رمضان المبارک اور نمود نمائش کا کلچر
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 05 / جون / 2017
- 4459
مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان ایک مقدس مہینہ ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں اللہ اور اس کے بندوں کا تعلق براہ راست ہوتا ہے ۔ ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ماہ رمضان میں نہ صرف اللہ کے حکم پر روزے رکھے بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادات کرکے اللہ کی قربت پاسکے ۔ رمضان المبارک بنیادی طور پر نیکیوں کے سمیٹنے کا موسم ہے اور بندہ کوشش کرتا ہے کہ اس مہینے میں وہ نہ صرف اللہ کے لیے بھوکا پیاسا رہے بلکہ اپنے عمل سے زیادہ لوگوں کی مدد اور بھلائی بھی کرسکے ۔ عمومی طور پر اس مقدس ماہ میں دیگر دنوں کے مقابلے میں مسلم دنیا میں زیادہ جوش وخروش بھی پایا جاتا ہے ۔
بدقسمتی سے پچھلے کچھ برسوں سے رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مسلمانوں ہی کے مختلف طبقات کی جانب سے ایک ایسا نمود نمائش پر مبنی کلچر دیکھ رہے ہیں جو کافی تکلیف دہ ہے ۔ لگتا ہے کہ جیسے ہماری عبادات میں بھی اللہ کو زیادہ سے زیادہ خوش کرنے اور اس کی قربت حاصل کرنے کی بجائے ہم دنیاوی معاملات اور لوگوں میں اپنی شان و شوکت بڑھانے میں زیادہ مگن ہوگئے ہیں ۔ جو کچھ رمضان المبارک میں سحری اور افطار ٹرانسمیشن کے نام پر ہورہا ہے وہ بھی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ روزہ اور اس کی عبادات کا براہ راست تعلق آپ کی نیتوں کا معاملہ ہے ۔ اس عمل میں جتنی سادگی ہوگی اتنی ہی وہ اللہ کو پسند بھی ہوگی ۔ کیونکہ اللہ کے پاس دنیاوی معاملات اور نمود نمائش نہیں بلکہ آپ کی نیتوں اور اعمال نے جانا ہے ۔
ہم کل تک رمضان المبارک میں افطار ڈنر کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے اس پر ماتم کیا کرتے تھے لیکن اب بات افطار ڈنر سے باہر نکل کر بڑے بڑے ہوٹلوں میں سحریوں تک پہنچ گئی ہے ۔ اس خرابی میں ہر طبقہ برابر شریک ہو چکا ہے۔ افطار ڈنر اور سحریوں کی دعوتیں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے سے زیادہ دنیاوی معاملات میں اپنے تعلقات کو موثر اور نئے تعلقات کو جوڑنے کا سبب بن سہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان بڑے بڑے ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر ہونے والے افطار ڈنر پر جو افراد کھانے کے نام پر دھکم پیل اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ بھی ہمارے اجتماعی بگاڑ کا آئینہ دار ہے۔ سیاست دانوں ، کاروباری طبقات، ارکان اسمبلی ، علمائے کرام سب ہی اس بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ کیسے ہمیں دوسروں سے سبقت حاصل کرنی ہے ۔
بدقسمتی یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں ، علمائے کرام اور اہل سیاست کے بڑے بڑے ذمہ دارافراد یا جماعتوں نے رمضان المبارک کے حوالے سے جس طرح سے اپنے آپ کو مثالی کردار میں پیش کرنا تھا ، اس کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے ۔ مذہبی جماعتوں کی سطح پر بھی اب وہی نمود نمائش کا کلچر غالب نظر آتا ہے جو ہمیں دیگر طبقات میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ معاشرے میں مجموعی طور پر اصلاحی اور تربیت کا عمل کمزور ہوتا جارہا ہے اورا س کی جگہ ہمارے مزاج میں وہ چیزیں غالب ہوگئی ہیں جو عمومی طور پر ہمارے دین کے مزاج کا حصہ نہیں ۔ ان افطاریوں کے پروگراموں میں دین اور عبادات سے زیادہ آپ کو دنیاوی ، سیاسی اور کاروباری معاملات پر گفتگو کا غلبہ نظر آتا ہے ۔ بعض لوگ ہوٹلوں اور گھروں میں افطار سے قبل کسی اچھے مقرر کو بلاکر درس قران کا اہتمام کرتے ہیں ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ درس سننے والوں کی تعداد کم اور افطار کرنے والوں کی تعداد افطاری سے چند منٹ قبل بہت بڑھ جاتی ہے ۔
