کرپشن ، بدعنوانی اور خوف کی سیاست

پاکستان میں ایک طبقہ کے بقول کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کوئی مسئلہ نہیں ۔ جو لوگ کرپشن اور بدعنوانی  کو ایک اہم مسئلہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ، وہ سیاسی اور جمہوری نظام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ کوئی بھی نظام چاہے اس کی بنیاد کوئی بھی ہو اگر اس مین شفافیت ، جوابدہی اور احتساب کا نظام نہیں ہوگا تو اس نظام کی سیاسی ساکھ سوالیہ نشان رہے گی ۔ جو لوگ یہ منطق دیتے ہیں کہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمہ کو بنیاد بنانے کی بجائے ہمیں آگے کی طرف بڑھنا چاہیے، وہ سوائے خود کو دھوکہ دینے کے کچھ نہیں ۔ کچھ لوگ یہ منطق دیتے ہیں کہ اس وقت جو سرمایہ دارانہ نظام ہے اس میں کرپشن نظام کا حصہ بن گئی ہے،  وہ بھی عملی طور پر کرپشن اوربدعنوانی پر مبنی سیاست کا جواز فراہم کررہے ہوتے ہیں ۔

دنیا بھر میں کرپشن اور بدعنوانی  کو مکمل ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن کوئی بھی ملک اچھی حکمرانی اور شفافیت اور خود مختار ی پر مبنی اداروں کے ساتھ کرپشن اور بدعنوان لوگوں کو عمل کو لگام دے سکتا ہے ۔ ہمارے اور مہذب معاشروں میں بنیادی فرق ہی اداروں کی خود مختاری اور شفافیت  کا ہے۔ وہاں لوگوں کو ایک ڈر اور خوف ہوتا ہے کہ اگر وہ کرپشن اور بدعنوانی کے شکنجے میں جکڑے گئے تو کسی بھی صورت میں قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے ۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں جو کرپٹ اور بدعنوان طبقہ کا گٹھ جوڑ اداروں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں  اداروں میں موجود بدعنوان عناصر نے انصاف کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے ۔

حکومتیں عمومی طور پر کرپشن اوربدعنوانی کے خاتمہ اور موثر احتساب کے لیے اصلاحات کا راستہ اختیار کرتی ہیں ۔ لیکن جب حکومتی نظام کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا شکار ہوجائے تو پھر سمجھوتے کی سیاست غالب آجاتی ہے۔  اسی لئے ملک میں اقتدار اور حزب اختلاف میں شامل جماعتوں نے ایک دوسرے کا کڑا احتساب کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے معاملات کو تحفظ فراہم کرکے اس ملک کے انصاف کے نظام کو سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ یہ فکری مغالطہ بھی پھیلایا جاتا ہے اصل احتساب عوام انتخابات میں کرتے ہیں۔ اگر اس منطق کو مان لیا جائے تو ہمیں تمام عدالتی نظام اور انصاف پر مبنی اداروں کو بند کردینا چاہیے۔
اصل میں کرپٹ اور بدعنوان عناصر کی ترجیح اداروں کو اپنے کنٹرول میں کرنا ہوتا ہے ۔ یہی کھیل پاکستان میں طاقت ور طبقہ  ذاتی مفادات کی بالادستی کے لیے عوام کے مفادات کو قربان کرکے کھیل رہا ہے۔ اور ریاستی و حکومتی وسائل کی مدد سے دولت بھی سمیٹ رہا ہے ۔ اس کی ایک حالیہ مثال  پانامہ  کیس کی  جے آئی ٹی کے تحت جاری کارروائی کے عمل میں ایک حکومتی سینٹر نہال ہاشمی کی تقریر کی صورت میں نظر آئی ہے ۔ جے آئی ٹی اس وقت پانامہ کے مقدمہ میں وزیر اعظم اور ان بچوں سمیت خاندان کے دیگر افراد سے تفتیش کررہی ہے ۔ اس پر جو کچھ سینٹر نہال ہاشمی نے کہا اس سے حکومتی عزائم اور اس ملک میں انصاف کے نظام کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔

ان کے الفاظ: “نواز شریف اور ان کے خاندان کا حساب لینے والو سن لو، تم کل ریٹائر ہوجاؤ گے ، ہم تمہارے لیے، تمہارے بچوں کے لئے ، تمہارے خاندان کے لیے زمین تنگ کردیں گے۔ تمہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ تمہارا وہ حشر کریں گے کہ یاد رکھوگے ۔‘‘ نہال ہاشمی نے جس انداز سے ججز، عدلیہ اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دی ہیں وہ ایسے ہی معاشرے میں ہوسکتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی کا کوئی شفاف نظام نہ ہو۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومتی عزائم یہی ہیں کہ جو بھی لوگ ان کو قانون کے دائرے کار میں لانا چاہتے ہیں اسے سیاسی مسئلہ بنا کر محاز آرائی میں تبدیل کردیا جائے تاکہ احتسابی عمل متاثر ہو۔ اب سنٹر نہال ہاشمی کی اس تقریر پر حکومتی منطق بھی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ یہ بات محض نہال ہاشمی تک محدود نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی حکومتی لوگ اسی طری عدلیہ سمیت دیگر اداروں کو اپنے دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود عدلیہ نے بھی اشارہ کیا ہے کہ نہال ہاشمی کا بیان کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوا اور اس کے پیچھے کوئی اور ہے ۔ اگرچہ حکومت نے نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت ختم کرکے ان سے سینٹر شپ سے بھی لے لی ہے، لیکن کیا ان کی سیاست پارٹی سے ختم ہوگئی یا یہ وقتی سزا ہے۔

