کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کا حلیہ کس نے بگاڑا؟
طویل اسیری کے بعد جب میں وطن واپس آیا تو دیکھا کہ ہمیں بچپن میں نصابی کتب میں جو محدود تاریخی و جغرافیائی معلومات ملتی تھی، اس سے بھی ہمارے بچوں کو اب محروم کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ تحریک آزادی کا تقاضا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو قومی تاریخی معلومات سے لیس کریں۔ انہیں سکولوں میں پورے جموں کشمیر کی تاریخ پڑھا کر بتائیں کہ ہم کس طرح جموں کشمیر کے مالک و وارث ہیں۔ لیکن یہاں ایک طرف جموں کشمیر کو آزاد کرانے کے چرچے تھے اور دوسری طرف ہمارے بچوں کو اپنے ملک کی بنیادی معلومات تک فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔
میں نے حکومت کی تعلیمی پالیسی کو تعلیمی تخریبی کاری قرار دیتے ہوئے دو ہزار دس میں حکومت آزاد کشمیر کو خط لکھا جس میں کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ اور تاریخ کشمیر کو نصاب میں شامل کرنے کی درخواست کی۔ حکومت نے انتہائی مضحکہ خیز جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس وسائل اور ماہرین نہیں ہیں۔ اس جواب کے نتیجے میں میں نے طارق محمود ایڈووکیٹ جنرل سے مشورہ کرکے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جسے اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس سردار محمد نواز خان نے سماعت کے لیے باقاعدہ منظور کیا۔ ایک سال تک حکومت اس جائز رٹ کا دفاع کرتی رہی لیکن جب دیکھا کہ وہ کیس ہارنے والی ہے تو اس وقت کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ سردار عتیق احمد خان نے ہماری رٹ کا کوئی زکر نہ کیا حالانکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی شہری کی اچھی کاوش کی حوصلہ افزائی کرکے شہریوں کو مثبت کام کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ لیکن ہم نے پھر بھی سردار عتیق احمد خان کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کا خیر مقدم کیا کیونکہ ہمیں کریڈٹ نہیں بلکہ مثبت فیصلے کی ضرورت تھی۔
ہم یہ سوچ کر مطمئن ہو گئے کہ حکومت اب اس پر پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کرے گی۔ ہمیں جب اطلاع ملی کہ ٹیکسٹ بک بورڈ اور تاریخ کشمیر کو نصاب میں شامل کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا تو میں خصوصی طور کھوئیرٹہ سے طویل سفر کرکے مظفرآباد گیا جہاں نصاب کی ڈائریکٹر تنویر لطیف کے ساتھ ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ان سے پوچھا کہ عملی طور پر کیا کام ہوا ہے۔ انہوں نے نصاب میں معمولی تبدیلیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اچھی تبدیلیوں کے لیے وقت درکار ہوتا ہے انشاﷲ ہم جلد مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیں گے۔ ہم نے ان کے اس موقف کو نیک نیتی سے تعبیر کرتے ہوئے انتظار کیا مگر یہی نہیں کہ کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی بلکہ سیاسی نعروں اور غلامانہ نظریوں کو تاریخ کا نام دے کر پرائمری سکول کے بچوں کو جھوٹ پڑھانا شروع کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر بعض کتابوں میں آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ قرار دیا گیا اور پاکستان سے آنے والی کتابوں کو پاکستان کے ماہرین سے مرتب کروانے کے بجائے غیر ممالک سے منگوا کر انہیں دوبارہ یہاں سے چھپوا کر، ان کے اوپر پنجاب یا آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڑ کا فرضی نام لکھ دیا۔
