خاندانی منصوبہ بندی: طرز زندگی اور طرز معاشرت
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 06 / جون / 2017
- 4792
ہالینڈ کے ایک روزنامہ نے اے پی پی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق 2050 تک بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور یہ چین کو آبادی میں پیچھے چھوڑ دے گا۔ بھارت ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جن کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت چین، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا کی مجموعی آبادی باقی دنیا کی آبادی کے لگ بھگ ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین میں زیادہ بچے پیدا کرنے کے رجحان میں تبدیلی کے باعث بھارت آبادی کے حوالے سے چین پر سبقت لے جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی موجودہ آبادی ایک ارب نو کروڑ جو کہ 2050 تک بڑھ کر ایک ارب پچاس کروڑ بتیس لاکھ ہو جائے گی جبکہ چین کی موجودہ آبادی ایک ارب تیس کروڑ دس لاکھ سے ایک ارب تیس کروڑ نو لاکھ ہو جائے گی۔ جس کے نتیجے میں بھارت چین سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا اور ادھر دنیا کی آبادی جولائی تک ساڑھے 7 ارب تک پہنچ جائے گی۔
ماہرین ارضیات کے مطابق کرہ ارض اندازاً ساڑھے چار ارب سال قبل عالم وجود میں آیا۔ اس پر حیات کے آثار دو ارب بائیس کروڑ سال پہلے نمودار ہوئے اور زندگی کا باقاعدہ آغاز بائیس کروڑ سال پہلے ہوا۔ اس سلسلے میں مختلف محققین نے متضاد نظریات پیش کیے ہیں۔ پیٹر کاکس کے مطابق کرہ ارض پر انسانی زندگی کی ابتدا پانچ لاکھ سال قبل ہوئی تھی لیکن تازہ ترین شواہد کے مطابق اس کرہ ارض پر انسانی زندگی آج سے تقریباً چالیس لاکھ سال پہلے نمودار ہوئی۔ ابتدائی دور میں آبادی بہت کم تھی اور کسی مستقل بستی کا کوئی وجود نہ تھا۔ انسان کی سرگرمیاں محدود اور انتہائی پس ماندہ تھیں۔ خوراک کیلئے اس کا انحصار شکار اور قدرتی پیداوار پر تھا۔ سطح زمین کا تقریباً دو کروڑ مربع میل علاقہ زیر استعمال تھا۔ ایک فرد کو اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دو مربع میل علاقہ درکار تھا۔ اگر اس چیز کو بنیاد بنایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت انسانی آبادی ایک کروڑ سے زائد نہیں تھی۔ لیکن ایک اندازے کے مطابق اب دنیا کی آبادی تقریباً 35 سال کے بعد دوگنا ہوتی جا رہی ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 3000 تک سطح زمین پر قدم رکھنے کی جگہ بھی نہیں بچے گی جبکہ خشکی تری اور برفانی علاقے سمیت سطح زمین کے ہر مربع کلومیٹر پر تقریباً دو ہزار افراد موجود ہوں گے۔
دنیا کی آبادی جو اقوام متحدہ کے ایک تخمینے کے مطابق 1970 میں 4.3 ارب تھی پھر ساڑھے پانچ ارب کے لگ بھگ ہوئی جو کہ جولائی تک ساڑھے 7 ارب کے لگ بھگ ہو جائے گی۔ یوں تو آبادی میں تیز رفتاری سے اضافے کی کئی وجوہات ہیں لیکن بڑی وجہ شرح اموات اور شرح پیدائش کا فرق ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں بہتر طبی سہولتیں میسر ہونے کی بنا پر شرح اموات میں قابل قدر حد تک کمی واقع ہوئی ہے مگر دوسری طرف شرح پیدائش میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی ماہر آبادی تھامس رابرٹ اپنی کتاب ”آبادی کے اصول“ میں لکھتا ہے ”اگر کسی ملک کی آبادی ایک فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھے گی تو اسے دوگنا ہونے کیلئے 69 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ دو فیصد اضافے کی شرح سے 35 سال لگیں گے۔ تین فیصد سالانہ کی شرح سے 23 سال بعد اور اگر آبادی چار فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھے گی تو 17 سال بعد دوگنا ہوجائے گی۔ اس فارمولے کی رو سے برطانیہ کی آبادی 460 سال کے بعد چین کی 57 سال کے بعد اور پاکستان کی 22 اور کینیا کی آبادی 17 سال کے بعد دوگنا ہوتی جا رہی ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق دنیا کی آبادی میں ہر سال آٹھ کروڑ اور کچھ کے بقول ساڑھے آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ ہو رہاہے۔ اس اضافے کی وجہ ترقی پذیر ممالک میں بہت نمایاں ہے جبکہ ہر سال اس قدر اضافہ آبادی کا بوجھ برداشت کرنا ان ممالک کی بساط سے باہر ہے۔ اگر کسی طرح ٹیکنالوجی میں ترقی اور سرمائے میں اضافے کی وجہ سے پیداواری صلاحیتوں میں کچھ بہتری ہو بھی جائے تو بہت کم وقت میں آبادی کا بڑھتا ہوا طوفان اس پر غالب آ جاتا ہے جس سے طلب رسد میں توازن قائم رکھنا محال ہو جاتا ہے۔ بعض ترقی پذیر ممالک میں افزائش آبادی کی شرح 4 فیصد سالانہ تک ہے لیکن اس کے برعکس بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ دنیا کی تقریباً 77 فیصد آبادی ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہے اور ان کے باشندوں کی متوقع عمر اوسطاً 52 سال تک ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے باشندوں کی زندگی اوسطاً 75 سال سے زائد تک جا پہنچی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی زیادہ تعداد اور کم عمری کی اموات سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کمانے والوں اور ان پر انحصار کرنے والوں کی تعداد میں توازن نہیں ہے۔ علاوہ ازیں طبی سہولتوں کا فقدان، ناخواندگی اور دوسری کئی وجوہات ایسی ہیں جس کی وجہ سے شرح اموات بلند ہے۔
دنیا کی آبادی میں اضافہ 97 فیصد ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں ہو رہا ہے۔ افریقی ممالک میں سالانہ اضافہ کی شرح 3 فیصد ہے جبکہ ایشیائی ممالک میں 2.8 فیصد ہے۔ پاکستان میں یہ اضافہ 3.2 فیصد تک جا پہنچا ہے جبکہ برصغیر میں یہ اضافہ مجموعی طور پر 2.3 فیصد ہے۔ ایشیا میں اضافہ آبادی 1.9 فیصد سالانہ ہے جبکہ یورپ میں یہی اضافہ اوسطاً 0.25 فیصد ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے دس شہروں میں سے سات ایشیا میں ہیں۔ عرب ممالک میں آبادی میں اضافہ وہاں کی شرح آبادی کی زیادتی کی بنا پر ہے جہاں شرح اضافہ 3 فیصد سالانہ ہے۔ عرب ممالک کی آبادی کے دوگنا ہونے کی مدت 3 فیصد کے حساب سے 23 سال بنتی ہے کیونکہ عرب نوعمری یا جلدی شادی کا رواج ہے اور لوگ بڑے کنبے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے برعکس یورپ میں 1965 کے بعد سے خواتین میں کم بچوں کو جنم دینے کے رواج کے باعث یہاں شرح آبادی 0.25 سے کم ہو کر 0.24 تک آ گیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں یہ شرح 6.6 فی عورت ہے۔
اسی طرح جاپان کی شرح آبادی 0.43 فیصد ہے۔ 1960 کے بعد دنیا میں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو اپنانے کا عمل تیز ہوا ہے اس منصوبے پر عمل کرنے والوں کی تعداد ترقی یافتہ ممالک میں 10 فیصد سے بڑھ کر 51 فیصد ہو گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے برصغیر کے ممالک میں یہ شرح اب بھی 8 فیصد سے آگے نہیں بڑھی۔ بیشتر ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی کو ابتدائی صحت کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ خاندانی منصوبہ بندی کا مطلب محض مانع حمل ادویات یا دوسرے طریقوں کا عام کرنا نہیں بلکہ یہ ایک طرز زندگی اور طرز معاشرت ہے۔ ایک ایسا ماحول مہیا کرنا ہے جہاں سب اس کی افادیت کے قائل ہو سکیں۔ ورنہ آبادی میں اضافہ جہاں قدرتی وسائل کو تیزی سے کھا رہا ہے وہاں انسانی زندگی کے معیار کو بھی گھٹا رہا ہے۔
اگر ہمارا ”جہاد“ کے بغیر گزارا نہیں تو حکومتیں، سیاسی نمائندے، ماہرین معیشت، سوشل ورکرز، ماہرین آبادی اور عام شہری بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول پانے کیلئے اپنے اپنے محاذ پر ”جہاد“ کریں۔