برطانیہ میں دہشتگردی اور انتخابات
- تحریر سید انور محمود
- اتوار 11 / جون / 2017
- 3688
جون 2016 میں برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا علیحدہ ہونے کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقاد کرایا گیا تھا۔ جس میں عوام کی اکثریت نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیئے تھے۔ اس پس منظر میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے وقت سے تین سال پہلے ہی وسط مدتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا اوراس سال اپریل میں 8 جون 2017 کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ 8 جون کو برطانیہ میں عام انتخابات کیلئے پولنگ ہوئی۔ برطانیہ میں عام انتخابات کا دن بھی ایک عام دن کی طرح ہوتا ہے، کوئی چھٹی نہیں ہوتی، عوام اپنے اپنے کام کرتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔
ان انتخابات میں رجسٹرڈ شدہ ووٹرز میں سے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً 68.6 فیصد رہی، 650سیٹوں کےلئے 3303 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ انتخابی نتائج کے مطابق برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے کا وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا داؤ الٹا پڑ گیا۔ پارلیمان کی 650 میں سے 649 نشستوں کے نتائج کے مطابق حکمران جماعت کنزرویٹو 326 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی لیکن وہ اب بھی 318 نشستوں کے ساتھ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ ان انتخابات کا برطانیہ کی سیاست پر کیا اثرپڑے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم جس وقت برطانوی سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی تھیں تو دوسری طرف برطانیہ کے عوام دہشتگردی کا مقابلہ کررہے تھے۔
گزشتہ تین ماہ میں برطانیہ میں دہشتگردی کے تین واقعات ہوئے جن میں سے دو کا ہدف لندن اور ایک کا مانچسٹر شہرتھا۔ دہشتگردی کا پہلا واقعہ لندن میں 23 مارچ کو ہاؤس آف پارلیمنٹ کے قریب پیش آیا۔ اس واقعے میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر پل پر ایک حملہ آور نے وہاں موجود راہگیروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے بعد حملہ آور پیلس آف ویسٹ منسٹر کے دروازوں کی طرف بھاگا۔ اس سانحہ میں 5 افراد ہلاک ہوئے اور 40 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں تین فرانسیسی بچے بھی شامل تھے۔ مرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار اورتین عام شہری تھے جبکہ دہشتگرد کو پولیس نے ہلاک کردیا تھا۔ دہشتگردی کا دوسراواقعہ مانچسٹر میں 23 مئی کو اس وقت پیش آیا جب مانچسٹر ارینا میں امریکی گلوکارہ آریانا گرانڈے کا کانسرٹ جاری تھا۔ کانسرٹ میں 20 ہزار سے زائد افراد موجود تھے کہ اچانک زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں کانسرٹ میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 22 اورزخمیوں کی تعداد 50 سے زیادہ تھی۔ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ان کی تعداد زیادہ تھی جو بھگدڑ کی وجہ سے کچلے گئے۔
دہشتگردی کا تیسرا واقعہ انتخابات سے صرف پانچ دن پہلے 3 جون کی شب لندن میں دو جگہ دہشتگردی کے سبب پیش آیا جس میں سات افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے۔ دس بجے کے بعد لندن برج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی ویگن نے راہگیروں کو کچل دیا اور پھر وہ منڈیر سے ٹکرا گئی۔ پولیس نے اس حملہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے۔ راہگیروں کو کچلنے کے بعد اس ویگن سے اترنے والے تین افراد نے پل کے جنوب میں واقع بورو مارکیٹ میں موجود لوگوں پر چاقو کے وار کئے۔ دہشتگرد حملوں کے بعد 12 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے تین مشتبہ افراد کو بھی ہلاک کیا ہے جنہوں نے جعلی دھماکہ خیز جیکٹس پہنی ہوئی تھیں۔ تاحال کسی دہشتگرد تنظیم نے اس دہشتگردی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب بہت ہوچکا ہے‘۔ عالمی رہنماؤں نے دہشتگردی کے ان تینوں واقعات کی بھرپورمذمت کی اور برطانیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہارکیا۔
