لندن برج پر انتہا پسندوں کا خون خرابا
انسانی جان لینا اتنا آسان کام ہوگیا ہے جسے سوچ کر انسانیت شرمندہ ہوجاتی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے دنیا کے کئی ممالک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نام پر ایک نہیں لاکھوں انسانوں کو مار ڈالا گیا ہے۔ پہلے یہ کام مشرق وسطیٰ میں عام تھا اب یہ یورپ، امریکہ ، افریقہ اور ایشیا میں بھی ہونے لگا ہے۔ آئے دن دنیا کے کسی نہ کسی ملک سے دہشت گردی کی ایسی خبر آتی ہے جس کو سوچ کر انسان اپنی شرافت اور انسانیت پر شرمندہ ہوتا ہے۔ کچھ پل کے لئے انسان اس بات کو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیوں ایک انسان دوسرے انسان کی جان لے رہا ہے۔
دہشت گردی کے کئی اسباب ہیں جن میں ایک سب سے بڑی وجہ مسلم ممالک میں حکومتوں اور عوام کے بیچ تناؤ ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ ملکوں میں امریکہ اور یورپ کی دخل اندازی ہے اور زیادہ تر مسلم ممالک میں مذہبی معاملات کی غلط تشریح ہے جس سے نوجوان تشدد کا راستہ اختیا ر کر رہے ہیں۔ 3 جون کی شب دس بجے تین سر پھرے حیوانوں نے لندن برِج پر تیز رفتار وین چلا کر اڑتالیس لوگوں کو بُری طرح زخمی کردیا جن میں اٹھارہ لوگوں کی حالت اب بھی نازک ہے۔ اس کے بعد انتہا پسندوں نے برو مارکیٹ کے قریب تیز دھار چاقوؤں سے حملہ کرکے لوگوں کی جان لے لی ۔ تاہم پولیس نے موقع واردات پر تینوں انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا۔
لندن دنیا کا ایک عظیم اور تاریخی شہر ہے اس لئے اس خبر کو پوری دنیا کے ٹیلی ویژن پر دکھایا جانے لگا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حادثے کی خبر پوسٹ کی جانی لگی۔ شروع میں اس خبر کے متعلق کوئی خاص بات سامنے نہیں آئی۔ لیکن جوں جوں وقت بیتنے لگا مزید تفصیلات سامنے آنے لگیں۔ لندن برِج اور اس کے قریب کی سڑکوں کو بند کردیا گیا اور پولیس اور خفیہ ایجنسی ا س بات کا پتہ لگانے میں جٹ گئی کہ آخر اس حملہ میں کن لوگوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے اور ان کا تعلق کس گروپ سے ہے۔ اتوار 4 جون کو پولیس نے اس سلسلے میں بارہ لوگوں کو بارکنگ کے علاقے سے گرفتار کیا ہے، جن میں سات عورتیں بھی شامل ہیں لیکن ان سبھی کو بعد میں رہا کردیا گیا۔ اس کام کو انجام دینے میں خواہ کسی کا بھی ہاتھ ہو لیکن فی الحال شک کی سوئی سیدھے مسلمانوں پر جارہی ہے۔ تاہم حکومت اور پولیس نے اس سلسلے میں کھُل کر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ لیکن اسلامک اسٹیٹ نے لندن برِج حملے کی ذمّہ داری قبول کی ہے۔
میٹرو پولیس کے چیف ماک چستی commander for engagement نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کو انتہا پسندی کی جڑوں کو اکھاڑ پھیکناچاہئے جس کو اسلام مذہب سے خوامخواہ جوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی اسلام مذہب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماک چستی خود ایک مسلم آفیسر ہیں۔
لندن کے مئیر صادق خان نے اس موقع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں لوگوں کو سڑکوں پر بڑھتی ہوئی پولیس کی موجودگی سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صادق خان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ خطروں سے کھیل رہے ہیں اور لندن مئیر کا بیان ایک قابلِ رحم عذر تھا۔ تاہم نیو یارک کے مئیر بل دی بلاسیو نے صادق خان کے دفاع میں کہا کہ وہ ایک عمدہ کام کر رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بات ناقابلِ قبول ہے۔
