قطر اور سعودی عرب کی سفارتی سر پھٹول

  • تحریر
  • جمعہ 09 / جون / 2017
  • 4661

گزشتہ کچھ عرصے سے قطر کا نام نام بار بار سنا۔ کبھی قطری شہزادے کے خط کے حوالے، کبھی تلور کے شکار کی خصوصی اجازت کے حوالے سے اور کبھی ایل این جی کے بیس سالہ خریداری معاہدے کے حوالے سے۔ یار لوگ تو ابھی اس ٹوہ میں تھے کہ پانامہ کیس میں مرکزی دفاعی دستاویز میں جس قطری شہزادے کا خط شامل ہے، وہ بہ نفسِ نفیس جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں گے یا نہیں کہ ا س دوران قطری شہزادے کا بیان آگیا کہ وہ اپنے خط کی تو تصدیق کرتے ہیں لیکن اصالتاٌ کسی تفتیشی ادارے کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

ان کی عدم پیشی کی صورت میں ان کے خط کی حیثیت کے بارے میں عدالت کے ایک کومنٹ کا ذکر کرکے یار لوگ دور پار کی کئی کڑیاں ملا کر اس کیس کے انجام کو اپنے اپنے بنائے ہوئے جامِ جم میں دیکھ رہے تھے کہ اچانک قطر کا نام کسی اور حوالے عالم میں چار دانگ ایسا گونجا کہ قطر کو اپنے لالے پڑ گئے ہیں۔  ابھی ڈیڑھ دو ہفتے کی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر آئے تو پچاس کے لگ بھگ مسلم ممالک کی ایک سربراہی کانفرنس ہوئی۔ اس اجتماع میں قطر کے سربراہ بھی شریک ہوئے بلکہ سائیڈ لائینز پر امریکی صدر سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔ ابھی اس کانفرنس کے اثرات پر کئے گئے تجزیوں کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ خلیجی تعاون کونسل کے چار ممالک نے یکدم قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ سعودی عرب نے ابتداء کی ، یو اے ای ، مصر اور بحرین نے جھٹ سے آمنّا و صدقنا کہا۔ کہنے کی حد تک یمن اور لیبیا کے نے بھی اس سفارتی بائیکاٹ کا ساتھ دیا، یہ الگ بات کہ یمن اور لیبیا کو اپنی پڑی ہوئی ہے ۔ ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی انتہائی حد بھی بعض اوقات آ جاتی ہے لیکن یوں کھڑے کھڑے ہوائی اور سمندری رابطے بھی منقطع ہونا اچنبھے کی بات ہے۔

جو ہوا ، بظاہر اچانک ہوا لیکن حقیقتاٌ اختلافات کی چنگاری کافی عرصے سے سلگ رہی تھی۔ جس طریقے اور باجماعت انداز میں یہ اقدام ہوا اس سے قطر کی جو سفارتی تضحیک اور تنہائی ہوئی سو ہوئی ، مشرق وسطیٰ کی ان دوسری طاقتوں کی عزت میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ بلکہ دنیا کے کئی ایک نمایاں اخبارات نے جو سرخیاں لگائیں اس میں انگریزی لفظ Bizarre استعمال کیا گیا۔ ڈکشنری میں اس کے معنی دیکھے تو طبیعت مکدّر ہوئی کہ جی سی سی کے ان ممبر ممالک کے درمیان معاملات اس نہج تک پہنچے کہ ایک عالم کو ایسے الفاظ کے استعمال کا موقع ملا۔ ایسا کیا ہوا کہ اچانک اس چنگاری نے ہوا پکڑی اور شعلہ بن گئی۔ بظاہر تو وہی ایک One size fit all والا الزام ہی کام آیا۔ سعودی عرب اور اس کی حمایت میں کھڑے دیگر ممالک کا الزام ہے کہ قطر خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے اور ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروپس کو سپورٹ کر رہا ہے۔

دہشت گردی نے جو تباہی پھیلائی سو پھیلائی، اس کی مسلّمہ تعریف کی بجائے ہر ایک طاقتور ملک اور گروہ اس کی تعریف اپنی پسند سے کرنے اور منوانے پر تلا ہوا ہے۔ قطر مصر کی اخوان المسلمون اور فلسطین کے حماس کی سیاسی حمایت کرتا ہے بلکہ 2012 سے حماس کے ایک اہم لیڈ قطر میں مقیم ہیں۔ اس فردِ جرم میں شام میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں اور القاعدہ کی حمایت اور مدد کے الزامات کے ساتھ ساتھ بحرین اور سعودی عرب کی مشرقی سرحدی پٹی قطیف میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ گروپس کی امداد کا الزام بھی شامل ہے۔ بظاہر گزشتہ ماہ 23 مئی کو قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی پر قطر کے امیر کی جانب سے سعودی عرب کی پایسیوں پر تنقید کی گئی اور خطے میں ایران کی پالیسیوں کی حمایت کی گئی۔ سعودی عرب نے بجا طور پر اس کا برا منایا لیکن قطر نے فوراٌ دہائی دی کہ اس کی سرکاری نیوز ایجنسی کی ویب سائیٹ ہیک ہو گئی ہے۔ ہیک ہونے کے بعد امیرِ قطر سے منسوب جو بیان ویب سائیٹ پر ہے اس سے قطر کی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ قطر نے امریکہ کی ایف بی آئی اور برطانیہ کے ادارے نیشنل کرائم ایجنسی سے بھی مدد لی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ویب سائیٹ ہیک ہوئی اور اس کا کھرا  روس کی طرف جاتا پایا گیا۔ سی این این نے اس پر ایک رپورٹ بھی نشر کی۔ اس موقع پر امریکی صدر نے اپنے ایک ٹویٹ میں یہ انکشاف کیا کہ انہیں بھی اس دورے میں یہ بتایا گیا کہ قطر دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