مانچسٹر حملے کا ذمہ دار خود کش حملہ آور 22 سالہ لیبی نژاد شخص سلمان عبیدی تھا جو برطانیہ میں ہی 1994 میں پیدا ہوا تھا۔ مانچسٹردھماکے کے بعد برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مے نے خبردار کیا تھا کہ برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہو سکتا ہے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے خطرے کی سطح کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا اور 3 جون کو لندن میں دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا۔ مانچسٹر دھماکے کے بعد یکم جون سے شروع ہونے والے چیمپئنز ٹرافی ایونٹ پر بھی خوف کے سائے چھاگئے تھے۔ جنوبی افریقی پلیئرز کے خدشات کو سیکیورٹی میں اضافے کی یقین دہانیوں سے کم کردیا گیا۔ اس ایونٹ میں پاکستان بھی حصہ لے رہا ہے۔ چیمپئنز ٹرافی اپنے وقت پر شروع ہوئی اور 3 جون کو لندن میں دہشتگردی ہونے کے باوجود اس ایونٹ کے تمام پروگرام ابھی تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں اور امید ہے اس کا کامیابی سے اختتام ہوگا۔
دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے، چاہے وہ کسی مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہو یا پھر کسی ہندو یا کرسچن کے گھر میں۔ اس لیے ایک دہشتگرد کامسلم نام ہونے کی وجہ سے مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔ یہی اصول دوسرے مذاہب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک دہشتگرد کا مذہب صرف دہشتگردی ہوتا ہے لہذا ایسے انسان کو صرف دہشتگرد کہا جائے۔ مانچسٹر کی مساجد اور اسلامی مراکز نے خود کش حملہ آور سلمان العبیدی کی نماز جنازہ پڑھانے اور اسے مانچسٹر میں دفن کرنے سے معذرت کی ہے۔ دوسری طرف مانچسٹر بلدیہ نے بھی خود کش بمبار کو اس شہر میں دفن کرنے سے روکنے کے لیے تمام اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلدیہ نےخود کش بمبار کی باقیات کو شہر سے باہر محفوظ کیا ہوا ہے۔ جبکہ لندن میں 130 اماموں نے 3 جون کے دہشتگردوں کا نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا تھا۔ علما کا کہنا ہے کہ بے گناہوں کو مارنا اسلام اورپیارے نبیﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لہذا وہ دہشتگردوں کی آخری رسومات میں حصہ نہیں لیں گے۔ دونوں شہروں کے مذہبی رہنماؤں کا فیصلہ قابل ستائش ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
آٹھ جون کو برطانوی عوام نے انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر دنیا بھر کو ایک واضع پیغام دیا ہے کہ وہ جمہوریت کے محافظ ہیں۔ دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے لیکن دہشتگردوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔ آج دہشتگردی سے پوری دنیا پریشان ہے۔ پاکستان کا شمار تو ان ممالک میں ہوتا ہے جو دہشتگردی سےسب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کا شکار ہوچکے ہیں لیکن افسوس پاکستان میں ہی سب سے زیادہ دہشتگردوں کے سہولت کارموجود ہیں۔ یہ دہشتگردوں کو وہ تمام سہولیات مہیا کرتے ہیں جس سے فائدہ اٹھاکر دہشتگرد زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلاتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو برطانیہ کے عوام سے سبق سیکھنا چاہیے کہ نہ ہم جمہوریت کوچھوڑیں گے اور نہ ہی دہشتگردوں سے ڈریں گے۔ اور آئندہ کسی دہشتگرد کی نماز جنازہ نہ پڑھیں گے۔ اورنہ ہی اس کی نماز جنازہ ہونے دیں گے۔
خدا نہ کرے آئندہ اگر کبھی پاکستان میں دہشتگردی ہو تو دہشتگرد وں کی لاشوں کے ساتھ پاکستانی علما بھی وہی سلوک کریں جو برطانیہ کے علما نے کیا ہے۔