یہ ماہِ رمضان ہے اور ہم مسلمان اپنی غلطیوں پر مصر ہیں!
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- ہفتہ 10 / جون / 2017
- 5068
آج میں اپنی ادارت میں استنبول سے شائع ہونے والے اردو مجلہ ارتباط۔ کے پرانے شماروں کی ورق گردانی کررہا تھا کہ میری نظر شمارہ نمبر 2 سن 2009 میں میرے اپنے اداریہ پر پڑی۔ مَیں نے اُسے پھر سے پڑھا تو اچانک دِل میں ایک عجیب سی غم و اَلم کی لہر اُبھرنے لگی۔ مَیں نے اُس اداریہ کو بھی رمضان کے مبارک مہینے میں غم و اَلم کے عالم میں قلم بند کیا تھا۔ اور آج بھی رمضان کا مبارک ماہ ہے۔ اُس دن بھی نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ تمام عالمِ نوع بشر آگ کے بگولے میں لپٹا ہوا تھا اور دنیا کہ مختلف ممالک میں بالخصوص مسلمان ممالک میں معصوموں کا خون رائیگاں بہہ رہا تھا، آج بھی وہی حالت بلکہ تمام تر شدّت کے ساتھ جاری ہے۔
مَیں اُس دن بھی یہ نہیں سمجھ پارہا تھا کہ بنی آدم اِس فانی دنیا کی خاطر اپنی انسانیت کو پامال کس طرح کررہے ہیں اور آج بھی سمجھ نہیں پارہا ہوں کہ تمام انسانی، اخلاقی، تہذیبی، ثقافتی اور سب سے اہم تر مذہبی اقدار کو طاق نسیان پر رکھ کر انسانیت کُشی میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی ناقابل فہم کوشش کرتے ہیں۔ مَیں سمجھ نہیں پارہا ہوں مگر وہ یہ کام کرتے ہیں اور لگتا ہے کہ کرتے ہی رہیں گے۔ لیجئے میرا اداریہ اور ذرا وقت نکال کر پڑھ لیجئے اور خود فیصلہ کیجئے کہ یہ خاکسار غمگین و دِل شکستہ کیوں نہ ہو:
’’یہ ماہِ رمضان ہے، ماہِ نجات و بخشائش! اور ہم مسلمان ہیں، نجات و بخشش کے طلبگار! اور آج افغانستان میں ایک مسجد میں بم دھماکہ ہوا اور تیس سے زائد مسلمان شہید کروا دئیے گئے ہیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں۔
یہ ماہِ رمضان ہے، ماہِ رحمت و فیاضی! اور ہم مسلمان ہیں، رحمت اور فیض کے خواہش مند! اور کل عراق میں کسی بازار میں خودکش حملہ ہوا اور چالیس سے زائد مسلمان شہید کروا دئیے گئے ہیں اپنے مومن بھائیوں کے ہاتھوں۔
یہ ماہِ رمضان ہے، ماہِ وحدت و اتحاد! اور ہم مسلمان ہیں، واحد جسم کے اجزا! اور عرب، کُرد، ایرانی، ترک، پٹھان، بلوچی، پنجابی، سندھی کہتے کہتے ایک دوسرے سے بیر رکھتے ہیں اپنے مومن دِلوں میں۔
یہ ماہِ رمضان ہے، ماہِ برکت و فراخ دلی! اور ہم مسلمان ہیں، برکت کے منبع اور فراخ دل! اور آج کل افریقہ سے لے کر ایشیا تک کے ملکوں میں بے چارے لوگ بھوک سے مرتے ہیں اپنے بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے۔
یہ ماہِ رمضان ہے، ماہِ صبر و تحمل! اور ہم مسلمان ہیں صبر اور تحمل والے لوگ! ترکی کے مشرقی شہروں میں سے ایک میں ایک بھائی نے اپنی بہن کو قتل کیا ہے اپنی مرضی کی شادی کرنے پر۔
یہ ماہِ رمضان ہے، ماہِ نجات و بخشائش، ماہِ رحمت و فیاضی، ماہِ وحدت و اتحاد، ماہِ برکت و فراخ دلی، ماہِ صبر و تحمل! اِن پر مجھے، بغیر شک و شبہ کے، مکمل یقین ہے۔ لیکن ہم کتنے سچے مسلمان اور مومن ہیں اِس بات کا مجھے بالکل علم نہیں!
