قانون کی حکمرانی کی آزمائش
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 11 / جون / 2017
- 4464
پانامہ کا مقدمہ ، اعلی عدالت کی طرف سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی تفتیش نے وزیر اعظم ، ان کے خاندان اور جماعت سمیت حکومت کو ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ جے آئی ٹی کی تفتیش کی وجہ سے حکومت کو بڑے دباؤ کا سامنا ہے ۔ اس وقت ایک خاص حکمت عملی کے تحت جے آئی ٹی کے تمام ارکان اور ان کے تفتیش کے عمل کو متنازعہ بنا کر، ان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ ان الزامات میں ان کو قصائی کی دوکان ، جیمز بانڈ 007، نااہل ، متعصب، انتقامی جذبہ کے حامل ، مخالفین کے ساتھ گٹھ جوڑجیسے القاب سے نوازا جارہا ہے ۔
اگرچہ نہال ہاشمی کی جانب سے ججوں اور سرکاری افسران کے خلاف سخت زبان اور دھمکیوں پر مشتمل گفتگو کو حکومت نے ان کا ذاتی فعل قرار دے کر خود کو بچانے کی کوشش کی ، لیکن نہال ہاشمی کے بعد بھی جس شدت سے حکومتی ارکان آصف کرمانی ، دانیال عزیز، رانا ثنا اللہ ، مشاہد اللہ ، طارق افضل سمیت دیگر لوگ جے آئی ٹی اور عدلیہ پر تنقید کررہے ہیں۔ اس سے یہ بات کافی حد تک واضح ہوچکی ہے کہ یہ سب کچھ حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ ابتدا میں وزیر اعظم کے بڑے بیٹے حسین نواز شریف نے جے آئی ٹی کے دو ارکان پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا لیکن عدالت میں ان شنوائی نہیں ہوئی۔ اب مسئلہ محض صرف دو ارکان تک محدود نہیں بلکہ جے آئی ٹی کے سربراہ سمیت تمام ارکان پر عدم اعتماد ظاہر کردیا ہے ۔ حکومتی ترجمان نے جے آئی ٹی میں دو سیکورٹی ایجنسیوں کے نمائندوں کی شمولیت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاہے۔
اس سے قبل طارق شفیع اور نیشنل بنک کے سربراہ بھی جے آئی ٹی کے رویہ کے خلاف اپنی شکایت بھی منظر عام پر لاچکے ہیں ۔ حالانکہ عدالت حسین نواز کی درخواست پر کہہ چکی تھی کہ وہ ان تمام معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے اوراگر کہیں محسوس ہوا کہ جے آئی ٹی جانبدرانہ کردار ادا کررہی ہے تو اس پر ضرور ایکشن لیا جائے گا۔ لیکن عدالت کی یقین دہانی کے باوجود جے آئی ٹی حکومتی عتاب میں ہے ۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ جے آئی ٹی پر تنقید اصولی طور پر خود سپریم کورٹ پر تنقید ہے ۔ کیونکہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی نامزد کردہ ہے اور اسی نے ان ارکان کو بطور ممبر تقرر کیا تھا ۔ حکومت خود سپریم کورٹ کے بنائے گئے بنچ میں شامل ایک جج کے ریمارکس’’ سیسلین حکومت‘‘ پر بھی اپنا سخت ردعمل دے چکی ہے ۔ اگرچہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد تمام تر تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی میں پیش ہورہے ہیں جو اچھی بات ہے ۔ لیکن جس انداز سے اب جے آئی ٹی کو مذاق اور متنازعہ بنادیا گیا ہے وہ بھی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔
جے آئی ٹی پر معاملہ اب محض حکومت تک محدود نہیں رہا ، بلکہ خود جے آئی ٹی کے سربراہ سمیت ان کے ارکان نے بھی اس تفتیش کے تناظر میں اپنے تحفظات سپریم کورٹ کے حکم پر تحریری طور پر عدالت میں جمع کروادیئے ہیں ۔ ان کے بقول تمام ارکان پر سیاسی دباؤ، ہراس و خوف ، دھمکیوں اور اداروں کی جانب سے عدم تعاونکا سامنا ہے۔ حکومت رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں ۔ جے آئی ٹی کی جانب سے حکومت کے خلاف جوابی تحریری درخواست ظاہر کرتی ہے کہ صورتحال سنگین ہے جو حکومت اور عدلیہ کے درمیان نئی محاز آرائی یا ٹکراؤ کو جنم دینے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔ بنیادی طور پر پہلی بار ملک میں موجودہ وزیر اعظم اوران کی فیملی کا احتساب ہورہا ہے جو اہم بات ہے اور اس کو غیر معمولی بات سمجھا جانا چاہیے ۔ مگر اس کے باوجود لوگوں میں جہاں امید ہے وہیں خدشہ بھی ہے کہ کیا اس ملک میں طاقت ور طبقہ کے خلاف قانون کی حکمرانی کو برتری حاصل ہوسکے گی۔
وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر عدلیہ پرتنقید کی کہ وہ ایک خاندان پر بندوق رکھ کر احتساب کے عمل کو آگے نہ بڑھائیں ۔ ان کے بقول احتساب کرنا ہے تو سب کا کریں۔ یہ بات وزیر اعلی پنجاب کئی دفعہ کہہ چکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ اور ان کا خاندان اقتدار میں آتا ہے تو خود کیوں نہیں کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا احتساب نہیں کرتے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی قیادت پر یہی الزام ہے کہ وہ کئی بار اقتدار میں آنے اور احتساب کے بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود احتساب پر سیاسی سمجھوتے کا شکار ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں احتساب کا نعرہ تو محض ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کھیل میں سیاسی اور فوجی حکمرانوں کا ریکار ڈ بہتر نہیں اور سب نے یا تو سمجھوتے کیے یا احتساب کو اپنے مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا۔
یہ بات بجا کہ پانامہ کیس کے تناظر میں کسی سے ظلم نہیں ہونا چاہیے اور یہ سارا عمل شفاف ہو لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ ایک ہی وقت میں سب کا احتساب ممکن نہیں ۔ کہیں سے تو ہمیں اس کام کی ابتدا کرنی ہوگی۔ عمومی طور پر اس طرح کے کام کی ابتدا حکمران طبقات سے ہی ہوتی ہے تاکہ شفافیت کے عمل کو برقرار رکھا جائے ۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی کرپشن اور بدعنوانی کا احتساب ہونے پر اپنے مخالفین کو چور او ربدعنوان کہہ کر سارے عمل کو متنازعہ بناتے ہیں ۔ یعنی اگر ہم بدعنوان ہیں تو دوسرے بھی بدعنوان ہیں۔ یہ عمل ایک دوسرے کی کرپشن اور بدعنوانی کے عمل کو چھپانے میں بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے ۔ جہاں تک وزیر اعظم نواز شریف، ان کے خاندان، حکومتی ارکان اورخود جے آئی ٹی کو ایک دوسرے کے خلاف جو سنگین شکایات ہیں ، ان کی عدالت کو شفاف تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ خود عدالتی ساکھ بھی متاثر نہ ہو اور یہ عمل شفافیت سے آگے بڑھے۔
پہلی بار جے آئی ٹی کی پشت پر اعلی عدلیہ کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جے آئی ٹی اپنے آپ کو زیادہ طاقت ور اور محفوظ میں سمجھتی ہے ۔ اس سے قبل جو جے آئی ٹی بنتی تھیں وہ حکومتی اداروں کے ماتحت ہوتی تھیں اور یہ ادارے چیف ایگزیکٹو کے ماتحت ہوتے تھے اس لیے ان پر فیصلوں پر حکومت کا دباؤ ہوتا تھا ۔ حکومت کی اس وقت پریشانی بھی یہ ہے کہ جے آئی ٹی براہ راست سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے اور اسی وجہ سے ان کو پہلی بار بڑی مشکل کا سامنا ہے ۔ اسی لئے بہت سے لوگوں کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی توبنا ڈالی لیکن یہ وزیر اعظم کی موجودگی میں کس حد تک بغیر دباؤ کے کام کرسکے گی ۔ انہی تحفظات کی بنا پر عمران خان سمیت بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تحقیقات کے عمل تک بطور وزیر اعظم مستعفی ہوکراپنی جگہ کسی اور کو نامزد کرنا چاہیے ۔ اب پھر یہ بات شدت سے کی جارہی ہے کہ اگر الزام حکومتی سربراہ پر ہو اور وہی چیف ایگزیکٹو کے طور پر موجود ہو تو اداروں کے لیے احتساب کا عمل مشکل ہوگا۔
بنیادی طور پر پاکستان میں عدالتی فیصلوں کے تحت احتساب کا عمل متنازعہ رہا ہے۔ کیونکہ خود عدالتیں بھی ماضی میں نظریہ ضرورت کے تحت آگے بڑھتی رہی ہیں ۔ اس لئے اب عدلیہ پر بھی دباؤ ہے اور خاص طور پر اس نے ان سیاسی نعروں کی نفی کرنی ہے کہ عدالت کسی کی حمایت اور مخالفت میں فیصلے کرتی ہے ۔ یاد رکھیں شفاف احتساب اور قانون کی حکمرانی کا نظام وہیں آگے بڑھتا ہے جہاں عدلیہ اور ادارے واقعی آزاد ہوں۔ اس وقت واقعی قوم ان اداروں کو خود مختار دیکھنا چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ عدالتیں بھی طاقت ور اور حکمران طبقات کے خلاف بلا خوف اور دباؤ کے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرسکیں ۔ لیکن بعض لوگ عدلیہ کو بھی سیاست کی نذر کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں اور اس کی جھلکیاں ہمیں سیاسی تناظر میں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔ اگر واقعی پانامہ کا سارا عمل متنازعہ ہوتا ہے اور کسی شفافیت کے بغیر ہم اس مقدمہ کا کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے تو یہ واقعی بدقسمتی ہوگی۔ اور مستقبل میں احتساب کا عمل ممکن نہیں ہوگا ۔
اس وقت واقعی ہمیں بلا خوف اپنے عدالتی نظام کو نہ صرف مضبوط کرنا ہوگا بلکہ اس کے پیچھے بھی کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ خود عدلیہ پر بھی دباؤ ہو کہ وہ شفاف فیصلے کرسکے ۔ کیونکہ اگر اس ملک کا عدالتی نظام ہی مفلوج ہوجائے گا اوراس کو دباؤ میں لاکر اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کی روش اختیار کی جائے گی تو پھر معاشرے میں عدل اورانصاف کا نظام بہت پیچھے چلاجاتا ہے ۔