چِت بھی اپنی پٹ بھی اپنی۔۔۔

9 جون کوبرطانیہ کے عام چناؤ کا نتیجہ سامنے آیا تو کنزر ویٹو پارٹی کو شدید دھچکا پہنچا۔ وزیر اعظم تھریسا مے جو کہ کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر بھی ہیں، انہوں نے دوماہ پہلے اچانک الیکشن کا اعلان کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ ان کی پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ لیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو تھریسا مے کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی کے کئی بڑے لیڈروں کے ہوش اُڑ گئے۔

تاہم کنزرویٹو پارٹی ایسی واحد پارٹی ہے جس نے سب سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن حکومت بنانے کے لئے جتنی سیٹوں کی ضرورت ہے اس سے آٹھ سیٹ کم ہیں۔  کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے 326 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جبکہ کنزرویٹو پارٹی نے صرف 318 سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل ہو سکی ہے۔  دوسری سب سے بڑی لیبر پارٹی نے 262 سیٹوں پر قبضہ جمایا ہے۔ جس میں لیبر لیڈر جریمی کوربین کا اہم رول مانا جارہا ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے جریمی کوربین کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا تھا اور سیاسی ماہرین قیاس لگا رہے تھے کہ نتیجہ کہیں ا لٹا نہ ہوجائے۔ لیکن جریمی کوربین کی سخت محنت اور لیبر پارٹی کی امید افزا پالیسی کے باوجود انہیں اکثریت نہیں مل پائی۔ اس کے باوجود جریمی کوربین نے اپنی پارٹی کی کامیابی پر جشن منایا ہے اور تھریسا مے سے استعفیٰ کی مانگ کی ہے ۔ جریمی کوربین کا کہنا ہے کہ ’تھریسا مے کو اکثریت کا نہ ملنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں نے کنزرویٹو پارٹی کی پالیسی کو ٹھکرا دیا ہے ۔ لوگ ملک میں بدلاؤ چاہتے ہیں اور میں اقلیتی حکومت بنانے کے لئے تیار ہوں‘۔ لیکن تھریسا مے نے اپنے مخالفین کا منہ اس وقت بند کر دیئے جب انہوں نے ملکہ بر طانیہ سے ملاقات کرکے حکومت بنا نے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں تھریسا مے کہہ رہی ہیں ’چِت بھی اپنی ، پٹ بھی اپنی، میں کہاں ہار ماننے والی‘۔ اگر دیکھا جائے تو تھریسا مے کو اس الیکشن میں شکست ہی ہوئی ہے کیونکہ ان کی پارٹی اکثریت لینے میں ناکام رہی۔ تھریسا مے اپنی سیاسی داؤ پیچ کا بھر پور استعمال کر رہی ہیں اور کوشش کر رہی ہیں کہ وہ اگلے پانچ سال وزیر اعظم بنی رہیں۔ لیکن دشواری یہ ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے کئی ایم پی کو شکست ہوئی ہے جس کا ردعمل ہونا باقی ہے۔ اس کے علاوہ تھریسا مے کی رہنمائی میں کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ جس سے ان پر مسلسل دباؤ بنا ہوا ہے اور جو شاید ان کی استعفیٰ کی وجہ بن سکتا ہے۔ تھریسا مے نے ناردرن آئیرلینڈ کی ایک چھوٹی پارٹی DUP۔Democratic Unionist Party ڈیموکریٹک یونیونسٹ پارٹی سے معاہدہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس نے دس سیٹ جیتی ہیں ۔ اس طرح سے ان کے پاس کُل سیٹیں 328 ہو جائیں گی۔  اور کنزرویٹو پارٹی پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ جیت جائے گی۔ کنزرویٹو پارٹی  حکومت بنانے میں  کامیاب ہو جائے گی۔ ڈی یو پی نے کنزر ویٹو پارٹی کو ’اعتماد‘ کے طور پر حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی یو پی پارٹی ممکن ہے ناردرن آئرلینڈ کے مفاد کے لئے کوئی خفیہ معاہدہ کرے ۔  اگر کسی وجہ سے کنزویٹو پارٹی اور ڈی یو پی میں تال میل نہیں چلا جس کا امکان نہیں ہے تو پھر لیبر پارٹی حکومت بنانے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ گویا فی الحال الیکشن کے نتائج سے پارلیمنٹ معلق ہو گئی ہے ۔ جس سے کنزرویٹو پارٹی کے بہت سے لیڈروں کو اس بات کا خوف ہے کہ تھریسا مے کسی بھی وقت وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتی ہیں۔