در اصل ’’ارتباط‘‘ کے دوسرے شمارے کے لیے اداریہ لکھنے کے لیے موضوع سوچ رہا تھا تو میرے ذہن میں طرح طرح کی باتیں گشت کرنے لگیں۔ میرا دل بڑا خوش تھا کہ سالوں سے جو میری دلی خواہش تھی وہ ’’ارتباط‘‘ کی شکل میں وجود میں آئی اور مختلف حلقوں میں خیر مقدم کیا گیا۔ اِس لیے میری خواہش تھی کہ اِس کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ دوستی و برادری اور پیار و محبت کی باتیں لکھوں۔ لیکن جب نہ صرف عالم اسلام بلکہ تمام عالمِ انسانی پر نظر پڑی تو پھر دل کو بہت دُکھ ہوا۔ یہ صورت حال بظاہر پہلے بھی تھی لیکن ماہِ رمضان جوکہ بے شک اللہ تعالیٰ کا عالمِ انسانیت کے لیے تحفہ ہے، میں کچھ ایسے المیہ واقعات کو دیکھنا، واقعتا راقم حروف کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ مسلمانوں کا مسلمانوں کو، عیسائیوں، ہندوؤں یا سکھوں کا مسلمانوں کو یا مسلمانوں کا عیسائیوں، ہندوؤں یا سکھوں کو ۔۔۔ مختصر انسانوں کا انسانوں کو قتل کرنا وہ بھی اپنے لالچی آقاؤں کو مسرور کرنے کی خاطر میرے لیے ناقابلِ فہم بھی ہے، ناقابل قبول بھی۔ چلو مان لیا کہ دوسرے مذہب والوں سے دشمنیاں درپیش ہیں تو پھر مسلمان کیوں اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ جو بھی ہو مَیں اُس کو ماننے پر تیار نہیں ہوں۔ جبکہ یہ حدیثِ نبی پاک ﷺ ہمارے سامنے ہے:
عن ابی بکرۃ نُفیع بن الحارث الثّقفی رضی اللہ عنہُ، أنّ النّبیَّ صلی اللہ علیہ و سلّم قال: ’’اِذا التقی المسلمانِ بِسَیفھا فالقاتل و المقتول فی النّار‘‘ قُلتُ: یا رسول اللّہ، ہذا القاتل فما بالِ المقتول؟ قال: ’’اِنّہُ کانَ حریصاً علی قتل صاحبہ۔‘‘
ترجمہ: ابی بکرۃ نفیع بن الحارث الثقفی سے روایت ہے: نبی پاک ﷺ نے فرمایا: ’’دو مسلمان ایک دوسرے پر تلوار اُٹھائیں تو قاتل بھی مقتول بھی نار (دوزخ) میں ہیں۔‘‘ اِس پر میں نے کہا: ’’یا رسول اللہ! قاتل تو قاتل ہے لیکن مقتول کیوں دوزخ میں ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کیونکہ وہ بھی اپنے دوست کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘
اِس کے علاوہ کیا کہا جاسکتاہے؟ اِس لیے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ بس علامہ اقبال کی نظم ’’اے روحِ محمدؐ ‘‘ کو یہاں پیش کروں گا میرے دل کا جو طوفان ہے اُس کی بیان گر ہے:
شیرازہ ہوا ملّتِ مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے
وہ لذّتِ آشوب نہیں بحرِ عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں وہ طوفان کدھر جائے
ہرچند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اِس کوہ و بیاباں سے حُدی خوان کدھر جائے
اِس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمدؑ
آیاتِ الٰہی کا نگہبان کدھر جائے
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم مسلمان ہیں، عیسائی ہیں، سکھ ہیں، ہندو ہیں، یہودی ہیں جو بھی ہیں لیکن سب سے پہلے انسان ہیں۔ کم از کم انسانیت کے رشتے پر ایک دوسرے سے محبت کی کوشش کریں اور اِس ماہ رمضان پر تمام نوعِ انسانیت کی بہبود و فلاح کی دعا کریں۔‘‘