لوڈ شیڈنگ سے نجات
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 08 / جون / 2017
- 4049
پاکستان کے عوام ہر دکھ سہتے ہیں مگر اپنے حکمران نہیں بدلتے جو ان دکھوں کا جواز ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں کسی بھی منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے باقاعدہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جاتا ہے۔ پھر تمام اداروں سے اشارہ ملنے پر منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے ۔ ایسے ممالک میں منصوبے سیاسی نہیں ہوتے بلکہ منصوبے ملکی اور قومی مفادات کو مدِنظر رکھ کربنائے جاتے ہیں۔ کسی بھی منصوبے کی کامیابی، منصوبہ شروع کرنے سے پہلے کی گئی حکمتِ عملی پر منحصرہوتی ہے۔
پاکستان میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی چیز آبادی ہے ۔ جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اس حساب سے زندگی گزارنے کی سہولیات کی فراہمی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ نہ پانی کے ذرائع بڑھائے گئے اور نہ ہی نکاسی آب کے مسائل پر دھیان دیا جا رہا ہے ۔ سب سے بڑا مسلۂ یہ ہے کہ ادارے ان سب چیزوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہروں اور دیہاتوں کا بنیادی ڈھانچہ بڑھتی آبادی کو سنبھالنے کیلئے مرتب دیں۔ صرف خوراک کی ترسیل سے ہی ہم بڑھتی آبادی کا مسلۂ حل نہیں کرسکتے ۔
اب کراچی شہر کو لے لیجئے ایک اندازے کہ مطابق کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو سمونے کیلئے رہائش کا تو بندوبست ہوگیا ہے مگر کیا صرف رہائش کا بندوبست ایک پہلے سے آباد علاقے میں کافی ہے۔ اس بندوبست کی صورتحال یہ ہے کہ ایک گھر کو تین اور چار حصوں یا گھروں میں تقسیم کیا جاچکا ہے یعنی جس گھر میں ایک خاندان مقیم تھا آج وہاں چار سے چھ خاندان رہ رہے ہیں۔ دیگر مسائل تو جیسے تیسے چل ہی رہے ہیں مگر آج کل بجلی کی لوڈ شیڈنگ انتہائی سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک اہم ترین ملکی مسلۂ بن چکی ہے۔ ملک میں بجلی کی ترسیل ہر شہر میں وہاں کی مقامی بجلی کی فراہمی کی کمپنی کے ذمے ہے۔ اکثر شہروں کی یہ کمپنیاں نجی شعبے میں کام کر رہی ہیں اور کسی سرکار کو جوابدہ بھی نہیں ہیں۔ جوکہ ایک تشویشناک بات ہے ۔ کسی بھی قسم کی توانائی ، مواصلات اور ذرائع امد و رفت کے ادارے سرکاری تحویل میں ہی ہونے چاہییں تاکہ ان پر دشمن کی کسی قسم کی سازش کا اثر نہ ہو۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے بندوبست میں بجلی کی کھپت بھی بڑھ گئی یعنی جہاں ایک گھر استعمال کرتا تھا اب وہاں لگ بھگ وہی چار سے چھ خاندان مستفید ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے عوام چاہیں تو ہمارے سامنے چند ایسے حل موجود ہیں جن پر عمل کرکے کسی حدت ک لوڈ شیڈنگ کے اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ عوام اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ بجلی کا کثرتِ استعمال بجلی کی کمی کا باعث بنتا ہے تو ہم صرف ضرورت کہ تحت اور ناگزیر صورتحال کے حساب سے اپنے گھر کا لوڈ مینجمنٹ کریں۔ اس پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا رہیں۔ دوسرا یہ کہ بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ اس بات سے قطعی نظر کہ بل کی لاگت کتنی ہے آپ اپنی حیثیت کے مطابق بل ادا کیجئے تاکہ ادارے کو اس بات احساس ہو کہ صارف کچھ نہ کچھ تو میسر شدہ سہولت کی مد میں ادائیگی کر رہا ہے ۔ یہ دونوں صورتیں مثبت سوچ کی عکاسی کرتی ہیں جو ہمارے معاشرے میں ناپید نہیں ہے ۔
تیسری اور انتہائی اہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی چوری نہ جائے اور کرنے والوں کو قانون کے حوالے کریں۔ درحقیقت انہی لوگوں کی وجہ سے یہ بجلی کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آخر میں یہ لکھنا اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہوں کہ آئندہ جب کبھی بھی انتخابات ہوں تو یہ سوچ لینا چاہئے کہ ووٹ دینتے ہوئے امید وار کے کردار کو دھیان میں رکھا جائے۔ طاقت کا منبع ہم عوام ہی ہیں، بس ضرورت ہمارے متحد ہونے کی ہے۔