عالمِ اسلام کی بہادر بیٹیاں
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- جمعرات 08 / جون / 2017
- 12563
قرہ فاطمہ ترک تاریخ کی اُن بہادر خواتین میں سے ہیں جن کی نڈر شخصیت، ملک و قوم سے محبت اور روز و شب جد و جہد نے ترک قوم اور ملک کو آزاد اور سرخرو کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قرہ فاطمہ نے بلقان کی جنگوں، قفقاز کے محاذ، پہلی جنگ عظیم اور ترکی کی جنگ آزادی میں شرکت کی۔ اُنہوں نے جنگ آزادی کے دوران مختلف محاذوں پر نہ صرف بنفس نفیس شرکت کی بلکہ سپاہیوں پر مشتمل ایک فوجی دستے کی کمان بھی سنبھال لی۔ یونانیوں سے جنگ کرتے ہوئے وہ گرفتار بھی ہوئیں مگر جلد ہی فرار ہوکر اپنے دستے کے ساتھ بورسہ شہر پر ترکی فوج کی فتح اور یونانیوں کو شکست دینے میں پیش پیش رہیں۔
جنگ آزادی کے بعد اُنہیں ’’تمغۂ استقلال‘‘ سے نوازا گیا اوراُن کے نام پنشن بھی مقرر کی گئی لیکن اُنہوں نے یہ پنشن لینے سے انکار کیا اور اپنی پنشن کو ’’ہلال احمر‘‘ کے حوالے کردیا۔ قرہ فاطمہ 1955 میں استنبول میں انتقال کرگئیں۔ چونکہ مغربی نوآبادیاتی طاقتوں اور روس سے صدیوں سے جنگیں جاری تھیں اور یورپی ممالک کی انگیخت پر عثمانی سلطنت کی عیسائی اقلیتوں اور بالخصوص بدوی عرب باشندوں نے بغاوتوں کا ایک ختم نہ ہونے والے سلسلے کا آغاز کیا تو اِن مسلسل حملوں اور بغاوتوں کا ناگزیر نتیجہ یہ ہوا کہ ترک نسل کے مردوں کی تعداد کافی حد تک کم ہوگئی۔ لہٰذا اپنے وطن کی حفاظت کی خاطر ترکی کی خواتین نے بھی اپنے مردوں کے ساتھ ساتھ کبھی جنگ کے محاذوں پر، کبھی اسلحہ بناتے ہوئے، کبھی جنگی سامان کو محاذوں تک پہنچاتے ہوئے اور بالخصوص جنگ آزادی کے ہر مشکل مرحلے پر ترک مردوں کے شانہ بہ شانہ بہادری سے اپنے وطن اور قوم کی حفاظت کی اور بے شمار قربانیاں دیں۔
راقم الحروف کی والدہ مرحومہ کی نانی اماں نے بھی جنگ آزادی میں محاذ پر جنگی سامان لے جاتے ہوئے اُن کی دیورانی کو پکڑ کر بے چاری کی عصمت دری کرنے کے بعد اپنی سنگینوں سے بیچاری کی چھاتی سینے سے الگ کرنے والے تین یونانی سپاہیوں کو قتل کرکے نارِ جہنّم رسید کیا تھا۔ اِس بہادری اور ہمت کی نشانی اُن کی گردن پر تین سنگینوں کے زخم تھے جوکہ مرتے ہوئے یونانی فوجیوں نے اُن کی گردن میں گھونپ دی تھیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہ صرف وہ زندہ رہیں بلکہ فی الفور اپنے حصے کا جنگی سامان اپنے کندھے پر لاد کر محاذ کی جانب بڑھنے والے کاروان تک پہنچ بھی گئیں۔ اللہ تعالیٰ اُن تمام مرد و زن، جوان اور بوڑھے اور بچے شہداء اور غازیان وطن کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
اور یہاں صرف ترک قوم کی خواتین نہیں بلکہ تمام عثمانی مملکت کے طول و عرض میں موجود اسلام کی بہادر بیٹیاں اسلام سے محبت اور اسلامی برادری اور آزادی کی اُمنگیں دِل میں لیے جان و مال کی قربانیاں دینے میں ایک آنکھ نہیں جھپکتیں۔ اُن میں سے ایک فاطمہ بنت عبداللہ تھیں۔ 1911 میں آج کا لیبیا اور اُس زمانے کے طرابلس اور بن غازی عثمانی سلطنت میں شامل تھے۔ بزعم خود مغرب کے عالی شان اور مہذب مغربی ممالک نے اپنے استعماری اغراض و مقاصد کے لیے عالم اسلام کو آج کی طرح اُس وقت میں بھی میدانِ جنگ میں تبدیل کیا ہؤا تھا اور اُن کی لالچی نظریں اسلام کے آخری قلعہ مملکت عثمانی یعنی ترکی پر مرکوز تھیں۔ اُس کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کی غرض سے شدید اور جان لیوا وار کررہے تھے۔ اُس عہد میں مغربیوں کے دِل و دماغ میں استعماری اور نو آبادیاتی جنون کا بھوت جو تھا وہ اٹلی کے سر پر بھی سوار ہوا اور اٹلی نےاپنے سب سے نزدیک عثمانی علاقہ طرابلس اور بن غازی پر اپنی تمام تر طاقت سے حملہ کیا۔ چونکہ اُس وقت مصر پر انگریزوں کا قبضہ تھا تو اُن لوگوں نے عثمانی فوج کو لیبیا جانے کے لیے راستہ نہیں دیا اور عثمانیوں کو بحری راستے سے جانے کی سہولت بھی نہیں تھی۔
