شنگھائی تعاون تنظیم: صرف رکنیت پر اکتفا نہ کریں
- تحریر
- منگل 13 / جون / 2017
- 4090
پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، بھارت کا یہ واویلا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اپنے ہاں بھی یار لوگوں نے کافی عرصے سے اپنے اپنے سیاسی پوائنٹ کے لئے یہ جتلانے کا کوئی موقع ضائع نہ کیا۔ حکومت نے وزیر خارجہ مقرر نہ کرکے ان احباب کو مسقل ایمونیشن فراہم کر رکھا ہے۔ اس پس منظر میں شنگھائی تعاون تنظیم نے قازقستان کے شہر آستانہ میں اپنے 17 ویں سربراہی اجلا س میں پاکستان کو تنظیم کی مستقل رکنیت دینے کا فیصلہ کیا تو ان یار لوگوں نے خاموشی ہی مناسب جانی۔
میڈیا نے اس خبر کو انتہائی نمایاں جگہ دی لیکن اس کے ساتھ ساتھ زیادہ زور اس خبر پر بھی دیا کہ نواز شریف اور نریندر مودی نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ خوشگوار انداز میں ایک دوسرے کی خیریت پوچھی۔ مودی نے ان سے آپریشن اور ان کے اہلِ خانہ کے بارے میں پوچھا۔ نواز شریف نے مودی سے ان کی والدہ کی خیریت دریافت کی۔ بیشتر اخبارات میں ایک فوٹو نمایاں انداز میں چھپی جس میں سربراہان گروپ فوٹو کے لئے جمع ہو رہے ہیں اور اس دوران پاکستانی وزیر اعظم دوسرے سرے پر اپنی جگہ پر جانے کے لئے بھارتی وزیر اعظم کے سامنے سے بے نیازی سے گزر رہے ہیں۔ یوں چین اور روس کی سرکردگی میں اس علاقائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی موجودگی میں پاکستان اور بھارت کے میڈیا میں اس کانفرنس کی کارروائی پر روایتی پاک بھارت رنگ غالب رہا۔
اس انداز کے میڈیا کوریج سے ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ کہیں شنگھائی تعاون تنظیم میں بھی روایتی پاک بھارت چشمک اپنا رنگ نہ دِکھائے۔ سفارت کے اپنے اپنے اہداف، انداز اور آداب ہوتے ہیں لیکن میڈیا کی سنسنی خیزی اور سیاست کی پوائنٹ سکورنگ کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ بھارت نے اس سے قبل BRICS کی اپنے ہاں گوا ( Goa ) میں سربراہی کانفرنس میں پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے اور رسمی اعلامیہ میں دیگر ملکوں کی حمایت کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن دیگر ممالک نے انکار کردیا۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم یورپ اور روس کے دورے پر گئے۔ روسی صدر پیوٹن کو انہوں نے پاکستانی دہشت گردی پر قائل کرنے اور اپنا ہم نوا بنانے کی بھر پور کوشش کی لیکن روسی صدر نے انہیں اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیا ۔
نوّے کی دِہائی میں روس کا شیرازہ بکھرا تو دنیا کا عسکری اور سیاسی توازن بدلا۔ افغانستان کے حالات اور دنیا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے تناظر میں 1996 میں شنگھائی فائیو کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی جس کا بنیادی مقصد علاقائی سیکیورٹی معاملات میں باہمی تعاون کرنا تھا۔ ابتداٌ اس میں چین اور روس سمیت تین دیگر سنٹرل ایشین ممالک شامل تھے۔ 2001 میں ازبکسان کی شمولیت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے شنگھائی تعاون تنظیم کر دیا گیا۔
پاکستان نے 2005 میں اس تنظیم میں بطور مبصر شرکت کی اور 2010 میں مکمل رکنیت کی درخواست دی۔ 2015 میں روس میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں پاکستان کو مستقل رکنیت دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا جس کا اب باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ بھارت بھی اس تنظیم میں بطور مبصر شریک تھا اور مکمل ممبرشپ کا امیدوار تھا۔ یہ اتفاق ہے یا روس ، چین سمیت ممبر ممالک کا اجتماعی ادراک کہ اس خطے میں دہشت گردی، تجارتی رابطہ کاری کے لئے زمینی راستوں کے ملاپ ( Connectivity ) اور معاشی امکانات میں باہمی تعاون کے لئے پاکستان اور بھارت کو اس تنظیم کا مستقل رکن بنایا جائے جس میں چین اور روس سمیت وسط ایشیاء کے تمام ممالک شامل ہیں۔
آبادی کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ دنیا کی سب سے بڑی تعاون تنظیم ہے۔ رقبے کے اعتبار سے بھی یہ دنیا کی بڑی علاقائی تنظیموں میں سے ایک ہے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں مسقبل کا جو نقشہ ابھر رہا ہے اس میں چین ایک کلیدی عالمی اور علاقائی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یورپ کے ساتھ سیاسی اور عسکری تناؤ کے بعد روس کا جھکاؤ چین اور دیگر ایشیائی ممالک کی طرف ہو رہا ہے۔ افغان جنگ کی بنیاد ہی افغانستان میں روس کی مداخلت بنی۔ نہیں معلوم کہ گرم پانیوں کے افسانے میں کچھ حقیقت تھی یا محض بڑی طاقتوں نے اس افسانے کو استعمال کرکے اس علاقے کے امن و امان کو دیا سِلائی دکھا دی۔ تین دِہائیوں بعد حالات کی نئی شیرازہ بندی کچھ یوں ہو رہی کہ روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہت بہتری آ چکی ہے ۔ بھارت کی سرتوڑ کوشش کے باوجود روس اور پاکستان کے تعلقات میں مسلسل استحکام نمایاں ہے۔ تجارتی اور سرمایہ کاری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ افغانستان میں امن کی کوششوں میں اب روس باقاعدہ شریک ہے۔ روس اور وسط ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ دہشت گردی کی چنگاری کہیں اڑتے اڑاتے وسط ایشیائی ممالک ، روس اور چین میں نہ آ پہنچے۔
