قربان اس اپوزیشن پر
- تحریر
- جمعہ 16 / جون / 2017
- 3574
کسی بھی بجٹ کی منظوری کے لئے اس سے زیادہ مثالی حالات کیا ہوں گے کہ اپوزیشن اسمبلی سے باہر بیٹھی ہو، اندر صرف سرکاری بنچوں کی رونق ہو اور باہر خلق خدا پانامہ اور جے آئی ٹی کے ہنگامے میں مصروف ہو۔ خوش قسمتی کا آج کل کسی اور جگہ ڈیرہ ہو نہ ہو وزیر خزانہ کے ہاں اس کا قیام یقینی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے نئے سال کا بجٹ پیش کیا تو وہی مانوس حالات تھے۔ ایوان میں شور شرابا، کئی ایک اپوزیشن ارکان نے حسبِ معمول بجٹ کاپیاں بھی پھاڑیں۔ اپوزیشن نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا۔ امید یہی تھی کہ بجٹ سے اس قدر مایوس اپوزیشن بحث کے دوران حکومت کے خوب لتّے لے گی۔ حکومت پر تنقید کے نشتر برسا کر نشاندہی کرے گی کہ یہاں یہاں حکومت نے ٹھوکر کھائی۔ مطالباتِ زر اور کٹوتی کی تحریکیں لا کر حکومت سے کچھ کچھ نہ تو منوا کر ہی دم لے گی لیکن ہوا اس کے الٹ۔ بقول غالب:
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے مگر تماشا نہ ہوا
اپوزیشن نے 26 مئی سے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ بلکہ ایک متوازی عوامی اسمبلی ایوان کی سیڑھیوں میں سجا لی۔ یوں حکومت کے لئے اسمبلی کے اندر حالات اس قدر سازگار ہو گئے کہ آرام سے معمول کی کارروائی میں خود کو ہی سنایا اور خود کو ہی تھپکی دی۔ گزشتہ روز قائد حزب اختلاف نے اسمبلی میں آکر بجٹ بحث کے آخر پر دھواں دار تقریر کی ، لبِ لباب جس کا یہ تھا کہ وزیر اعظم کو خود اسمبلی میں آنا چاہئے۔ سعودی عرب کی سرکردگی میں بننے والے اتحاد پر حکومتِ پاکستان کہاں کھڑی ہے، وزیر اعظم خود اپنے مونہہ سے کچھ بتلائیں تو تسلی ہو ورنہ کسی وزیر کی زبانی اب ہماری تشفی نہ ہوگی۔ وز یرِ دفاع ہمیں کہتے رہ گئے کہ ابھی این او سی جاری نہیں کیا لیکن جنرل راحیل شریف کے سعودی اتحاد کی فوج کی سربراہی کا این او سی جاری بھی کر دیا گیا۔ اب وزیر اعظم خود آئیں اور ہمیں یہ بھی بتلائیں کی سعودی عرب اور قطر کے سفارتی جھگڑے میں پاکستان کا موقف کیا ہے۔ اب چونکہ وزیر اعظم اسمبلی میں نہیں آئے، سو ہم بھی ایسی اسمبلی سے احتجاجاٌ واک آؤٹ کرتے ہیں۔
اپوزیشن کا بجٹ اجلاس شروع ہونے پر ایک بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر بھی وزیر خزانہ کی طرح پی ٹی وی پر لائیو دکھائی جائے۔ حکومت نے معذرت کی کہ سرکار ہی کا حق ہے کہ سرکاری ٹی وی پر نظر آئے۔ بعد میں اس مطالبے میں توسیع ہو گئی کہ تمام اپوزیشن ارکان کی تقاریر سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کی جائیں۔ حکومت نے حسبِ توقع پھر انکار کیا۔ یوں اپوزیشن نے احتجاجاٌ باقی ماندہ پورا بجٹ سیشن بائیکاٹ میں گزارا۔ ہم نے اکثر ارکان اسمبلی کو گاہے گاہے تقاریر کرتے سنا ہے، اس لئے سمجھتے ہیں کہ حکومت کے اس فیصلے سے خود ان میں سے بیشتر ارکان کا بھرم رہ گیا لیکن انہیں اصرار رہا کہ ان کی تقریر اگر ہوگی تو براہِ راست ہی ہوگی۔ حکومت مانی نہ اپوزیشن لیکن بجٹ سیشن اس دوران بخیر و خوبی سے گزر گیا۔