قطر رقبے اور آبادی کے اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ کل رقبہ ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ اس جزیرہ نما ملک کی واحد سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے جس کی لمبائی فقط ستاسی کلو میٹر ہے۔ کل آبادی تئیس لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں صرف گیارہ فی صد قطری ہیں جبکہ 89% غیر قطری ہیں۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس سے مالامال ہے۔ دنیا کا گیس کا تیسرا سب سے بڑا ذخیرہ قطر کے پاس ہے ، جو دنیا کے کل قدرتی گیس کے ذخائر کا 13% ہے۔ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے چھوٹا ملک ہونے کو باوجود قطر نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران مہارت سے دنیا میں اپنا ایک علیحدہ اور ترقی پسند تشخص بنایا ہے جس کا کریڈٹ موجودہ امیر کو جاتا ہے جنہوں نے یورپ اور امریکہ کی یونی ورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یورپ اور امریکہ میں ہائی پروفائل سرمایہ کاری نے انہیں ایک منفرد مقام دلایا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا ائیر بیس اسی ملک میں ہے جس میں دس ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجی تعینات ہیں۔ 2022 میں ورلڈ فٹ بال کی میزبان بھی قطر ہی ہے۔

اس سب کچھ کے علاوہ الجزیرہ عربی اور انگلش ٹی وی چینل نے قطر کو مشرق وسطیٰ میں دیگر تمام ممالک سے نمایا ں امتیاز دیا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی نشریات میں اکثر قدرے بے باکانہ اور آزادانہ پوزیشن لی جس پر مشرق وسطیٰ کے اکثر ممالک اس سے شاکی رہے ہیں۔ اظہارِ رائے پر مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں مختلف قدغنیں ہیں۔ آزادانہ رائے، تبصرے، خبریں اور رپورٹس کسی بھی ذریعے سے ہوں، حکومتوں کو گوارا نہیں۔ دیگر ممالک کے ہاں سے کوئی ایک میڈیا ہاؤس بھی الجزیرہ کی قبولیت کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔ بہارِ عرب میں میڈیا کے کردار کے بعد عرب ممالک کی بادشاہتیں اور حکومتیں چانس لینے کو تیار نہیں۔ اس لئے الجزیرہ سے ان کا خائف ہونا خالی از علّت نہیں۔ خبروں پر کنٹرول کا یہ عالم ہے کہ یو اے ای نے اپنے ہاں قطر سے ہمدردی یا یکجہتی کے اظہار کو ممنوع قرار دیا ہے۔ جِسے خلاف ورزی کرنے کا شوق چرائے وہ پندرہ سال سز ا  اور پانچ لاکھ درہم جرمانے کا بندو بست کرلے تو یہ شوق پورا کرنے کا ایڈوینچر کر لے۔ سفارتی تعلقات توڑنے والے تمام ممالک نے ساتھ ہی اپنے اپنے ملک میں الجزیرہ کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں طاقت ، سیاست اور قیادت کی پکنے والی ہنڈیا اب بیچ چوراہے آن گِری ہے۔ ایران کا مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سمیت عراق اور شام کی خانہ جنگی میں اثرونفوز بڑھ رہا ہے۔ روس کی شراکت میں ایران شام میں ایک واضح فریق ہے۔ صدیوں سے جاری ایران اور عرب سیاسی اور مذہبی اثرونفوز کی ڈھکی چھپی جنگ اب اوپن ہو رہی ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ قطر کو ایران کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے۔ اور وقت اس سزا کا عین اس کانفرنس اور کئی سو ارب ڈالرز کی امریکہ سے اسلحہ خریداری کے بعد ہونا محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نئے توازن کے حصول کا اگلا مرحلہ ہے جس میں اس طرح تو ہوگا اس طرح کے کاموں میں۔ ہم ایسے طالب علم جنہیں اپنی تاریخ میں طاقت اور حکومت کے لئے  محیرالعقول واقعات سمجھنے میں دقت ہوتی رہی، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان اچانک اس سفارتی سر پھٹول سے ان واقعات کو بہتر سمجھنے لگے ہیں۔ دیکھئے صلح صفائی کی کوششیں کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں اور کب تک۔

دمِ تحریر ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر خودکش حملے کی خبر نے چونکا دیا۔ یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری براہِ راست تصادم اور پراکسی وار میں مزید پھیلاؤ اور شدت کا پیغام ہے۔ پاکستان سعودی عرب اور قطر کے مابین سفارتی مقاطعے میں نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ اس کے لئے اپنا دامن بچائے رکھنا اب مزید مشکل ہوگا۔ اس دوران میڈیا اور سیاستدانوں کی سستی جذباتیت اور پوائنٹ اسکورنگ کی روش حکومت کو مزید میں دباؤ میں لا سکتی ہے لیکن دامن الجھنے سے بچائے رکھنا ہی کٹھن سفارتی دانائی ہوگی۔