احتساب کے عمل سے خوف زدہ طبقہ

پاکستان میں احتساب کا عمل ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب احتساب کا عمل سیاست کی نذر ہوجائے اوراس میں انصاف کے مقابلے میں سیاست کا عمل دخل زیادہ ہو تو یہ متنازعہ بن جاتا ہے ۔ عمومی طور پر احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے تین عوامل اہم ہوتے ہیں ۔ اول جو بھی حکومت  ہو اس کا احتساب ، جوابدہی اور شفافیت پر مبنی نظام اور مضبوط سیاسی کمٹمنٹ ، دوئم انصاف کے عمل کو یقینی بنانے سے وابستہ اداروں کی خود مختاری اور سوئم عوام اور سول سوسائٹی میں احتساب اورجوابدہی کا تصور اور ریاستی و حکومتی اداروں پر دباؤ کی پالیسی ۔ یہ تینوں نکات ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے  ہی احتساب کے عمل کو یقینی بناتے ہیں ۔

اگرچہ پاکستان میں سیاست دانوں سمیت ہر طبقہ میں احتساب کے عمل سے کوئی انکار نہیں کرتا۔ سب ہی اس کی افادیت پر زور دیتے ہیں ۔ ریاست اور حکومت نے شفافیت پر مبنی نظام کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی اور پالیسی سازی سمیت نئے اداروں پر تشکیل کو بھی یقینی بنایا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں احتساب کا عمل بہت کمزور ہے ۔ اس کی ایک وجہ پاکستان میں اداروں کی  داخلی خود مختاری اور شفافیت کا عمل ہے ۔ کیونکہ جب ہم اداروں کو قانون کی حکمرانی کی بجائے اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے تحت چلائیں گے تو اس کے نتائج منفی ہوں گے ۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک طبقاتی نظام کے تحت چل رہا ہے ۔ ایک طاقت ور، بالادست ، حکمران طبقہ سمیت اس کی حمایت یافتہ یا مراعات یافتہ اشرافیہ ہے جو اس موجودہ نظام سے خوش ہے ۔ کیونکہ یہ طبقہ ہر سطح پر نہ صرف مراعات لے رہا ہے بلکہ اس معاشرے میں اسی طبقہ کے مفادات کو سب سے زیادہ تقویت حاصل ہے ۔ یہ طبقہ جائز و ناجائز طریقے سے مال و دولت کماتا ہے اور ریاستی ، حکومتی اور اداروں کی مدد یا گٹھ جوڑ کے ساتھ اپنے مفادات کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ اس طبقہ کا مسئلہ احتساب نہیں ہے ۔ یہ طبقہ ہر سطح پر حقیقی اور شفاف احتساب کے عمل میں ایک خاص حکمت عملی کے تحت رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے ۔ جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو واقعی اس ملک میں شفاف ، بے لاگ اور بغیر کسی تفریق کے سب کے احتساب کا حامی ہے ۔ لیکن اس طبقہ کی سیاسی کمزوری اور اداروں کی بے بسی کے سامنے ان کی آوازیں معاشرے میں کمزور نظر آتی ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں احتساب کی باتیں تو بہت ہیں ، لیکن اس کے لئے بڑی منظم اور مضبوط تحریک کا فقدان ہمیشہ سے قومی سیاست میں موجود رہا ہے ۔ اس کی  بڑی وجہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہاں کسی کا احتساب ممکن نہیں اور احتساب پر شور مچانے سے کوئی بڑے نتائج نہیں ملتے ۔ اس طبقہ کے سامنے ماضی کا تجربہ ہے جہاں احتساب کے معاملے میں بہت کچھ ہوا ، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ جو احتساب ہوا اس نے اس سوچ کو تقویت دی کہ احتساب کے نام پر حکومتیں سیاسی مخالفین کو انتقامی نشانہ بناتی ہے ۔ 90کی دہائی میں  نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف احتساب کا عمل اور اس کے بعد نواز شریف اور زرداری سیاست  نے احتساب کے نام پر ایسا سمجھوتہ یا گٹھ جوڑکیا جو شفافیت کے خلاف تھا ۔

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حکمران اور طاقت ور طبقہ جس کی سیاست کی بنیاد ہی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ہے ، وہ کیسے احتساب کے عمل کو یقینی بناسکے گا۔ یہ طبقہ نہ تو احتساب کے عمل کو یقینی بنائے گا اور نہ ہی اس ملک میں اداروں کو خود مختاراور شفاف بنائے گا۔ اس طبقہ کی کوشش ہوگی کہ ملک میں جو بھی اسٹیٹس کو کا نظام ہے اسی کو اور زیادہ مضبوط بنا کر چلایا جائے ۔ کیونکہ کرپٹ اور بدعنوان طبقہ کی اصل طاقت ہی کمزور سیاسی نظام اور انصاف پر مبنی نظام سےوابستہ ہوتی ہے ۔ اس لیے جب ہم حکمران طبقات سے بہت زیادہ احتساب کی توقع لگاتے ہیں تو ہمیں مایوسی ہوتی ہے ۔ اس وقت ملک کی سیاست میں وزیر اعظم اور ان کا خاندان پانامہ کے مقدمہ میں احتساب کے عمل سے گزررہے ہیں ۔ اس موقع پر مجموعی طور پر خواہش یہ ہونی چاہیے کہ احتساب کا عمل شفاف ہو۔ یہ منطق  بلا جواز ہے کہ صرف وزیر اعظم اوران کے خاندان کا ہی احتساب کیوں۔ یہ بات بجا کہ احتساب کا عمل محض ان تک محدود نہیں رہنا چاہیے ۔ لیکن اگر وزیر اعظم اوران کے خاندان پر الزامات ہیں تو پھریقینی طورپر احتساب کا عمل اوپر سے اور وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ اس کی ہر سطح پر حمایت ہونی چاہیے ۔ لیکن جب حکمران طبقہ کی سیاسی جماعت، راہنما اور اتحادی رائے عامہ بنانے والے اہل دانش خود ہی اس کو محض انتقامی کارروائی قرار دیں گے تو پھر کسی بھی سطح پر شفاف عمل سے احتساب کا عمل کہیں بھی نہیں ہوسکے گا۔