سیکیورٹی کے علاوہ اس خطے میں عمومی اور انرجی کی تجارت کے فروغ کے لئے بھی امن اور تجارتی راستوں کے ملاپ کی ضرورت سبھی ممبر ممالک کو ہے۔ چین کا روڈ ایند بیلٹ منصوبہ اس وسیع مگر سمندری رسائی سے محروم خطے کے لئے بھی نہایت اہم ہے اور چین کے لئے بھی۔ چین نے حال ہی میں 130 ممالک کی میزبانی میں پچاس کے قریب سربراہان کی موجودگی میں بیلٹ ایند روڈ منصوبے کے لئے کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ سی پیک کا منصوبہ اسی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ اور منصوبے کا پوسٹر پروجیکٹ ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی افادیت بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور سی پیک کے بعد دو چند ہوگئی ہے۔ زمینی راستوں کے ملاپ اور ارتباط سے ایک نیا تجارتی جہان آباد ہو رہا ہے۔ چین نے ہزاروں میل کے راستے اور درجنوں ممالک سے گزرتے ہوئے لندن تک گڈز ریلوے کامیابی سے چلا لی ہے۔ اس پس منظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت پاکستان اور دیگر ممبر ممالک کے درمیان تعاون کے کئی نئے راستے کھول سکتی ہے۔ بھارت بھی اس خطے میں ایک فعال کردار کا خواہاں اور اہمیت رکھتا ہے اس لئے وہ بھی اس تنظیم کا مستقل ممبر بننے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی کئی اہم علاقائی تنظیموں کا ممبر ہے۔ سفارتی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان کی ان فورمز پرموجودگی ایک ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ پاکستان اس وقت آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کا بھی ممبر ہے جس کا رول مسلم ممالک میں بہت زیادہ فعال نہیں ہے۔ علاقائی تنظیموں میں آر سی ڈی کے نئے قالب ای سی او کا 1985 سے ممبر ہے جس میں ترکی اور ایران کے علاوہ افغانستان اور وسط ایشیاء کے تمام نمایاں ممالک شامل ہیں۔ بظاہر ایک مظبوط تنظیم ہونے کے باوجود یہ تنظیم ممبر ممالک کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں ناکام رہی۔ جنوبی ایشیاء کے سات ممالک نے 1985 میں سارک کی تنظیم قائم کی۔ امید تھی کہ یہ تنظیم علاقائی مسائل کو حل کرنے اور ممبر ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی لیکن دھیرے دھیرے یہ تنظیم بھارت اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ بھارت نے خطے میں اپنی چوہدراہٹ اور برتری کے لئے اس تنظیم کو استعمال کرکے اس کی افادیت کو گہنا دیا ہے۔ مودی حکومت نے آتے ہی دیگر ممالک کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اسلام آباد میں گزشتہ سربراہی کانفرنس میں بھارت نے عین آخری وقت پر خود بھی انکار کیا ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور بھوٹان کو بھی ہم نوا بنا لیا اور یوں پاکستان کو یہ کانفرنس ملتوی کرنا پڑی۔
عالمی تجارتی نظام میں ملکوں کی عالمی تجارت کا غالب حصہ قدرتی طور پر ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ وابستہ ہے۔ مختلف علاقائی سیاسی اور تجارتی تنظیموں کا ایک بنیادی مقصد باہمی تجارت، عوامی روابط اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یہ ایک عجیب مگر تکلیف دہ امر ہے کہ ان مختلف علاقائی تنظیموں کا تاسیسی یا مستقل ممبر ہونے کے باوجود پاکستان کی علاقائی تجارت، عوامی روابط یعنی بین الملکی سفر و سیاحت اور سرمایہ کاری میں قابلِ ذکر فروغ نہیں ہوسکا۔ SAARC, ECO ہو یا SCO یعنی شنگھائی تعاون تنظیم ، پاکستان کو ان تنظیموں کے ذریعے سیاسی، سفارتی تعلقات بنانے اور نبھانے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح کے روابط ( People to people contacts) ، تجارتی اور سرمایہ کاری کے امکانات کے بھی بروئے کار لانے کا ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ نِری سفارتی تنہائی دور کرنا شاید ادھور ہدف ہوگا۔
مزید یہ بھی کہ ان نئے معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری امکانات پر روایتی پاک بھارت کشمکش حاوی نہ ہونے پائے کہ اس کے لئے دیگر فورمز دستیاب بھی ہیں اور زیادہ مناسب بھی ہیں۔