پیر اور جج کا معاملہ

سجادہ نشینی سے قبل اولیاء کرام اپنے دور کے مبلغ، فلسفی، مفکر، شاعر اور قلندر ہوتے تھے۔ احترام آدمیت، رواداری اور انسان دوستی ان کے معیار ہوتے تھے۔ وہ معاشرے کی تمام قبائلی جاگیر دارانہ اور جاہلانہ تقسیم سے بالاتر ہوتے تھے۔ 

 یہی وجہ ہے کہ کئی صدیاں بیت جانے کے بعد بھی صوفیاء کا کلام اور پیغام آج بھی روشنی پھیلا رہا ہے۔ انگریزوں​ کے ہندوستان پر قبضہ کے بعد ان مزاروں کے سجادہ نشینوں کو اپنے مفاد کے پیش نظر جاگیریں​ اور مالی وظائف اور انعام واکرام سے نوازنا شروع کردیا گیا۔ اس کے عوض ان پیروں سے انگریزوں کے حق میں فتویٰ دینا شروع کردیا۔ ملتان کے گردیزی، قریشی اور گیلانی سجادہ نشینوں کے انگریزوں کے حق میں فتوے تاریخ کا حصہ ہیں۔ البتہ کچھ پیروں نے انکار کرتے ہوئے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ اس ضمن میں پیر پگارا کا نام سنہرے حروف میں لکھا گیا۔

پاکستان بننے کے بعد حکومتوں و آمریتوں نے انگریزوں کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا۔ جنرل ایوب نے فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑتے ہوئے مری کے پیر دیول شریف اور پیر موہڑہ شریف کے فتوے حاصل کیے۔  ان پیروں نے معاوضہ بھی خوب وصول کیا۔ یہی روش جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے بھی ریفرینڈم کے موقع پر برقرار رکھی۔ ہمارے جمہوری حکمران بھی اس طریقہ کو اپنانے میں پیچھے نہ رہے۔

گزشتہ دنوں ایک معزز جج کی فیملی کے ساتھ لاہورسے اسلام آباد آتے ہوئے جو افسوس ناک واقع پیش آیا اور اس کے نتیجے میں عید گاہ شریف کے پیر کی جانب سے معافی نامہ اخبارات میں شائع ہوا۔ یوں یہ معاملہ داخل دفتر ہوا۔ اللہ اور رسول کا پیغام دنیا میں عام کرنے والی شخصیات کا زمین پر اکڑ کر چلنا اور پروٹوکول اور شان وشوکت کے اظہار سے عام آدمی کا جینا دوبھر کرنا،  انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ معزز جج صاحب کی فیملی کے ساتھ بدسلوکی کا تو حساب تمام ہوا لیکن عام آدمی کی عزت نفس مجروح ِ کرنے اور اس کا معاشی اور جنسی استحصال کرنے والوں کے خلاف عدلیہ کب حرکت میں آئے گی۔