آخر جنگ کے آغاز سے قبل طرابلس میں موجود کچھ ترک سپاہی اور طرابلس اور بن غازی کے عرب قبائل کے جوانوں نے مل کر اطالوی فوج کو ساحل کے علاقے میں روکا اور بعد میں اِن مجاہدوں کی امداد میں انور پاشا اور مصطفی کمال (اتاترک) جیسے جوان سال ترک افسر بھی بھیس بدل کر طرابلس پہنچے۔ یہ مجاہد اطالوی فوج کو آگے بڑھنے نہیں دے رہے تھے کہ اچانک روس کی سربراہی میں بلقانی ممالک نے عثمانی سلطنت پر حملہ کیا۔ اِس طرح پہلی جنگ بلقان شروع ہوئی۔ چونکہ عثمانی فوج اِس حملہ کے لیے تیار نہیں تھی لہٰذا ترکوں کو سخت شکست ہوئی۔ بلقانی فوجیں ادرنہ (آڈریاناپول) پر قبضہ کرکے عثمانی دارالخلافت استنبول تک پہنچ گئیں۔ پھر طرابلس میں موجود ترکی افسر مجبور ہوکر ترکی واپس پہنچے اور بلقان جنگ میں شامل ہوئے۔ اُن کے طرابلس اور بن غازی سے الگ ہوتے ہی طرابلسی مجاہدوں کو شکست ہوئی اور پھر اِس طرح سے لیبیا میں اٹلی کی استبداد اور تشدد کا دَور شروع ہوا جس میں ہزاروں معصوم لیبیائی عوام کی جانیں تلف ہوئیں اور سینکڑوں مسلمان بیبیوں کی عصمت دری ہوئی۔
اُنہی دِنوں میں معروفِ زمانہ ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال میں ایک طرابلسی لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ کے بارے میں ایک خبر شائع ہوئی۔ اِس خبر میں ایک چشم دید گواہ ترک افسر ڈاکٹر اسماعیل بیگ کی زبانی ایک لیبیائی لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ کی کہانی تھی۔ اِس خبر کے مطابق فاطمہ کے والد عبداللہ مجاہدوں میں شامل تھے اور وہ اپنی والدہ کی ہمراہی میں زخمیوں کو پانی پلارہی تھی۔ ایک دِن ہوا یہ کہ نوری بیگ کی کمان میں لیبیائی مجاہدین جن میں بیس ترک سپاہی بھی تھے جھڑپ کے دوران اطالوی فوج کے گھیرے میں آگئے مگر ہمت کرکے وہ اِس گھیرے سے باہر نکل آئے۔ اِس دوران کچھ شہید بھی ہوئے اور کچھ زخمی بھی۔ فاطمہ اپنی مشک لے کر ایک زخمی ترک سپاہی کے پاس پہنچی تاکہ اُس کو پانی پلادے۔ وہ اپنی مشک زخمی ترک سپاہی کے منہ سے لگاکر پانی پلانے ہی والی تھی کہ ایک اطالوی فوجی آپہنچا اوراُس نے فاطمہ کو گردن کے پیچھے سے زور سے پکڑلیا۔ فاطمہ سے اُس کی یہ بدتمیزی برداشت نہیں ہوئی اور اُس نے زخمی ترک سپاہی کی تلوار زمین سے اُٹھا کر بڑی ہمت اور جرأت دکھا کر اُس اطالوی فوجی کے ہاتھ پر ماری جس کی وجہ سے اُس بدتمیز کا ہاتھ اُس کے جسم سے الگ ہوگیا اور پھر فاطمہ زخمی سپاہی کو پانی پلانے لگی۔ اُتنی دیر میں اُس فوجی نے اپنی پستول سے پیچھے سے فائر کرکے اِس عظیم اور بہادر لڑکی کو شہید کردیا۔
شاید یہ خبر علامہ محمد اقبال کی نظرنواز ہوئی ہوگی کہ اُنہوں نے فاطمہ بنت عبداللہ کے نام مندرجہ ذیل نظم لکھی:
فاطمہ بنت عبداللہ
عرب لڑکی جو طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی 1912
’فاطمہ‘! تُو آبروئے اُمّتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت، حورِ صحرائی تری قسمت میں تھی
غازیانِ دِیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
یہ جہادُاللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر!
