مسئلہ کشمیر و فلسطین اور بڑی طاقتیں
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سامراجی قوتیں پاش پاش ہوئیں جس کے نتیجے میں بے شمارممالک آزاد ہوئے۔ متعدد نئے ممالک نے جنم لیا تو ان سامراجی قوتوں نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نئی پالیسیاں بنا کر ایک بار پھر اپنی برتری قائم کرلی۔ نو آبادیاتی نظام کے دوران ایک دوسرے کا قتل عام کرنے والے یورپی ممالک کو سوویت یونین اور اسلام سے خوف زدہ کرکے امریکہ نے مغرب کو اپنی قیادت میں اکھٹا کر لیا۔
مسلمان حکمرانوں نے ماضی کی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے مالی اور افرادی قوت کے باوجود خود متحد ہو کر عالمی طاقت کا توازن قائم کرنے کے بجائے امریکی اور اشتراکی کیمپ میں شامل ہو کر مسلمانوں کو تقسیم کر دیا۔ کچھ مسلمان امریکہ کو اہل کتاب سمجھ کر اس کے حامی بن گئے اور کچھ سوویت یونین کو سامراج کا راستہ روکنے والی قوت سمجھ کر اس کی چھتری تلے جمع ہو کر اپنی اہمیت و افادیت کھو بیٹھے۔ اس وجہ سے وہ جموں کشمیر اور فلسطین سمیت اپنا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کروا سکے۔ بلکہ دوسروں کی جنگ میں شامل ہو کر درجنوں ایسے مزید مسائل پیدا کر دئیے جن کے حل کا دور دور تک راستہ نظر نہیں آ رہا۔
مسلمانوں ہی کے تعاون سے امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف ایک ایسا جہاد شروع کیا جس کے بعد ان عناصر نے مسلمانوں کے خلاف ہی جہاد شروع کر دیا۔ اس جہاد کی وجہ سے آج ایک بھی ایسا مسلمان ملک نہیں جہاں امن ہو۔ امریکہ کتنا عقل مند اور خوش نصیب ہے کہ اس نے ایک طرف جموں کشمیر اور فلسطین اور دوسرے اسلامی ممالک کی آزادی کی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دلوایا اور دوسری طرف تمام با وسائل مسلمان ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر امن کے نام پر ایک نیا جہاد شروع کرنے والا ہے۔ جس کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ نے کی صدارت میں ہونے والے ریاض سعودی عرب میں نئے اسلامی اتحاد کے اجلاس میں کیا گیا۔ بعض اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو تو آخر تک اندازہ ہی نہیں تھا کہ ٹرمپ صاحب کیا فرمانے والے ہیں۔ جبکہ ترکی کے صدرنے اس اجلاس پر اپنے تحفظات کی وجہ سے شرکت ہی نہیں کی۔ صرف کارروائی سننے کے لیے اپنے وزیر خارجہ کو ریاض بھیج دیا۔ اس طرح ترک صدر نے خود کو بے عزت ہونے سے بچا لیا۔ اسرائیل کا تو امریکہ روز اول سے ہی محافط بنا بیٹھا ہے اب اس نے بھارت کو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دے دیا ہے اور وہ بھی اسلامی اتحاد کے اجلاس میں۔ یہاں امریکہ کو اس کی جرات و دانش پر جتنی بھی داد دی جائے اور مسلمان حکمرانوں کی سوچ و فکر پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔
یہاں کسی کو کسی سے پیار نہیں۔ سب اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سوویت یونین اور امریکہ، ہٹلر کو راستے سے ہٹانے کے لیے متحد ہو گئے تھے۔ پھر مغربی جرمنی کی قیادت نے اپنی ڈپلومیسی سے گوربا چوف کو دیوار برلن ہٹانے پر قائل کرلیا تو سوویت یونین کو شیطان قرار دینے والی برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر فرانس کے صدر متراں کو ساتھ گوربا چوف کے پاس چلی گئیں۔ گوربا چوف کا گھٹنا پکڑ کر کہا گوبی جی (گوربا چوف کا نک نام گوبی تھا) آپ کیا کرنے لگے ہیں۔ متحدہ جرمنی نے آپ کو بھی اور ہم کو بھی ماضی میں بہت تنگ کیا، اس کو منقسم ہی رہنے دیں۔ لیکن گوربا چوف جرمن چانسلر ہیلمت کول کے ساتھ وعدہ کر چکے تھے۔ بلکہ اس وعدہ کی قیمت بھی حاصل کر چکے تھے۔ کیونکہ افغان جنگ کی وجہ سے روسی عوام اب بھوکے مر رہے تھے۔
امریکہ اور سوویت یونین مل کر جرمنی کو تباہ کرنے سے فارغ ہوئے تو ان کے مفادات دوبارہ ٹکرانے لگے۔ پھر آپس میں لڑے اور پھر جو ہوا سب نے دیکھا۔ روس نے دوبارہ انگڑائی لینی شروع کر دی ہے۔ لیکن اب اس سے زیادہ امریکہ کو خطرہ چین سے ہے جس کے خلاف وہ اب بھارت کو کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے کشمیریوں کی حق پر مبنی جد و جہد امریکہ کے نزدیک دہشت گردی ہے۔ اور دنیا بھر میں اس کی اپنی ریاستی دہشت گردی اس کے نزدیک انسانی حقوق کی جنگ ہے۔ بھارت وقتی طور پر خوش تو ہورہا ہے لیکن ایک دن بھارت کی بھی باری آ جائے گی۔
اب سوال ہے کہ اس سارے کھیل میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چائیے۔ اس سوال کا جواب مجھ جیسے انسان کو اکیلے نہیں دینا بلکہ بڑی قوتوں کے مفادات اور ٹکراؤ کا شکار قوموں کو مل بیٹھ کر تلاش کرنا چائیے۔ جہاں سوال ہوتے ہیں وہاں جواب بھی ہوتے ہیں۔ جہاں مسائل ہوتے ہیں وہاں ممکنہ حل بھی ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی سیاسی نبض پر ہاتھ رکھ کر اپنی اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لئے بہتر فیصلے کیے جائیں۔