مریم اورنگزیب کون ہے
ان دنوں سوشل میڈیا پر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے خاندانی پس منظر پر ایک تحریر گردش کر رہی ہے جس میں حقائق کو مسخ کرکے اور جھوٹ بہتان تراشی کا سہارا لے کر ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں اور میں حکومت کی بہت سی پالیسوں کا ناقد ہوں۔
اتفاق سے بچپن میں ہم سٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی جس گلی میں رہائش پذیر تھے، مریم اورنگزیب کی خالہ سینٹر نجمہ حمید بھی اسی محلے کی رہائشی تھیں۔ مریم اورنگزیب کی والدہ بھی قریب ہی واقع مری روڈ پر رہائش رکھتی تھیں۔ ہمارا بچپن اس خاندان کے بچوں کے ساتھ کھیلتے گزرا۔ سیاسی طور پر میرے والد محترم پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھتے تھے لیکن اس دور کی محلے داری رشتہ داری کی طرح ہوتی تھی جس میں مختلف مذہبی مسالک اور سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کا باہمی احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ۔ نجمہ حمید اور طاہرہ اورنگزیب کا خاندان رواداری مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھا۔ مریم اورنگزیب کے نانا سید محمد علی شاہ ملتان کی معروف کاروباری اور سماجی شخصیت تھے۔ تقسیم ہند سے قبل ایک انگریز مالک کی کاٹن فیکٹری میں جنرل مینیجر تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اسی کاروبار سے وابستہ ہو گئے اور پھر ان کی ملکیتی کاٹن جننگ مل کی شہرت جنوبی پنجاب میں پھیل گئی۔ شاہ صاحب علاقے کے روایتی زمینداروں کے مقابلے میں ترقی پسند سوچ رکھتے تھے۔ اللہ نے انہیں پانچ بیٹیوں سے نوازا۔ اس زمانے میں انہوں نے علاقائی روایات کے برعکس بیٹیوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ان کی بیٹیوں میں سے دو نے ایم اے اور ایک نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کیا۔
مریم اورنگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔ جاوید ہاشمی ان کے یونی ورسٹی میں ہم عصر تھے۔ مریم اورنگزیب کے دادا راجہ کالا خان مرحوم مری سے تعلق رکھتے تھے وہ علاقے کے معروف زمیندار تھے۔ تحریک پاکستان کے دنوں سے ہی مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ قاعد اعظم ان کی دعوت پر مری تشریف لے گئے اور پھر 1947کے انتخابات میں راولپنڈی اور مری کی نشست سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ لیاقت علی خان اور دیگر مسلم لیگی راہنما متعدد مرتبہ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ نجمہ حمید اور طاہرہ اورنگزیب نے گراس روٹس سطح سے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نظام مصطفی تحریک میں دونوں بہنیں پیش پیش تھیں۔ راولپنڈی چونکہ اقتدار کا مرکز تھا لہذا کئی اہم اجلاس ان کے گھر منعقد ہوتے تھے۔ جنرل ضیاء کے دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں دونوں بہنیں کونسلر منتخب ہوئیں۔ 1985 کی اسمبلی میں نجمہ حمید رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئیں اور پھر وزیر اعلیٰ نواز شریف کی کابینہ کا حصہ بنیں۔
جنرل مشرف کے دور اقتدار میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی راہنما شیخ رشید، اعجاز الحق اور راجہ بشارت وغیرہ قاف لیگ میں شامل ہو گئے لیکن یہ خاندان استقامت اور حوصلے سے مشرف آمریت کا مقابلہ کرتا رہا۔ اکثر جب محترمہ کلثوم نواز اٹک قلعے میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے آتیں تو نجمہ حمید اور طاہرہ اورنگزیب کے گھر قیام کرتیں۔ ایک بار محترمہ کلثوم نواز کو نجمہ حمید کے گھر نظر بند کر دیا گیا۔ میرے عزیز دوست اور سی ایس پی آفیسر عمر حمید بھی گھر پر نظر بند ہو گئے اور دفتر نہ جاسکے۔ المیہ یہ تھا کہ نظر بندی کے احکامات دینے والا افسر عمر حمید کا کورس میٹ اور دوست تھا۔
طاہرہ اورنگزیب 2008 میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ مریم اورنگزیب قاعد اعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ بعد ازاں کنگز کالج لندن سے بھی ماحولیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ کیا درمیانے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کا سیاست میں حصہ لینا جرم ہے۔ اور کب تک ہم سیاسی پسند اور ناپسندیدگی کی بنا پر حقائق کو مسخ کرتے رہیں گے۔ اور ہماری سیاست یہاں پگڑی اچلھتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں، کے گرد گھومتی رہے گی۔