تھریسا مے کے دو قریبی صلاح کاروں نے الیکشن نتیجے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ تھریسا مے نے اپنے ان دو مشیروں پر استعفیٰ کے لئے دباؤ ڈالا تھا کیونکہ ان کی وجہ سے شاید تھریسا مے کو دوبارہ لیڈر شپ کے الیکشن کاسامنا کرنا پڑتا۔ تاہم ان دونوں صلاح کاروں نے کہا ہے کہ وہ تھریسا مے کی الیکشن میں اکثریت نہ حاصل کرنے کی وجہ سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ    SNP اسکآٹش نیشنل پارٹی کو بھی اس الیکشن میں کافی دھچکا پہنچا آؤڑ ان کے کئی ایم پی کو شکست ہوئی۔ جن میں اسکاٹ لینڈ کے سابق لیڈر اور ایم پی الیکس سامنڈ کا نام اہم ہے جن کی ہار سے ایس این پی کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ اس بار ایس این پی کو 35سیٹٰیں ملی ہیں جب کہ پچھلے الیکشن میں 56 سیٹوں پر ایس این پی نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ جس کی بنا پر اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر اور ایس این پی کی لیڈر نکولا اسٹرجن نے مسلسل اسکاٹ لینڈ کے لئے آزادی کا مطالبہ کررہی تھیں۔  بلکہ انہوں نے الیکشن مہم کے دوران اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لئے دوبارہ ریفرینڈم کرانے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔  برطانیہ کی تیسری اہم پارٹی لبرل ڈیموکریٹ کو صرف بارہ سیٹیں ملی ہیں ۔ لیبرل ڈیموکریٹ کے اہم لیڈر اور سابق نائب وزیر اعظم نِک کلیگ کی ہار سے پارٹی کو کافی حیرانی ہوئی ہے۔ نِک کلیگ نے لبرل ڈیموکریٹ کے الیکشن مہم میں زور شور سے حصّہ لیا تھا اور یورپین یونین کے بہت بڑے حامی ہیں۔ حالانکہ پچھلے الیکشن کے مقابلے میں لبرل ڈیمو کریٹ کو اس بار صرف چار سیٹ ہی زیادہ ملی ہیں جسے کوئی خاص کامیای نہیں مانا جارہا۔

برطانیہ کی ایک اور اہم پارٹی (United Kingdom Independent Party (UKIP یو کِپ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔ یوکِپ کو ایک بھی سیٹ پر کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے اور یوکِپ کے امیدواروں کو ووٹ بھی کم ملے ہیں۔ یوکِپ برطانیہ کی ایک ایسی پارٹی ہے جس کا امیگریشن اور یورپ کے متعلق نظریہ کافی سخت رہا ہے ۔ یوکِپ کے سابق لیڈر نائجل فراج نے پچھلے سال کے ریفرنڈم میں برطانیہ کو یورپین یونین سے الگ ہونے کے سوال کی بھر پور حمات کی تھی۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر برطانیہ کو یورپ میں شامل ہونے کے لئے دوبارہ ریفرینڈم کرایا گیا تو ممکن ہے وہ ایک بار پھر یوکِپ کے لیڈر بننے کی کوشش کریں۔ تاہم یو کِپ کے لیڈر پال نٹّل نے الیکشن میں کراری ہار کے بعد  استعفیٰ دے دیا ہے۔

برطانیہ کا الیکشن ڈرامائی انداز میں ختم ہوگیا اور کنزرویٹو پارٹی اکثریت میں نہ آکر بھی حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ وہیں لیبر پارٹی کے مقبول لیڈر جریمی کوربین نے اس الیکشن میں جہاں اپنے مخالفین کا منہ بند کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو وہیں ان کی پالیسی نے نوجوانوں کا دل بھی جیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں جریمی کوربین وزیر اعظم بنے گے یا وہ اپنی ہی پارٹی کے ایم پی کے جورو ستم سہتے رہے گے۔ اس الیکشن نے جہاں تھریسا مے کو ایک کمزور لیڈر ثابت کیا ہے تو وہیں اس الیکشن نے جریمی کوربین کو ایک باصلاحیت اور مقبول لیڈر بنا دیا ہے۔ دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں برطانیہ میں استحکام رہے گا یا عدم استحکام ۔