کیا ہم تین دن کےلئے متحد ہوسکتے ہیں

بجلی پانی سے ذرا فراغت ملے تو ہمارے پاس تیسرا اور بہت ہی بڑا مسلئہ مہنگائی کا ہے۔ برکتوں رحمتوں کا بابرکت مہینہ جاری و ساری ہے۔ اس مہینے کی برکت و رحمت کا مطلب مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد یہ سمجھتی ہے کہ لوگوں کی مجبوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ رمضان کہ مہینے میں اللہ تعالی ہر محنت کرنے والے کو اس کا بروقت اجر دیتے ہیں کیونکہ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی تمام امور کی نگرانی بذاتِ خود کرتے ہیں۔  لیکن لوگوں کا ایک مخصوص طبقہ سارے سال کی خیر و برکت اس ایک ماہ میں ہی وصول کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے۔ اس بے رحمی سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا جاتا ہے کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔ ان برکتیں سمیٹنے والوں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

پاکستانیوں کی پریشانی جب تک پریشانی کی حد کو چھونے نہیں لگتی ہم پریشانی کو جھیلے جاتے ہیں۔ کچرا، پانی اور بجلی کے بعد مہنگائی سمجھ لیجئے کہ موت کے فرشتے کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ اس مضمون کو لکھنے کا مقصد سماجی میڈیا پر چلنے والی تین دن بغیر پھل کی مہم کو آگے بڑھانا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے روز کے روز کمانے والوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ ان لوگوں سے سوال یہ ہے کہ ہمارے ساتھ، آپ کے ساتھ یہی زیادتی روزانہ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو کوئی بھی بیچارا بن کر لوٹ لیتا ہے۔ ہم بہت غمگین سی صورت بنائے اس لٹیرے کو جاتا ہوا دیکھتے رہتے ہیں۔

ایک بار پھر موقع آیا ہے کہ ہم اپنی قومی اتحاد و یگانگت کا مثبت استعمال کرتے ہوئے ایسے تمام مافیاؤں کو یہ پیغام دے دیں کہ اب ہم پاکستانی ایسی کسی بھی چیز کا بائیکاٹ کرنے سے بلکل گریز نہیں کریں گے جو ہمارے معاشی معاملات پر حملہ آور ہوں گی۔ اس تجربے سے آپ کو اپنی اہمیت کا اور اتحاد و یگانگت کی طاقت کا بھی اندازہ ہوجائے گا۔ رمضان کا مہینہ ہے اللہ ہماری مدد کریں گے۔ یہ خیر و برکت کو مادی ترازو میں طول رہے ہیں۔ ایسے عناصر کو  سبق سکھانا ضروری ہے۔  کامیابی کی صورت میں اس مہم کا پیغام بہت دور تک جائے گا۔ کیونکہ یہ عوامی طاقت دنیا کی کسی طاقت سے کم نہیں ہوتی۔