور کامیابی فقط تین یا چار فی صد کے حصے میں آتی ہے، باقی کے حصے میں درمیانی کامیابی ہی آتی ہے۔ ہم نے اپنی ریسرچ کے لئے یہ نکتہ پیش کیا کہ کامیابیوں کو تو ہر ایک موضوع بناتا ہے، کیوں نہ ناکام ہونے والے افراد اور اداروں پر تحقیق کی جائے کہ کون کون سے ایسے فیصلے یا عوامل تھے جو ان کی ناکامی کا سبب بنے۔ کمیٹی نے ہمارے خیال کو بہت سراہا اور اِسے ایک اوریجنل خیال بھی مانا۔ لیکن اس کے باوجود اس بناء پر نامنظور کر دیا کہ ایسے لوگوں اور اداروں کو ڈھونڈنا اور معقول تعداد کا Sample بنانا مشکل ہوگا۔ ہم نے باور کروانے کی کوشش کی کہ کامیاب لوگوں سے کہیں زیادہ ناکام لوگوں کی تعداد ہے، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں لیکن طے شدہ سانچے سے باہر سوچنے کا مشورہ دینا آسان اور اس پر عمل  مشکل ہے۔ اس وقت کے پلاننگ کمیشن کے چیف کی سربراہی میں اس کمیٹی نے ہماری تجویز کو سراہا لیکن اپنی تکنیکی مجبوری کو نبھانا زیادہ ضروری خیال کیا۔

ہمیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایسے کئی مشاہدے ہوئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لوگ یا ادارے کامیابیوں کی سیڑھی پر یوں پھلانگتے ہوئے چڑھے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے ۔ لگ بھگ پچیس سال قبل ایک درمیانے درجے کی تعمیراتی کمپنی کے مالک نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں ٹیکسٹائل ملز تعمیر کیں۔ پھر ایک ٹیکسٹائل ملز میں شراکت بھی کرلی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس سال روئی کی خریداری میں ان کو پون بارہ نکلے۔ منافع تھا کہ پیداوار کے پہلے ہی سال سنبھالنے میں نہ آرہا تھا۔ ہم نے اس دور میں ان کی نوزائیدہ فراست کو گھنٹوں سنا۔ لوگ ان سے قربت کے خواہاں دیکھے۔ ان کے ہاں کی پارٹیوں کی شہر میں خوب دھوم رہتی۔ مگر پھر یوں ہوا کہ ان کے ہاتھ سے پارس کی صلاحیت چھن گئی۔ اس کے بعد کے دن اذیت ناک ثابت ہوئے۔ رشک سے دیکھنے والے توبہ توبہ کرتے دیکھے۔ اسی طرح اس زمانے میں تین چار مزید اداروں اور شخصیات کو دیکھا جن کی قربت کے لئے اکثر احباب کو اس لئے بے چین پایا کہ وہ ان کی کامیابی کا گر جاننے کے لئے بے چین تھے۔ ان کے ساتھ بھی کچھ یہی کہانی بیتی کہ پارس ہاتھوں سے وہ اثر کسی دن اچانک کھو گیا۔

گزشتہ دنوں ایک فرانسیسی بزنس مین کی کہانی پڑھی تو یوں لگا جیسے افسانہ ہو لیکن یونانی المیے کے سے انجام نے توجہ کا دامن کھینچ لیا ۔ پارس ہاتھوں کی کلاسیک کہانی۔ برنارڈ تاپی فرانس کا مشہور بزنس مین ہے۔ چوہتّر سالہ برنارڈ نے ایک عام سے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بچپن میں اس کا خواب ایک پاپ سنگر بننے کا تھا۔ لڑکپن میں وہ چند گیت ریکارڈ کروانے میں کامیاب بھی ہوا لیکن میوزک کے میدان میں نمایاں توجہ حاصل نہ کر سکا۔ چند سال بعد سٹار بننے کے شوق میں اس نے فارمولا تھری کی ریس میں قسمت آزمائی کی لیکن اس کی کار ایک شدید حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس کے خواب اور وہ ہسپتال کے بیڈ سے جا لگے۔ وہ تین روز کومے کی حالت میں رہا لیکن قسمت نے یاوری کی اور صحت یاب ہو گیا۔ بعد ازاں اس نے ٹی وی سیٹ بیچنے کی ایک عام سی ملازمت اختیار کر لی۔ اس میدان میں وہ حیران کن حد تک کامیاب ہوا۔ اس نے دو سال بعد ہی اپنا الیکٹرونکس کا اسٹور کھول لیا۔ اس کے بعد تو جیسے کامیابیوں کے ایک کے بعد ایک درازے اس پر کھلتے گئے۔ اسّی کی دِہائی میں اس نے ایک دلچسپ بزنس ماڈل اپنایا۔

