رمضان، قرآن اور ہمارا طرز عمل
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 05 / جون / 2017
- 4556
انسان کی یہ فطری خواہش ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ترقی حاصل ہو۔ وہ جس مقام پر ہے آنے والے وقت میں اس سے کہیں زیادہ کامیابی و نصرت کے اعلیٰ ترین مقام پر وہ فائذ ہو۔ لیکن کامیابی اسے کیسے حاصل ہوگی۔ اور ترقی کے اعلیٰ مقام پے وہ کیسے پہنچے گا۔ اس کا کوئی واضح اورمدلل جواب اس کے پاس نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ترقی و کامیابی اور عزت و تکریم کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔ کبھی وہ رائج الوقت طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کرتا ہے جو اس کی نظر میں کامیاب ہیں تو کبھی اُن طریقوں کو استعمال کرتا ہے جو عرف عام میں کامیابی کی منزل تک لے جانے میں معاون و مدد گار ہیں۔ کامیابی کی دوڑ میں چونکہ رائج الوقت طریقوں میں اخلاقی حدود کی کوئی حیثیت نہیں نیززندگی کا ہر شعبہ اخلاقی حدود سے آزاد ہے۔ لہذا بظاہر "سمجھدار اور کامیاب" لوگ وہ کہلاتے ہیں جو ہر قسم کی پابندیوں اورجکڑ بندیوں سے آزاد رہتے ہوئے معاشی و معاشرتی سطح پر ترقی کرتے چلے جائیں۔ یہ تصور عام ہے کہ زندگی ایک بار ہی ملی ہے لہذا تمام ترم خوشیاں سمیٹنے کے لیے ضروری ہے کہ اس ایک زندگی سے خوب لطف اندوز ہؤا جائے۔ اس حوالے سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک زندگی کے تمام شعبہ حیات میں اخلاقی حدود و قیود کی پابندی کرنے والے افراد و اقوام تو دوسری طرف وہ ہیں جو اخلاقی حدود و قیود کوریاست اور فرد کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا میں تشریف لائے اور آپؐ نے اسلام کی دعوت پیش کی، اس وقت بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔ زنا اور بدکاری کو نکاح کا درجہ دیا جاتا اور معاشرہ اس کو تسلیم بھی کرتا۔ بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا اور اس میں اپنی بڑائی اور خوبی سمجھی جاتی۔ قبائیلی عصبیت اپنے عروج پر تھی اورایک نہ ختم ہونے والا لڑائیوں کا سلسلہ ہر وقت جاری رہتا۔ شراب نوشی عام بات تھی جس کے نتیجہ میں بدکاریاں فروغ پاتیں۔ انسانوں کے انسان ہی غلام تھے، رعایا درحقیقت ایک کھیتی تھی جو حکومت کے لیے محاصل اور آمدنی فراہم کرتی اور حکومتیں اسے لذتوں، شہوتوں، عیش کوشی اور ظلم و جور کے لیے استعمال کرتیں۔ شرک اور بت پرستی اپنے عروج پر تھی۔ نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتیں اور حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے ان سے فریاد اور التجائیں کی جاتیں۔ سودی لین دین اور معاشی استحصال کا بازار گرم تھا۔ فال گیری، کاہنوں، نجومیوں کی خبروں پر ایمان اوربد شگونی کا رواج عام تھا۔ عقیدہ اور فکرکی گمراہیاں اس قدر عام تھیں کہ تصورِ آخرت ایک مذاق بن چکا تھا۔
یہ اور اس قسم کی بے شمار گمراہ کن رویوں کے نتیجہ میں وہ معاشرتی اور تمدنی سطح پر اخلاقی حدود وقیود سے یکسرعاری ہو چکے تھے۔ باقی ادیان کا حال بھی مشرکین جیسا ہی تھا کیونکہ ان کے دل یکساں تھے۔ عقائد ایک ہی جیسے تھے اور رسم ورواج میں ہم آہنگی تھی۔ ان ہی حالات میں کا وہ عظیم رونما ہوا جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی۔ یہ واقعہ قرآن کا نزول تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن وہ فرقانِ عظیم ہے جس نے انسانوں پر دنیا اور آخرت کی حقیقتوں کو بہت ہی واضح انداز میں پیش کیا ہے۔ جم غفیر جن تاریکیوں میں مبتلا تھی اس کے سامنے وہ روشنی منور کی جس کے ذریعہ صراط مستقیم عیاں ہو گئی۔ کامیابی اور ناکامی کی راہیں متعین کیں اور انسان کو ذلت ورسوائی سے نکال کر عزت وشرف کا مقام بخشا۔ اس عظیم تبدیلی کا لازمی تقاضہ تھا کہ انسانوں کے گروہوں پر قرآن کے کچھ حقوق لازم کر دیئے جائیں۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک بار خطبے میں) ارشاد فرمایا :" یہ کتاب الہی ( تمہارے ہاتھوں میں ) اللہ تعالی کی رسی ہے ، جس نے اس کی اتباع کی وہ راہ ہدایت پر گامزن رہا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے راہ ضلالت اختیار کی"(صحیح مسلم)۔ اس حدیث سے میں بتایا گیا ہے کہ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا وہ حقیقی کلام ہے جو اس کے بندوں کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ اب جو شخص اور قوم اس کو مضبوطی سے تھامے گی وہ کامیاب ٹھہرے گی اور جواس کو پس پشت ڈالے گا وہ ہلاک ہو نے والوں میں شامل ہوجائے گا۔ اسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے رسولؐ نے حجۃالوداع کے موقعہ پر ایک عظیم مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر اسے مضبوطی سے تھامے رہے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے، ایک اللہ کی کتاب اوردوسرے نبیؐ کی سنت"۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ کتابِ عظیم یقیناً ہماری ہدایت کی ضامن ہے لیکن ساتھ ہی شرط یہ ہے کہ اس کے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ قرآن کے پانچ اہم حقوق ہیں، جن کا جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
پہلا حق اس پر ایمان لانا ہے۔ ہر شخص پر واجب ہے کہ اس کتاب کے کلام الٰہی ہونے اور رہتی دنیا تک تمام لوگوں کیلئے کتاب ہدایت ہونے پر ایمان لائے ۔ کہا کہ :" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔"( سورۃ النساء :۱۳۶)۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے۔، جو لوگ اس کو حق کو نہیں مانتے ان سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہو جائے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اْسے سچے دل سے مانے۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔ اپنی فکر، مذاق ، پسند ، رویّے اور چلن کو، اپنی دوستی اوردشمنی کو ، اپنی سعی و جہد کے مصرف کو بالکل اس عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ آیت میں خطاب ان تمام مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی کے لحاظ سے ’’ماننے والوں‘‘ میں شمار ہوتے ہیں۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دوسرے معنی کے لحاظ سے وہ سچے مومن بن جائیں۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی ایمان کی متقاضی ہے کہ یہ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیئیس سالہ نبوی زندگی پر محیط ہے۔
یہ کتاب آج بھی بغیر کسی کمی اور زیادتی کے اسی حالت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے جس طرح یہ پہلی دفع نازل ہوئی تھی۔ اس میں مذکور ہر چیز کی تصدیق کی جائے ، ہر حکم اور ہر نہی کو حق اور عدل و انصاف پر مبنی برحق مانا جائے نیز ا س میں جو چیز حلال ہے اسے حلال اور جو چیز حرام ہے اسے حرام سمجھا جائے۔ اس کتاب کوقیامت تک کیلئے کتاب ہدایت سمجھا جائے ۔ یہ کتاب آخری رسول محمدؐ پر نازل ہونے والی آخری کتاب اللہ ہے۔ لہذا اب اسے کسی نبی کی تعلیم منسوخ نہیں کرسکتی ۔ دوسرا حق اس کی تلاوت ہے۔ یعنی قرآن کے ایک ایک لفظ کو سمجھ کے پڑھا جائے۔ تیسراحق اس پر عمل۔ چوتھااس پر تدبر اور تفکر ہے۔ اور پانچواں حق اس کی تعلیم و تبلیغ اور اس کا قیام ہے۔
ضرورت ہے کہ ہم اور آپ فرداً فرداً اپنا جائزہ لیں، احتساب کریں اور جس درجہ بھی کمی محسوس کریں اس کمی کو اپنی زندگی سے دور کردیں۔ اللہ ہمیں توفیق سے نوازے۔ آمین!