پنجاب بجٹ اور ہسپتالوں کی حالت زار

پنجاب کے صوبائی بجٹ میں میٹرو اورنج ٹرین اور شاہراہوں کے لئے کھربوں روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔  ترقی کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت اور سڑکوں کی تعمیر سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن پنجاب جیسے بڑے صوبے میں صرف لاہور اور شہری علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے خزانہ کا منہ کھول دینا اور دہہی علاقے اور جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی کو پس پشت ڈال دینا قابل مذمت ہے۔

یہ سب کچھ اس ڈھٹائی سے سرانجام دیا جاتا ہے کہ خدا کی پناہ ۔جیسا کہ اس اشتہار سے واضح ہوتا ہے۔ بجائے اس بات پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف شرمندہ اور نادم ہوں کہ بجٹ میں پنجاب کے چالیس اضلاع میں ہسپتالوں میں  جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے صرف چھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ الٹا عوام کے پیسے سے سرکاری اشتہارات شائع کراوئے جا رہے ہیں۔  چھ ارب روپوں کو  چالیس ہسپتالوں پر تقسیم کیا جائے تو بمشکل فی ہسپتال دس کروڑ روپے آتے ہیں۔ ہسپتال کی ضروریات دیکھیں تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔

آج پنجاب کے ہسپتال دل کے امراض۔ گردوں کے علاج ، جگر کے ٹرانسپلانٹ کینسر جیسے امراض کو تو رہنے دیجیے معمولی امراض کی تشخیص کے لئے طبی آلات اور جدید مشینری سے بھی محروم ہیں۔ رحیم یار خان کو تو چھوڑیں لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد  جیسے شہروںکے ہسپتال بھی  الٹراساؤنڈ، سی ٹی سکین، انڑوسکوپی مشینوں سے ہی محروم ہیں۔ آبادی کے تناسب سے ہسپتالوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ لہذا ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بیڈ اور جگہ میسر نہیں ہے۔  آؤٹ ڈور مریض برآمدوں میں زمین پر لیٹے دکھائی دیتے ہیں۔

سرکاری ڈاکٹر مریض کو آپریشن کے لئے اپنے نجی کلینک کا پتہ نوٹ کرواتے ہیں۔ حال ہی میں لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں دل کے مریضوں کے لئے  ناقص اور غیر رجسٹرڈ شدہ سٹنٹ کا سکینڈل سامنے آیا ہے۔ لیکن ابھی تک اس میں ملوث کرداروں کو کوئی سزا نہ مل سکی۔ آج غریب لوگ یا تو علاج کروانے کے وسائل نہیں رکھتے یا اپنے زیورات اور جائداد فروخت کرکے علاج معالجہ کروانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قوم صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کو بہتر کئے بغیر ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتی۔ جبکہ ہمارے بیوروکریٹس اور حکمران سرکاری وسائل پر بیرون ملک علاج کروانے تشریف لے جاتے ہیں۔

کیا  سرکاری خزانے پر بیرون ملک علاج پر اٹھنے والے اخراجات کو سرکاری ہسپتالوں کے بجٹ میں شاملِ نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر شہباز شریف کے مطابق پنجاب کے ہسپتال بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں تو پھر وہ اپنا سالانہ میڈیکل چیک لندن کے ہسپتال کے بجائے لاہور کے سرکاری ہسپتال سے کیوں نہیں کرواتے۔