برنارڈ دیوالیہ کمپنیوں کو اونے پونے داموں خریدتا۔ اپنے ذہن رَسا سے ان کمپنیوں کو کامیاب بنانے کے آئیڈیاز آزماتا، انہیں کامیاب بناتا اور ڈھیر سارے منافع کے ساتھ کچھ عرصے بعد بیچ دیتا۔ اس کامیاب بزنس ماڈل کے تحت اس نے مختلف مینیو فیکچرنگ ادارے، سپورٹس وئیر ، فٹ بال کلب، بائی سائیکل ریس کلب، میوزک گروپ، کیسینو جیسے کئی بزنس خریدے اور کامیاب بنا کر بیچے۔ یوں پینتیس سال کی عمر میں برنارڈ کروڑ پتی بن چکا تھا۔ بچپن کا اسٹار پاور کا جنون بدستور اس پر سوار رہا ۔ اس نے سیاست میں قسمت آزمائی کی اور کامیاب رہا۔ 1992 میں صدر فرانسیو متراں کی کابینہ میں وزیر بننے میں کامیاب ہوگیا۔ اس دوران اس نے کئی ٹی وی ٹاک شوز کی ہوسٹنگ کی، سٹیج ڈراموں اور چند فلموں میں اداکاری بھی کی لیکن ہوا یوں کہ اس کی ان کامیابیوں کے سنگ سنگ اس کی مشکلات کا زمانہ بھی شروع ہو گیا۔ کرپشن کے الزام میں اس پر کئی مقدمات قائم ہوئے۔ کچھ میں وہ بری ہوا لیکن کئی ایک میں اسے جرمانے کی سزا ہوئی۔ ایک مقدمے میں اسے آٹھ ماہ کی جیل بھی ہوئی۔ اس زمانے میں اس کا ایک طویل قانونی معرکہ شروع ہوا۔ اس نے ایک سپورٹس کمپنی میں اپنے حصص ایک بینک کے ذریعے بیچے۔ دو سال بعد اسی بنک نے اس کمپنی کے حصص ایک جرمن سرمایہ کار کو دوگنی قیمت پر بیچ دئیے۔ برنارڈ نے اس بنک پر دعویٰ دائر کر دیا کہ بنک نے دانستہ طور پر اس کے حصص کی قیمت کم لگائی تاکہ وہ بعد ازاں دوسرے خریدار سے خفیہ طور پر فائدہ حاصل کر سکے۔

اس بینک کے زیادہ تر حصص حکومت کے پاس تھے۔ آئی ایم ایف کی موجودہ سربراہ اس وقت فرانس کی وزیر تھیں۔ انہوں نے یہ کیس ثالثی کے لئے ریفر کر دیا جس نے بینک کو چار سو ملین یورو کا ہرجانہ برنارڈ کو ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس دوران بینک نے کاروبار بند کر دیا تھا اس لئے اس وقت کی وزیر کرسٹین لاگارڈ نے یہ رقم قومی خزانے سے ادا کرنے کا حکم دیا۔ 2007 کے انتخاب میں برنارڈ نے سرکوزی کی حمایت کی۔ ناقدین کا الزام تھا کہ اسے چار سو ملین یورو کی ادائیگی اسی حمایت کے صلے میں کی گئی۔ گزشتہ سال اعلیٰ عدالت نے کرسٹین لاگارڈ کو اس معاملے میں غفلت کا مرتکب قرار دیا۔ بینک نے اس دوران سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جس نے گزشتہ ہفتے برنارڈ کے خلاف فیصلہ سنایا اور اسے یہ رقم واپس کرنے کا حکم دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ برنارڈ کی کل دولت جس میں اس کا عالی شان گھر، ذاتی جہاز، پر تعیّش بحری کشتی بھی شامل ہیں کا تخمینہ تین سو ملین یورو کے لگ بھگ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ برنارڈ کو ایک کامیاب کاروباری، سیاسی اور میڈیا اسٹار پاور کے باوجود شاید ایک بار پھر جیل کی ہوا کھانی پڑے گی کیونکہ اس کے اثاثے رقم کی ادائیگی کے لئے ناکافی ہیں۔ گو برنارڈ قانونی طور ایک موہوم سی امید کی حامل اپیل کے آسرے پر اپنے آپ کو بچانے کے لئے پرعزم ہے لیکن حالات کا دھارا اس کے الٹ چل رہا ہے۔

پارس ہاتھوں سے کامیابی کی صلاحیت کھو جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں لیکن کامیابی کے راستوں پر دیومالائی معرکہ خیزیوں کے بعد ایسی کہانی کا یہ انجام بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اوّل یہ کہ کامیابی کی تہہ میں شارٹ کٹ اور کرپشن کی فالٹ لائن کسی بھی وقت سونامی لا سکتی ہے۔ یہ سونامی اس وقت اور بھی عبرتناک ہوتا ہے جب عمر کا سورج پچھلے پہر سے غروب کی طرف ڈھل رہا ہو۔ دوم یہ کہ پارس بنانے کی صلاحیت کو ہمیشگی حاصل نہیں، سو اس کی بنیاد پر زندگی کا ایسا داؤ کیوں لگانا کہ عزّتِ سادات بھی جائے اور زندگی کی آسودہ سامانی بھی !