صحافی ہیں یا سیاسی طبیب
- تحریر شیخ خالد زاہد
- سوموار 05 / جون / 2017
- 4018
ہمارے اطراف میں رونما ہونے والے حالات و واقعات ہماری سوچ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ اور ہمارے اذہان کو رنگنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ پھر یہ رنگ ہماری سوچوں پر چڑھا ہوا بھی نظر آنے لگتا ہے۔ لیکن انسان تعلیم کے ذریعے اچھے برے کی تمیز کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تعلیم کے فقدان کا فائدہ اٹھا کر ہمیں ورغلایا جاتا رہا ہے۔
جہاں تک ایک عام ان پڑھ آدمی کا تعلق ہے وہ ان اثرات سے بری طرح سے متاثر ہوتا ہے ۔ قدامت پسند لوگ البتہ اپنی اقدار کو ہئ ترجیح دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں صحافی کی رسائی معاشرے کے تمام طبقات اور حلقوں تک ہوتی ہے۔ خبر کو اخبار کی زینت بنانا ایک صحافی کا کام ہے۔ یہی صحافی خبر کو دوا بناتے ہیں اور زہر بنانے کا ہنر بھی انہیں ہی آتا ہے۔ ان بات غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ صحافی دراصل سیاسی طبیب ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں لسانی تفریق اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ جو زبان بولنے والے سب سے زیادہ اکثریت میں ہوں گے، وہ اپنی زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کےلئے کوششیں کریں گے۔ ملک میں نافذ قومی زبان قائدِاعظم محمد علی جناح کی رائج کردہ زبان ہے لیکن اسے چیلنچ بھی کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں میڈیا کے تمام شعبے کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس طرح صحافتی برادری کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ تو میڈیا کے کاندھوں پر چڑھ کر ہی اعلی مقام تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح میڈیا اعلی سیاسی طبیب کی حیثیت اختایر کرچکا ہے۔ طبیب کا فرض ہے کہ مریض کا علاج کرتے ہوئے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے۔ اور اس کام میں علاقہ، نسل یا مذہب کو خاطر میں نہ لائے۔ سیاسی طبیب ملک کی نبض سے بہت اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اور یہ سیاسی ڈھانچے کو اندر سے بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ بروقت علاج تو فراہم نہیں کرسکتے مگر ایک قسم کی آگاہی مہم سے مطلع کر دیتے ہیں کہ کس قسم کی سیاسی مشکل آنے والی ہے۔
طبیب کسی بھی مرض کا ہو اگر وہ طرفداری سے کام لے گا تو مروجہ نظام کو نقصان ضرور پہنچے گا۔ اس طرح نظام کے درہم برہم ہونے لگتا ہے۔ لیکن بعض لوگ یہ صرف وقتی فائدے کیلئے کرتے ہیں۔ پاکستان کی بد قسمتی یہی ہے کہ یہاں لوگ وقتی فائدہ اٹھانے کے لئے دیرپا نقصان کو دعوت دیتے ہیں۔ "سیاسی طبیب" ہونے کے ناطے سے صحافتی برادری کو جانبداری زیب نہیں دیتی۔ معاشرے میں صحافیوں کو عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ ان کی باتوں کو توجہ سے سنتے بھی ہیں۔ اس لئے صحافی بھائیوں سے درخواست ہے کہ صرف اور صرف حق اور سچ کو عوام تک پہنچائیں۔ یہ بہت ہی سیدھے سادھے لوگ ہیں۔ آپ کی کسی بھی جھوٹی سی غلطی یا بھول چوک کی وجہ سے دشمنیاں مول لے لیتے ہیں۔ آپ حقیقت میں سیاسی طبیب ہیں اور ہمارے معاشرے میں لوگ طبیب کی بات غور سے سنتے ہیں۔