ہم نے اپنی رٹ میں کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ اور پورے جموں کشمیر کی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہماری غیرت مند اور بہادر حکومت نے اسے آزاد کشمیر تک محدود کیا اور وہ بھی غیر ملکی زبان میں غیر ملکی نصاب۔ ہم انگلش زبان کے ہر گز خلاف نہیں لیکن ہمارا موقف ہے کہ انگلش زبان کا صرف ایک مضمون ہونا چائیے اور انگلش ہمارے اپنے معاشرے اور تاریخ پر مبنی ہونی چائیے۔ یہ کونسا اصول ہے کہ بچے جس ملک و معاشرے میں پیدا ہوں، اس کے بارے وہ کچھ نہ پڑھیں اور سیکھیں اور دوسرے ملکوں کی تہذیب و تاریخ کا درس ان کے لیے لازمی قرار دے دیا جائے۔ سابق حکومت میں محمد مطلوب انقلابی پورے پانچ سال وزیر تعلیم رہے جبکہ اس سے پہلے حکومتوں میں وزیر تعلیم ہر چند ماہ بعد تبدیل ہو جایا کرتے تھے۔ ہمیں امید تھی کہ پی پی کے مستقل وزیر تعلیم مطلوب انقلابی قومی نصاب میں کوئی مستقل و مثبت تبدیلی لائیں گے۔ لیکن جب بھی یاد کروایا انہوں نے کہا متعلقہ ادارے سے آپ کی ملاقات کروائی جائے گی لیکن ملاقات ہوئی نہ کوئی تبدیلی۔ تعلیم یافتہ وزیر تعلیم محمد مطلوب انقلابی نے اپنے دور حکومت میں ناخواندہ لوگوں کو اپنا مشیر رکھا جو ان کی شکست کا سب سے بڑا سبب تھا۔
اب ن لیگ کے وزیر تعلیم کا کوئی پتہ نہیں وہ کہاں ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں لیکن انتہائی اناڑی اور ان پڑھ لوگ تعلیمی پالیسیاں بنواتے اور محکمہ تعلیم کے افسران سے ایسے فیصلے کروا رہے ہیں جو موجودہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں۔ جہاں تک این ٹی ایس کی بات ہے میرا خیال ہے ایک مستقل نظام تعلیم رائج کرنے کے حوالے سے یہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی نیک نیتی پر مبنی ایک اچھی کوشش ہے لیکن عام لوگ تو دور کی بات ہے ان کی اپنی جماعت کے بعض بے صبرے لوگ بھی تلملا رہے ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ راتوں رات سارے مقاصد پورے ہو جائیں۔ ایسا کبھی ہوا ہے نہ ہوگا۔ جہاں تک قومی زبان میں قومی نصاب کی بات ہے، ہمیں معلوم ہے کہ یہ آزاد کشمیر حکومت کے بس کی بات نہیں کیونکہ اس طرح کے فیصلے پاکستان پر بیرون ملک سے مسلط ہوتے ہیں اور پاکستان وہی فیصلے آزاد کشمیر پر مسلط کرتا ہے۔
سامراجی قوتیں کافی عرصہ سے مسلمان ملکوں پر اپنا تعلیمی نظام مسلط کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ پہلے تو انہوں نے اﷲ تعالی کی کلام میں بھی کچھ تبدیلوں کا مشورہ دیا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اس سے تو مسلمان اشتعال میں آ کر سامراج کے خلاف متحد ہو جائیں گے تو انہوں نے بعض اسلامی ملکوں کو تعلیمی پیکج دئیے جن میں پاکستان سر فہرست تھا۔ مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب دوسری قوموں کو مطیع و فتح کرنے لئے ایٹمی قوت کے بجائے اپنے نظام تعلیم کو دوسرے ملکوں میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے چند سال پہلے تعلیم کے نام پر بھاری فنڈ دیا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے نصاب بھی تجویز کیا۔ یہ چھڑی اور گاجر والی بات ہے۔ یعنی کرپٹ حکمرانوں کو پہلے کچھ کھانے کو دو پھر انہیں چھڑی سے ہانکو۔ اس طرح ماڈرن تعلیم کے نام پر ہمارے بچوں کو بے حیائی اور غیر ملکی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ جس کے لیے علامہ اقبال، شیخ سعدی اور ترکی کے النصری کے فلسفہ تعلیم کو زندہ کرنے کے لیے بین الاسلامی مہم کی ضرورت ہے۔
البتہ آزاد کشمیر کی حد تک حکومت سے پوچھا جانا چائیے کہ اس نے کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کو آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ میں کیوں تبدیل کیا اور قومی نصاب سے جموں کشمیر کا تاریخ و جغرافیعہ کیوں ختم کیا۔ وزیر تعلیم نے اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا تو ہم انہیں ایک بار پھر عدالت میں ملیں گے۔