ہیجان کا شکار نوجوان نسل
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 14 / جون / 2017
- 5545
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پریشانیوں ہمیں گھیرے رہتی ہیں۔ یہ پریشانیاں ، روز بروز بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بہت بڑا سبب بن رہی ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی ہمارے دشمن کی سازش ہے ۔ سب سے بڑی پریشانی تو ملک میں بجلی کی عدم دستیابی ہے۔ ہیجان ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا پھر کسی نا کسی تخریبی عمل کی جانب طبعیت مائل ہوتی جاتی ہے۔
ہیجان بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا جا رہا ہے جن میں فشارِ خون اور شوگر جیسے مہلک امراض بھی شامل ہیں۔ معاشرے میں موجود عدم توازن ہیجان کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ آج ہر کوئی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ ہیجانی کیفیت کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس چیز کی خواہش کی جائے جو ہمارے بس میں نہیں ہے۔ پچھلے زمانوں میں بھی اس کیفیت کا وجود رہا ہوگا ۔ دورِجدید میں اس ہیجانی کیفیت کی نشونما میں اضافہ ہؤا ہے۔ مغرب میں اس کیفیت سے نجات کے بہت سے ذرائع موجود ہیں۔ لیکن مشرق میں اور خاص طور سے پاکستان میں تفریح کے مواقع بھی میسر نہیں ہیں۔
انسان سارا دن کی محنت مشقت کے بعد شام کو گھر لوٹتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب سارا دن سے بجلی غائب ہے ، بجلی نہ ہونے کے باعث پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ اس پر گھر والوں کے تھکن زدہ اور بے سکون چہرے، آدمی کی طبعیت میں ہیجان پیدا کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ یہ وہ تمام عوامل ہیں جو ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ہمارے ملک میں بجلی نہیں ہے ، پانی نہیں ہے ، گیس نہیں ہے اور باقی جو کچھ بھی دستیاب ہے عام آدمی کی پہنچ میں نہیں ہے۔ ہیجان سے نجات ملے تو ذہنی سکون ہو اور ذہنی سکون ہو تو معاشرے کے افراد کچھ تخلیقی یا تحقیقی کام سرانجام دیں سکیں اور خودکشی کا رجحان کم ہوسکے۔ ہماری نسل کو ہیجان تھوڑا تھوڑا کرکے دیا گیا تو ہم لوگ کسی حد تک اس کے عادی ہوچکے ہیں ۔ نئی نسل کو پیدائش کے ساتھ اس کیفیت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اس کیفیت کی زد میں بڑے ہو رہے ہیں۔ اس کیفیت کا شکار نئی نسل انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔
نوجوان نسل کی اس ہیجانی کیفیت کو مذہب سے نفرت کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے اذہان سے مشال خان کا واقع ابھی مٹا نہ ہو۔ یہ سراسر ہیجانی کیفیت کی ایک واردات تھی جو مذہب دشمن عناصر نے سرزد کروائی۔ نوجوان نسل اپنے اوپر لگائی جانے والی کسی بھی قسم کی پابندی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بچپن سے ہی بچہ اپنے اوپر لگائی جانے والی پابندی سے بغاوت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ بچے اپنے والدین کو ہیجانی کیفیت سے دوچار کرتے ہیں۔ بچوں میں ہیجان کی ایک وجہ کمپیوٹر ، موبائل اور دیگر ایسی مشینوں (موبائل گیجٹ) پر کھیلے جانے والی گیمز بھی ہیں۔ والدین اپنی جان چھڑانے کو یا پھر جدید دور سے ہم اہنگ کرنے کے لئے کمپیوٹر اور موبائل گیجٹز تک رسائی دیتے ہیں۔ اور اپنے لئے ہیجان کے اسباب پیدا کرلیتے ہیں۔ ان کھیلوں سے پیدا ہونے والا ہیجان بچے اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے لڑائی جھگڑے کی صورت میں معاشرے میں نظر آتے ہیں۔
ہیجان بڑھنے کے ساتھ ہی بے حسی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ عبادات میں خشو ع و خضوع باقی نہیں رہا۔ مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنما عوام کو اس ہیجان سے چھٹکارا دلانے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیوں کہ یہ ان کی دکانداری کا معاملہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہیجان ختم کیسے ہوگا۔ یا اس پر کیسے قابو پایا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں ایک دوسرے کے لئے برداشت پیدا کرنا ہوگی۔ ان باتوں پر دھیان دینا کم سے کم کردیں جو ہماری پہنچ میں نہیں ہیں۔ کینہ، بغض جیسی نفس کی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اور دوسروں کی بھی مدد کریں۔ معاشی توازن کی بحالی کیلئے کام کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔ عبادت گاہوں کو سیاسی اکھاڑے بنانے کی بجائے صحیح معنوں میں عبادتگاہوں کا درجہ دیا جائے۔ تعلیمی ادارے اور اساتذہ نوجوان نسلوں کو ہیجان سے دور رکھنے کیلئے عملی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہم اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے کچھ ایسی تدبیریں کرنی ہوں گی جن کی بدولت معاشرہ ہیجان جیسے موذی اور مہلک مرض سے نجات پاسکے۔