اسی طرح ہمارے گھروں میں بھی افطار کے نام پر جو تماشہ کھانے پینے کے نام پر لگایا جاتا ہے وہ بھی توجہ طلب مسئلہ ہے۔ کھانوں میں سادگی کا کلچر اور کم کھانے کا رواج کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے ۔ بظاہر ایسے لگتا ہے کہ جیسے رمضان عبادات سے زیادہ کھانے کا مہینہ ہے اور ہر طرف کھانوں کے انبار لگے ہوتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معاشرے میں جس طرح سے معاشی اور سماجی ناہمواریاں ہیں اس کو بھی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔ ایک طبقہ رمضان میں خوب عیاشیاں کرتا ہے تو دوسرا طبقہ افطار کے حصول کے لیے لائینوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ جو کچھ تم اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہی دوسروں کے لیے پسند کرو، لیکن ہم خود افطار کے نام پر بڑے بڑے دستر خوان سجاتے ہیں ، لیکن غریب لوگوں اور بالخصوص اپنے ملازمین کے لیے ان کے دستر خوان میں آپ کو غربت یا تفریق کے پہلو نمایاں نظر آئیں گے ۔ عمومی طور پر جو کھانا بچ جاتا ہے، وہ ملازموں کو دیا جاتا ہے جوان میں کمتری کا احساس پیدا کرتا ہے ۔
ایک مسئلہ یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ خاندان کی سطح پر بھی جب خاندان کے افراد کے لیے دعوت افطار و ڈنر کا اہتمام کیا جاتا ہے تو اس میں کمزور اور غریب رشتہ داروں کے ساتھ بھی تفریق کے پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں یا ان کو بہت کم اہمیت دی جاتی ہے ۔ جو لوگ افطار ڈنر کو اپنی سماجی قبولیت اور کاروباری معاملات میں اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے برتتے وہ عملا روزہ کی افادیت ختم کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ کو راضی کرنے کی بجائے جب ہم مخصوص لوگوں کو راضی کرنے پر اپنی توجہ دیتے ہیں تو اللہ بھی ہم سے منہ موڑ لیتا ہے ۔ مجھے کئی دفعہ یہ دیکھنے کا موقع ملا ہے کہ مختلف گھروں میں بڑی بڑی تقریبات افطار ڈنر کے نام پر سجائی جاتی ہیں۔ وہاں مہمانوں کے ساتھ آنے والے ڈرائیوروں کے ساتھ افطار کے نام پر تفریق کی جاتی ہے جو طبقاتی مسئلہ کو اجاگر کرتی ہے ۔ ہم اگر اپنے محلوں کی سطح پر دیکھیں تو بالخصوص ایسے کئی گھرانے ہمیں نظر آتے ہیں جو اپنی غربت کے باعث نہ تو روزے ٹھیک طرح سے کرسکتے ہیں اور نہ ہی افطار۔ لیکن ہمارے وہ لوگ جو کافی پیسے یا مراعات رکھتے ہیں عمومی طور پر اپنی خدا ترسی میں ان غریب لوگوں کو بھول جاتے ہیں ۔ پہلا حق محلہ داروں کا ہے ، ایسے لوگ جو واقعی آپ کی توجہ کے مستحق ہیں ان کی مدد کرنے میں ہمیں کسی بھی طرح کی کنجوسی کا مظاہرہ یا اپنی لاتعلقی نہیں دکھانی چاہیے ۔
ان دعوت افطارو ڈنر کے مواقع پر عورتیں اورمرد اس اہتمام کے ساتھ تیار ہوتے ہیں جیسے وہ کسی عبادت کی محفل میں نہیں بلکہ کسی شادی کے فنکشن میں مدعو ہیں ۔ بالخصوص ان معاملات میں عورتیں بہت زیادہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان کا لباس او رمیک آپ خود روزہ کی اہمیت کو کم کرتاہے ۔ کچھ لوگ تو افطار و ڈنر کا اہتمام روزہ داروں سے زیادہ بڑ ی بڑی حکومتی اور طاقت ور شخصیات کو مدعو کرنے کے لیے کرتے ہیں ۔ پہلے ان سے وقت لے کر فنکشن کا اہتما م کیا جاتا ہے اور محفل میں لوگوں کو بٹھانے کے لیے باقاعدہ طبقاتی فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے ۔ اصولی طور پر روزہ دار یا مسلمان طبقہ کو رمضان المبارک کا اہمتام اسی انداز سے کرنا چاہیے جو اللہ کا حکم ہے ۔ اس عمل میں زیادہ سے زیادہ عبادات اور مستحق لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا، اللہ کے گھر قبولیت کا عمل ہے ۔ ہمارے علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کو خود بھی رمضان میں نمود نمائش جیسے کلچر کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو کم کرنے میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ یاد رکھیں جب مسلمان تضادات کے ساتھ اپنی اور اپنے خاندان کی عبادات کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے تو ممکن ہے وہ دنیا کو تو راضی کرلے ، لیکن خدشہ ہے کہ وہ اللہ کی خوشنودی سے محروم ہوجائے ۔ اس مسئلہ پر ہمارے میڈیا کو بھی ایک ذمہ دار کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر چہ یہ آسان چیلنج نہیں لیکن کچھ تو ایسا ہونا چاہیے جو مسلمانوں کے اصل تشخص کو بحال کرسکے ۔
بنیادی طور پر اس معاشرہ میں ایک بڑی اصلاحی اور سماجی تحریک کی ضرورت ہے جو لوگوں میں اس شعور کو اجاگر کرسکے کہ اللہ کو راضی کرنے اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنے میں کن باتوں کا خیا ل رکھا جاتا ہے ۔ جب معاشرے میں تبدیلی کے عناصر خاص طور پر وہ لوگ یا ادارے جو رائے عامہ بناتے ہیں ان کو اس طرز کی تحریک میں خود کو پیش کرنا ہوگا۔ لیکن اگر وہ بڑے لوگ جو رائے عامہ بناتے ہیں خود بھی تضادات کا شکار ہیں اور عملی طور پر ان ہی باتوں کو دہراتے ہیں جو غلطی باقی لوگ کررہے ہیں۔ ایسے میں معاشرے کے بگاڑ کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