یہ کلی بھی اِس گلستانِ خزاں منظر میں تھی!
ایسی چنگاری بھی یا ربّ، اپنی خاکستر میں تھی!
اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں
’فاطمہ‘! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے
رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے!
ذرہ ذرہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
ہے کوئی ہنگامہ تیری تربتِ خاموش میں
پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اِس آغوش میں
بے خبر ہوں گرچہ اُن کی وُسعتِ مقصد سے مَیں
آفرینش دیکھتا ہوں اُن کی اِس مرقد سے مَیں
تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور
دیدۂ انساں سے نامحرم ہے جن کی موجِ نور
جو ابھی اُبھرے ہیں ظلمتِ خانۂ ایّام سے
جن کی ضَو نا آشنا ہے قید صبح و شام سے
جن کی تابانی میں اندازِ کہن بھی نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پَرتَو بھی ہے
خوشی کی بات یہ ہے کہ اسلام کی بیٹیوں میں یہ جد و جہد کی روح کل کی طرح آج بھی تر و تازہ اور زندہ ہے اور جب بھی ضرورت پیش آئے تب اُن کی یہ روح اپنا جوہر دکھاتی ہے اور اِس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ بہادری میں مردوں سے کچھ کم نہیں۔ جس طرح مصر میں رابعہ کے میدان میں اسماء شہید ہوئی جس طرح 15 جولائی 2016 کو ترکی میں ملک دشمن کچھ فوجیوں نے اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بغاوت کی اور ترکی کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کی بے شرمی سے کوشش کی، تو صدر مملکت رجب طیب ایردوغان کی دعوت پر لاکھوں ترک فوجی بغاوت کو ناکام بنانے اور اپنے وطن اور ملت کے تحفظ کے لیے منٹوں میں سڑکوں پر آگئے۔ جن میں بے شمار خواتین بھی شامل تھیں۔ اُس رات ترکی میں ایک تاریخ رقم ہوئی اور ترکی کی جمہوریت شہیدوں کے خون سے بچائی گئی۔ اِس میں ترکی کی اُن نڈر خواتین کا بھی اہم رول تھا۔ ترکن ترکمان تکین کا نام لیجئے یا عائشہ آیتاج کا، یا جنت ییغیت کا نام لیجئے یا زینب ساغیر کا، اِن خواتین نے بہادری سے باغی فوجیوں کا مقابلہ کیا۔ اِس بہادری کا نعم البدل نہیں اور اِن کی داستان کو دنیا کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا بھی جائے گا۔ کسی کے اوپر سے ٹینک گزارا گیا، کسی کے سینے سے باغی سنائیپر کی گولی گزگئی یا ایف 16 جنگی طیارے کی فائرنگ سے کسی کا سر جسم سے الگ ہوگیا۔ مگر نہ مرد نہ عورت نہ ہی بوڑھے، کسی نے بھی اِن غداروں کے وحشیانہ حملوں سے خوف کھایا اور اُن ظالموں کو ناکام کیا۔
اُس رات ڈھائی سو ترک شہری شہید ہوگئے جن میں سے اکثریت عام شہریوں کی تھی اور ہزاروں شہری زخمی ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ترکی اور تمام عالمِ اسلام کو اِس طرح کے بکے ہوئے غداروں سے محفوظ رکھے اور اُن کو کبھی بھی سر اُٹھانے کا موقع نہ دے۔ آمین