ہمارے ہاں عوامی رائے بنانے والے افراد یا ادارے جس خوفناک انداز سے حکومتی مدد اورمراعات کے ساتھ کرپشن ، بدعنوانی ، احتساب کے عمل میں سیاسی جواز پیش کرتے ہیں ، وہ واقعی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ طاقت ور طبقات کو رائے عامہ بنانے والوں کی اس دانشورانہ کرپشن کی جو حمایت حاصل ہے وہ احتساب کے عمل کو یقینی بنانے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ یہ جواز بھی پیش کیا جاتا ہے کہ احتساب کرنا ہے تو پھر 1947سے کیا جائے اورسب کا کیا جائے ، یعنی کچھ نہیں کرنا ۔ اب دلیل یہ دی جارہی ہے کہ پانامہ کا مقدمہ محض سیاسی کھیل ہے اور قوم کو اس کھیل سے باہر نکلنا چاہیے ۔ ایک دلیل یہ دی گئی کہ ہمیں پانامہ کے مقدمہ میں الجھنے کی بجائے حکومت اور حزب اختلاف کو یہ مشورہ دینا چاہیے کہ وہ قبل از وقت انتخابات پر تیار ہوجائیں اور نیا مینڈیٹ لے لیں ۔ یعنی کرپشن اور بدعنوانی اگر ہوئی بھی ہے تو اس پر مٹی ڈال کر محض نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیاجائے جو کرپٹ سیاست کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

پانامہ کے مقدمہ میں جے آئی ٹی نے حکومت اور حکومت نے جے آئی ٹی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں احتساب کا عمل حکومتی مداخلت اور اداروں کی کمزوری یا عدم خود مختاری کے باعث آسان نہیں۔ یہ فکری مغالطہ  بھی موجود ہے کہ عوام ہی اپنے ووٹوں کی مدد سے انتخابات میں حکومتوں یا سیاسی قوتوں کا احتساب کرتے ہیں۔ اگر یہ منطق مان لی جائے تو پھر ہمیں ریاست اور حکومتی سطح پر احتساب سے متعلق تمام اداروں کو بند کردینا چاہیے ۔ دنیا بھر میں ادارہ جاتی سطح پر احتساب کا عمل چلتا ہے۔ جبکہ یہاں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اس نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کی نفی کی جاتی ہے ۔ کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ اگر احتساب کا عمل کسی بھی فرد سے شروع ہوا تو یہ عمل رکے گا نہیں بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گا ۔

اچھی بات یہ ہے کہ نئی نسل میں کرپشن اوربدعنوانی کی سیاست کے خلاف نفرت ہے ۔ اس نفرت کے اظہار کے لیے ان کو سوشل میڈیا کی طاقت بھی حاصل ہے ۔ نوجوانوں کی یہی طاقت اس وقت حکمران اوربالادست طبقات میں خوف بھی پیدا کررہی ہے۔ جب یہ کہا جاتا تھا کہ کرپشن اور بدعنوانی کوئی اہم مسئلہ نہیں لیکن آج ملک کی ساری سیاست اسی نقطہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاسی پنڈت اتفاق کرتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کا اہم نعرہ بھی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ہوگا۔ پاکستان کا ایک عمومی تصور قانون کی حکمرانی اورعدم شفافیت پر مبنی نظام سے جوڑا جاتا ہے اور اس سے نمٹنا ہی ریاست ، حکومت اورمعاشرہ کا بڑا چیلنج ہے ۔ اصل میں اس وقت معاشرے میں ایک واضح تقسیم مراعات اور غیر مراعات یافتہ طبقہ  اور کرپشن اور بدعنوانی کی حمایت اور مخالفت میں پیدا ہورہی ہے ۔ یہ بحث ہمیں رسمی اور غیر رسمی میڈیا، سیاسی بیٹھکوں ، مجالس، سیاسی جماعتوں ، قانونی ماہرین ، نوجوان طبقہ ، سیاسی کارکنوں سمیت دیگر طبقات میں اچھی یا بری نظر آرہی ہے ۔ یہ امر خوش آئند ہے اوراس بحث نے کسی بھی صورت میں نہیں رکنا۔ بلکہ اور آگے بڑھنا ہے ۔

لوگوں میں بہت تیزی سے ردعمل کی سیاست مضبوط ہورہی ہے اوران کو لگتا ہے کہ ان کی زندگیوں میں جو بد حالی اور معاشی تنگ دستی سمیت آگے بڑھنے کے لیے مواقع کی کمی ہے اس کے پیچھے کرپٹ اور بدعنوانی پرمبنی سیاست ہے ۔ اس لیے معاشرتی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی پرمبنی سیاست کے سامنے ہر طرح کے فکری مغالطوں سے باہر نکل کر ایک مضبوط بندھ باندھنا اور مزاحمت کی سخت ضرورت ہے۔ اسی طرح ملک کو منصفانہ اور شفاف حکمرانی کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