کرکٹ اور پاکستانی قوم

ایک دن وہ تھا جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم انڈیا سے ہار گئی تو تو پورا پاکستان بشمول سابق کرکٹرز ٹیم پر لعن طعن کرتے ہوئے طرح طرح کی بولیاں بول رہے تھے ۔ تو میں نے کسی جگہ اپنے کمنٹس میں لکھا تھا کہ سوچو اگر یہی پاکستان کی ٹیم فائنل میں چلی گئی تو پھر آپ کیا کہیں گے۔   اب ٹیم نے وہ کر دکھایا جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی ۔

 اب ذرا سوچیں  ۔۔۔۔ دنیا کی نمبر ون ٹیم ساؤتھ افریقہ،  نمبر 2 ٹیم آسٹریلیا،  نیوزی لینڈ اور  سری لنکا یہ سب ٹیمیں پہلے مرحلے میں باہر ہو گئیں  کیوں۔  کیوں کہ سیمی فائنل تک صرف 4 ہی ٹیموں کو رسائی حاصل ہونا تھی ۔ پھر آج موسٹ فیورٹ انگلینڈ اپنے گھر میں پاکستان کی ٹیم سے ہار کر مقابلے سے باہر ہو گئی ۔ ان تمام ٹیموں پر تھوڑی بہت تنقید بھی ہوئی ہوگی لیکن کسی بھی ملک کے عوام یا میڈیا نے اپنے ہیروز پر اس طرح لعن طعن نہیں کیا اور نہ ہی اپنے کھلاڑیوں کی  بے عزتی کی ۔  کیوں کہ ساری قومیں ہماری طرح جذباتی اور جلد باز نہیں ہیں ۔ ہم تو ہر معاملے میں جلد باز اور انتہائی جذباتی ہیں اور کبھی  ان وجوہات پر غور نہیں کرتے جن کی وجہ سے ہمیں کسی بھی میدان میں ہزیمت کا سامنا کرنا  پڑتا ہے۔ میدان سیاسی ہو یا کھیل کا ہم ہر جگہ اپنی مرضی کے نتائج چاہتے ہیں۔ ہم سیاست میں جن کو خود بڑے شوق سے منتخب کرتے ہیں، پھر انہی کی حکومت ختم ہونے اور ملک میں شخصی حکومت قائم ہونے پر مٹھائیاں  تقسیم کیا کرتے ہیں۔ لیکن ان وجوہات پر غور نہیں کرتے جن کی وجہ سے ہماری منتخب کردہ حکومت ہماری توقعات پر پورا اترنے سے قاصر رہتی ہے ۔

اگر کرکٹ کو لے لیں تو ذرا تنقید سے پہلے غور فرمائیں کہ ہم من حیث القوم کہاں کھڑے ہیں۔ ملک کے اندر ڈومیسٹک کرکٹ کے حالات کیسے ہیں۔ ضلعی کرکٹ تنظیموں سے لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حالات کیسے ہیں۔  کتنے سالوں سے پاکستان میں کوئی غیر ملکی ٹیم نہیں آئی اور نہ ہی پاکستان میں کوئی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی گئی اور نہ اس لیول کے ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی باقاعدہ ذہنی تربیت کا کوئی انتظام نہ مینجمنٹ اس قدر مضبوط ۔ ملک میں کلب کرکٹ کی جگہ گلیوں کوچوں میں ننگے پاؤں ٹیپ بال کھیلتے نوجوانوں کے لیے کوئی گراونڈ نہ کوچنگ کا انتظام ۔ پھر بھی محمد عامر،  سرفراز،  فخر زمان،  حسن علی،  جنید،  شاداب اور رومان رئیس جیسے کھلاڑی دنیا کو حیران کر دیتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ کا لندن جانے کا اتفاق ہو تو لارڈز کے اندر کرکٹ اکیڈمی کا چکر لگا کر دیکھیں کہ 8 سال سے لےکر 20 سال تک کے بچوں کے لیے کتنے نیٹس ہیں۔  کوچنگ کا معیار کیسا ہے اور ان کو کون کون سی سہولتیں میسر ہیں۔ اسی طرح پورے انگلینڈ میں،  آسٹریلیا میں،  نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ جیسے ممالک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا لیول کیا ہے۔ دور کیوں جائیں اپنے ہمسائے میں دیکھ لیں کہ کرکٹ میں کتنا سرمایہ لگایا جا رہا ہے اور دنیا کے بہترین کھلاڑی انڈین پریمیر لیگ میں حصہ لیتے ہیں۔ اور انڈین میڈیا کس طرح اپنے کھلاڑیوں کو ہیروز بنا کر پیش کرتا ہے۔ انڈین کرکٹرز کی مالی پوزیشن پر غور کریں ۔

ادھر اپنے کھلاڑیوں کی مالی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا یے کہ کسی بھی کھلاڑی کو چند سو ڈالرز کے عوض خریدا جا سکتا ہے اور اس سے میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ کروائی جا سکتی ہے۔ ان تمام حالات کے باوجود یہی ہمارے ہیروز کبھی ورلڈ کپ،  کبھی ٹی 20 ورلڈ کپ جیت کر دنیا میں پاکستانی پرچم کو لہرا دیتے ہیں، تو کبھی چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں پہنچ کر پاکستان کا نام سب سے اونچا کرتے ہیں ۔ میری اپنی قوم سے بالعموم اور اپنے نوجوانوں سے بالخصوص گزارش ہے کہ اپنے اندر صبر کی عادت پیدا کریں اور ہر معاملے پر جذبات کی بجائے سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں ۔ جائز تنقید یا تنقید برائے اصلاح آپ کا حق ہے۔