بجٹ منظوری کے آخری دن ریکارڈ مدت میں 3,500 ارب روپے کے مطا لبات زر چٹکیوں میں منظور ہو گئے۔ ایک اتحادی جماعت کے رکن نے بولنے کی بار بار کوشش کی لیکن اسے اسپیکر نے یہ کہہ کر موقع نہ دیا کہ آؤٹ آف ٹرن انہیں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس دوران کچھ حکومتی وزراء نے اس ممبر کی نشست پر جا کر انہیں سمجھایا بجھایا، اور یہ اکلوتی آواز بھی اٹھنے سے پہلے ہی آسودہ ہو گئی۔ یوں جس اپوزیشن کو بجٹ سیشن میں حکومت کو ناکوں چنے چبوانے تھے وہ باہر سیڑھیوں پر بیٹھے بیٹھے اسے عوام دشمن بجٹ قرار دے کر اپنے تئیں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئی۔ اور بجٹ مبارک سلامت کے ماحول میں منظور بھی ہوگیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سرکاری ٹی وی پر براہِ راست تقریر سنوانا زیادہ اہم تھا یا اسمبلی کے اندر حکومت بجٹ پر بحث و تمحیص اور تنقید۔ سرکاری ٹی وی پر تقریر اگر کسی سیاسی آبِ حیات کا درجہ رکھتی تو ماضی کے کئی حکمران آج بھی تابندہ و پائیندہ ہوتے۔
یوں تو سیاست کی نت نئی رونقوں اور میڈیا کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ نے سیاست کے علاوہ کسی اور موضوع کو دلچسپی کے لائق نہیں چھوڑا۔ ورنہ انہیں دنوں بجٹ کے علاوہ چند ایک دیگر معاشی خبریں ایسی تھیں کہ سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کی توجہ ان کی طرف ضرور ہوتی۔ گیارہ ماہ کا تجارتی گوشوارہ ترتیب پایا تو انکشاف ہوا کہ پہلی بار پاکستان کا تجارتی خسارہ تیس ارب ڈالر کو جا پہنچا ہے۔ درآمدات میں بیس فی صد اضافہ ہوا جبکہ برآمدات گذشتہ سال سے بھی کم رہیں۔ گیارہ ماہ کی کل برآمدات بیس ارب ڈالر سے بھی کم رہیں جبکہ درآمدات پچاس ارب ڈالر سے کچھ کم پائیں گئیں۔ یوں تجارتی خسارے میں 42% اضافہ ہوا۔ درآمدات میں اضافے کا سبب مشینری، پٹرول اور اسکی مصنوعات اور فوڈ آئیٹمز کی زیادہ امپورٹ بتایا گیا۔ خیر اس میں بھی نیا کیا ہے کہ تقریباٌ ہر سال درآمدات میں اضافے کی یہی وجوہات سنتے آئے ہیں۔
حکومت اپنی معاشی نظامت میں معاشی شرح نمو ، بیرونی سرمایہ کاری ، زرِمبادلہ کے ذخائر اور افراطِ زر پر کنٹرول جیسے اشاریوں کو فخرسے پیش کرتی ہے۔ کچھ حد تک اس بات میں وزن بھی ہے لیکن کچھ دیگر اشاریے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اس لئے اگر ان اشاریوں میں خاطر خوا ہ بہتری نہ آئی تو یہ دیگر اشاریوں کو بھی لے بیٹھیں گے۔ تجارتی خسارہ ان میں سے ایک ہے۔ تجارتی خسارے کا براہِ راست اثر زرِ مبادلہ کے ذخائر پر ہوتا ہے۔ بیرون ملک ترسیلات اور ادائیگیوں کو بھی شامل کرلیں تو ایک اہم اشاریہ مالیاتی خسارے کا سامنے آتا ہے۔ پاکستان کا مالیاتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کا لا محالہ دباؤ زر مبادلہ کی شرح پر آتا ہے۔ پاکستان کے شرح مبادلہ میں گزشتہ تقریباٌ چار سال سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت نے اسٹیٹ بنک کے مدد سے شرح مبادلہ کو سختی سے ایک مخصوص حد میں رکھا ہوا ہے اور اس کا حکومت کریڈٹ بھی لیتی ہے۔ شرح مبادلہ کا تعین اصولاٌ مالیاتی اشاریوں کی مدد سے مارکیٹ طے کرتی ہے۔ اس عمل کو فری فلوٹ کہا جاتا ہے۔ ان اشاریوں میں مالیاتی خسارہ، زرِ مبادلہ کے ذخائر، افراطِ زر اور کرنسی کی انٹر بنک اور اوپن مارکیٹ میں ڈیمانڈ سمیت کئی دیگر عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
اس میں ایک اہم عنصر دیگر کرنسیوں کی ویلیو کا بھی ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران ڈالر کی قدر میں یورو اور پاؤنڈ سمیت دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی آئی جس کے نتیجے میں عالمی اور دیگر کرنسیوں کی ویلیو میں کمی ہوئی۔ اس فکسڈ ویلیو کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستانی روپے کی قدر دیگر کرنسیوں کی ویلیو کے مقابلے میں ایڈجسٹ ہونے کی بجائے بڑھتی رہی جسے اوور ویلیو ہونا کہا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی کرنسی کو اوور ویلیوڈ قرار دیا ۔ کرنسی مارکیٹوں اور بنکوں کے ماہرین کے خیال میں پاکستانی روپے کی اصل قدر اس کی حالیہ ویلیو سے کہیں کم ہے لیکن وزارت خزانہ نے مصنوعی طور پر اسے ایک ہی مقام پر فکسڈ کر رکھا ہے جس کے بعد میں خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی روپے کو مصنوعی طور فکسڈ کرنے کا یہ انداز پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی حکومت کے آخری سالوں بھی روا رکھا گیا لیکن ان کی حکومت کے جاتے ہی کرنسی کی ویلیو دھڑام سے نیچے آ گری جس کا فوری اثر افراطِ زر، مہنگی دراآمدات اور قرضوں کی دائیگیوں کے بوجھ میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ مہنگائی کا ایک ریلا ایسا اٹھا کہ عوام اور کاروباری حلقے بلبلا اٹھے۔ خدشہ ہے کہ ہم ایک بار پھر اسی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں حالیہ سالوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران سی پیک سمیت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جس کے لئے سود، اصل اور منافع کی ادائیگیاں کچھ ہی عرصے میں شروع ہو جائیں گی۔ یوں بیرونی اور اندرونی قرضوں اور سرمایہ کاری کے نتیجے میں مالیاتی ادائیگیوں کا ایک بہت بڑا بوجھ سر پر منڈلا رہا ہے۔
با ت بات پر مگر حکومت کو الزام دینے والی اپوزیشن کے پاس جب حکومت کے مالیاتی احتساب کا بجٹ کی صورت میں موقع آیا تو انہوں نے اسمبلی کے اندر موجودگی کی بجائے اسمبلی کی سیڑھیوں پر متوازی اجلاس کرنے کو ترجیح دی۔ وہ ناداں گِر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا۔ رہے عوام اور میڈیا تو انہیں جے آئی ٹی میں پہلی بار وزیراعظم کے پیش ہونے اور ان کے بعد شہباز شریف کے پیش ہونے کے مضمرات سے ہی کب فرصت ہے کہ وہ بجٹ اور تجارتی و مالیاتی خسارے جیسے پھیکے موضوع کو مونہہ لگائیں۔