پولیس اور خفیہ ایجنسی نے حملہ آوروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ 27 سالہ پاکستانی نژاد خرّم بٹ کو خفیہ ایجنسی جانتی تھی اور جس پرانتہا پسندی کا شک نہیں تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق خرّم بٹ کے متعلق 2015 میں ایک شخص نے خفیہ ایجنسی کو فون کیا تھا، جب اسے اس کی حرکات پر شک گزرا تھا۔ ایک خاتون نے بھی خرّم بٹ کے خلاف پولیس میں شکایت کی تھی جب اس نے اس خاتون کے بچّوں کو انتہا پسند بنانے کی کوشش کی تھی۔ دوسرا رشید دیوان جس کا تعلق لیبیا اور مراکش سے ہے اور جس کے متعلق خفیہ ایجنسی کو کوئی جانکاری نہیں تھی۔ جبکہ تیسرا یوسف زغبا ہے جس کا تعلق مراکش اور اٹلی سے ہے۔
پچھلے دس ہفتوں میں لندن میں انتہا پسندوں کا یہ تیسرا حملہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں دو حملے ویسٹ منسٹر برِج اور لندن برِج پر ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے بعد حکومت نے ویسٹ منسٹر برِج، واٹر لو برِج اور لیمبتھ برِج پر پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لئے اسٹیل کی رکاوٹیں لگا دی ہیں۔ میں یہاں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ پچھلے دو حملوں میں انتہا پسندوں نے برِج کے کنارے پیدل چلنے والوں کے راستے پر گاڑی دوڑا دی تھی ۔ جس سے کئی لوگوں کی جان چلی گئی اور بہت سارے لوگ بری طرح زخمی بھی ہوئے تھے۔ وزیر اعظم تھریسا مے نے کہا کہ (Enough is Enough) بس بہت ہوگیا ۔ اب وقت آچلا ہے کہ ہمیں سخت قدم اٹھانے پڑیں گے۔ وزیر اعظم کی اس بات کو زیادہ تر اخباروں نے اپنی سرخیاں بنائی ہیں۔ لیکن وہیں لیبر لیڈر جریمی کوربین نے تھریسا مے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کٹوتی سے لوگوں کی حفاظت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی حکومت میں آئی تو وہ پولیس کی تعداد کو بڑھا دیں گے۔
وزیراعظم تھریسا مے نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا انتہا پسندوں کے لئے ایک محفوظ جگہ ہے جہاں سے وہ معصوم لوگوں کو گمراہ کرکے، اپنے ناپاک مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انٹر نیٹ اور ٹیکنالوجی پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور اس کے لئے نئے قانون بھی بنائے جا ئیں گے۔ تاہم ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سائیبرسیکوریٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے انتہا پسندی کے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دیکھا جائے تو برطانیہ میں پچھلے کئی برسوں سے انتہا پسند کافی سر گرم ہیں۔ میں نے کئی بار ٹیلی ویژن پر ان لوگوں کی باتوں اور خیالات کو سنا ہے۔ جس سے مجھے فوراً اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہ لوگ کتنے خطرناک ہیں۔ لیکن وہیں مجھے برطانوی حکومت اور خفیہ ایجنسی پر بھی حیرانی ہو رہی ہے کہ وہ کیوں ایسے خطرناک انتہا پسندوں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر پولیس اور خفیہ ایجنسی چاق و چوبند رہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ خطرناک لوگ اپنا کام انجام دے پائیں گے۔
یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ انتہا پسند لندن سمیت دنیا کے دیگر شہروں میں بے گناہ لوگوں کی جان لے رہے ہیں ۔ وہیں یہ بھی افسوس ناک بات ہے کہ ان لوگوں کا اسلامی نام اور چہرے پر داڑھی ہونے کی وجہ سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس پورے معاملے کو اسلام مذہب سے جوڑا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے کروڑوں امن پسند مسلمانوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