اہل سیاست اور جمہوری سیاست پر یقین رکھنے والے طبقات  کو سمجھنا ہوگا کہ محض کرپشن اور بدعنوانی پر سمجھوتہ کرکے ، تحفظ فراہم کرکے ، یا خاموشی اختیار کرکے کسی بھی صورت میں ایک مضبوط جمہوری اور قانون پر مبنی حکمرانی کا نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ جمہوری نظام کی بنیاد ہی شفافیت پر مبنی حکمرانی ہے ۔ کل تک جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پاکستان میں کرپشن ، بدعنوانی اور پانامہ جیسے مقدمہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ۔ آج پانامہ کا مقدمہ پاکستان کا بڑا مقدمہ بن گیا ہے ۔ پہلی بار اس مقدمہ میں ہماری سیاسی تاریخ میں موجودہ وزیر اعظم اور ان کے بچے عدالتی کٹہرے میں مجرمانہ تفتیش کا حصہ ہیں ۔ یہ کریڈیٹ ہر صورت میں تمام تر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہمیں عمران خان کو دینا ہوگا کہ انہوں نے اس مقدمہ میں جس استقامت اوردیدہ دلیری و بہادری سے مقابلہ کیا وہ  قابل تعریف ہے۔ اس تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ مستقبل کی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔ 

پانامہ کا مقدمہ اس وقت پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہ محض ایک فرد یا خاندان کے خلاف مقدمہ نہیں بلکہ اصولی طور پر یہ طے ہونا ہے کہ یہاں مستقبل قانون اور اداروں کی بالادستی کا ہوگا یا یہاں مافیاز کی حکمرانی ہوگی ۔ اس مقدمہ کی ناکامی ان قوتوں کو طاقت فراہم کرے گی جنہوں نے ہمارے ریاستی نظام کو عملی طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے ۔  اس وقت ملک میں اداروں کی سطح پر بھی ایک بڑے دباؤ کی کیفیت ہے ۔اب دیکھنا ہوگا کہ کیا  واقعی قانون اپنی رٹ کو قائم کرپاتا ہے ۔ ملک میں بنیادی طور پر کرپشن اور بدعنوانی اوپر سے لے کر نیچے تک سرایت کرگئی ہے ۔  جب اوپر جن لوگوں نے نظام کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے وہ خود کرپشن کا حصہ بن جائیں تو پھر یہ کرپٹ نظام نیچے تک سرایت کرتا ہے ۔  معاشرے میں اس کرپشن اور بدعنوانی کے نظام کو سماجی قبولیت کا درجہ دینے کی کوشش کی جائے یا قبول کرلیا جائے تو پھر  کرپٹ نظام ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔ کیونکہ طاقت ور طبقہ اپنی کرپشن اوربدعنوانی اسی صور ت میں کرسکتاہے جب وہ خود اداروں کو اسی کرپشن کی سیاست کا حصہ بنالے ۔ اس لیے اس کرپشن پر مبنی نظام کے خلاف مزاحمت واقعی قومی ضرورت ہے ۔

بنیادی طور پر کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کے خاتمہ کے لیے ملک میں اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے ۔ یہ حکمرانی ایک مضبوط سیاسی نظام ، سیاسی جماعتوں اور شفاف سیاسی قیادت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس حقیقی نظام کی بحالی کے لیے سول سوسائٹی پر مشتمل فرد یا گروپس سیاسی ، انتظامی اورقانونی اداروں پر دباؤ ڈالتے ہیں ۔ ملک میں  اصلاحات اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اور مضبوط سیاسی کمٹمنٹ  پر مبنی  نظام بھی درکار ہے ۔  مجموعی طور پر ہمارا سارا سیاسی ، انتظامی اور ادارہ جاتی نظام بگاڑ کا شکار ہے جس کی وجہ سے بہتری کے امکانات پیدا نہیں ہوتے۔ 

اداروں کو مؤثر بنانے کے لئے اہم فیصلے کرنے اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی از خود نہیں آئے گی۔ اسی طرح کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو کمزور کای جاسکے گا۔  لیکن یہ کام آسانی سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو ہر سطح پر مضبوط مزاحمت دکھانے کی ضرورت ہے ۔