امریکہ کو لگتا ہے کہ یہی واحد راستہ ہے!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 13 / جون / 2017
- 4930
امریکہ کے ایک اہم ادارہ راسموس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے اس سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی بحران کا شکار امریکی قوم اور سرمایہ دارانہ نظام کی مقبولیت میں تیزی سے کمی کے ساتھ ”سوشلزم“ جس کو کچھ عرصہ قبل امریکہ میں ممنوعہ لفظ سمجھا جاتا تھا، کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی بحران کے بعد سرمایہ داری نظام کو سوشلزم سے بہتر کہنے والے امریکی شہریوں کی شرح 50 فیصد سے کچھ ہی زائد رہ گئی ہے۔ 40 سال سے زیادہ امریکی شہریوں کی اکثریت نے جو 52 فیصد افراد پر مشتمل ہے، کساد بازاری سے پاک سرمایہ دارانہ نظام کو سوشلزم سے بہتر قرار دیا تاہم اس سے کچھ کم عمر کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے سوشلزم کو بہتر نظام قرار دیا۔ 27 فیصد نے کہا کہ وہ نہیں جانتے سرمایہ دارانہ نظام بہتر ہے یا سوشلزم معیشت۔ سروے کے مطابق امریکی میں ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے 32 فیصد افراد سوشلزم کے حامی ہیں۔
ادھر امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی نے عالمی اقتصادی بحران اور کساد بازاری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکسسٹ لینن ازم کا دور پھر آ گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ عہدیدار لابیرو ڈیلا پیانا نے بتایا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی پیشن گوئی کے عین مطابق ہے۔ اور اب دنیا کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا وقت دوبارہ آ پہنچا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے عوام ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمیونسٹ پہلی بار دفاعی پوزیشن سے باہر آ گئے ہیں ہم اپنی دنیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہوگی جو چند افراد کے فائدے اور خوشی کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات کیلئے آسودگی اور راحتیں لے کر آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے اہم مسائل مثلاً امن، تعلیم، صحت اور روزگار ہیں اور ہم یہ سب فراہم کر سکتے ہیں۔
میرے ہمسایہ ملک جرمنی میں ایک معروف پبلشر کا ایک مضمون اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں یہ جرمن پبلشر یوران (جوران) لکھتا ہے کہ اگر یہ فیشن نہیں ہے تو پھر حقیقت ہے کہ ان دنوں کارل مارکس کی کتابوں کی فروخت بہت بڑھ گئی ہے۔ میرے اپنے ادارہ میں مارکس کی کتابوں کی فروخت میں 1995 میں ہی اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ لیکن آج صورت حال اس سے کئی گنا مثبت ہے۔ یورن کا کہنا ہے کہ کارل مارکس کی مشہور عالم کتاب دس کیپٹال (جسے انگریزی میں داس کیپٹل کہتے ہیں) جو پہلی بار 1867 میں شائع ہوئی تھی، 2005 میں ہمارے ادارہ نے اس کی 900 کاپیاں فروخت کیں بعد ازاں 2006 میں یہی تعداد بڑھ کر گیارہ سو ہو گئی پھر 2007 میں 1400 ہو گئی جبکہ 2008 میں 21000 کی تعداد میں فروخت کی گئی اور اب 2017 کی پہلی سہ ماہی میں 10 ہزار کاپیاں فروخت کر چکا ہوں۔ یورن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اشاعت کی تعداد کو دیکھا جائے تو یہ کوئی اتنی بڑی تعداد نہیں ہے لیکن اگر لوگوں کی دلچسپی دیکھی جائے تو یہ تعداد خوش کن ہے۔ مجھے یہ بات شدت سے محسوس ہو رہی ہے کہ لوگوں میں مارکس کو پڑھنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اگر دنیا بالخصوص امریکہ کا اقتصادی بحران یونہی اپنے پر پھیلاتا رہا تو سرمایہ دارانہ نظام ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ جائے گا۔
جرمن پبلشر کی بات کو امریکہ کے نائب صدر نے اپنی بریفنگ میں دوسرے رنگ میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کی ڈوبتی معیشت کو بچانے کیلئے سات (7) کھرب ڈالر درکار ہیں جبکہ ملکی معیشت اندازوں سے زیادہ دگرگوں ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ وہ اقتصادی ماہرین کی رائے سے متفق ہیں کہ ملکی معیشت پھر خراب ہے۔ تاہم معیشت کو مکمل ڈوبنے سے بچانے اور نیا بیل آﺅٹ پیکیج لانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ بات دنیا پر واضح ہو گئی ہے کہ امریکی سرمایہ دارانہ پالیسیوں نے امریکہ میں معاشی عدم استحکام اور معاشی عدم توازن کو جنم دیا ہے جس کے سبب فوجی اور سیاسی سطح پر بالادستی حاصل کرنے کے بعد بھی یہ ملک پسماندگی اور تباہی کی طرف جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ میں عدم توازن کی پالیسی یہ ہے کہ ایک ڈچ رپورٹ کے مطابق 2001 کے آخر تک امریکہ کی کل دس فیصد آبادی پورے ملک کی 71 فیصد دولت کی مالک تھی اور باقی 90 فیصد کے پاس صرف 30 فیصد دولت تھی۔ ان 10 فیصد میں صرف ایک فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کل امریکی دولت کا 38 فیصد ہے۔ اور جن 90 فیصد کے پاس 30 فیصد دولت ہے ان میں 40 فیصد ایسے ہیں جن کے پاس امریکی دولت کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ یعنی یہ لوگ انتہائی غربت و کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی نصف آبادی معاشی اعتبار سے بے حد پسماندہ ہو چکی ہے۔
رپورٹیں بتاتی ہیں کہ امریکہ میں اقتصادی بحران کا آغاز بیسویں صدی کے آخری سالوں میں شروع ہو گیا تھا۔ پھر اس کے اثرات کافی حد تک 2005 اور 2006 میں سامنے بھی آ گئے تھے جب کہ جارج بش نے اپنے باپ جارج بش سینئر کے جارحانہ مشن کو آگے بڑھانے کیلئے امریکہ کی طاقت کا بے جا استعمال شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب اقتصادی بحران داخلی سطح پر امریکہ کا محاصرہ کر رہا تھا۔ جارج واکر بش کا 8 سالہ دور خارجی معاملات میں دلچسپی لینے کا تھا ہی نہیں بلکہ داخلی مسائل کو حل کرنے کیلئے انتھک کوشش کرنے کا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص یا کوئی معاشرہ یا کوئی ملک غلط راستے پر چل پڑتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑتا تو وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہو نہ ہو وہ صحیح راستے پر ہے۔ حالانکہ وہ غلط راستے پر ہوتا ہے۔ لوگ اس کا ہاتھ اس لئے نہیں پکڑتے کہ وہ اسے پوری طرح تباہ و برباد دیکھنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں معاشرے سے مراد ہر معاشرہ اور ملک سے مراد ہر ملک ہے۔
داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل
ہاتھ بھی دکھ گئے دامن تیرا دھوتے دھوتے