احتساب ضرور ہوگا
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- جمعہ 16 / جون / 2017
- 4662
پاناما تحقیقات نے ایک بات تو پوری طرح قوم پر عیاں کردی ہے کہ شریف برادران چاہے ، مکہ میں کھڑے ہو کر یا غار حرا اور غار ثور کی بلندی پر پہنچ کر یہ کہیں کہ ہم ایماندار، ہمارا دامن اور ہاتھ صاف ہیں ۔ ہم نے حق حکمرانی ادا کردیا پھر بھی ہمیں بے گناہ کہا جارہا ہے، تو بھی حالات بتاتے ہیں کہ کہ ان باتوں کو بھی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جائے گا۔ پاناما تحقیقات کے حوالے سے جمعرات کو جب وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے پیشی ہوئی تو ان کے خاندان کے افراد اور درباری یہ قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے کہ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ چاپلوسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اس سے قبل بھی ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ، یو سف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔
کیا خود میاں نواز شریف پچھلی دورحکومت میں عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے رہے۔ اس میں تاریخ رقم کرنے والی کیا بات ہے۔ تاریخ تو تب رقم ہوتی جب گزشتہ سال اپریل میں پاناما کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد تو وزیر اعظم عارضی طور پر اپنے منصب سے نیچے اترتے، اپوزیشن لیڈرز کو اعتماد میں لیتے اور کہتے کہ اس وقت تک منصب دوبارہ نہیں سنبھالوں گا جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوجائیں۔ لیکن نون لیگ کی میں نہ مانوں کی عادت بہت پرانی ہے جس کو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ حکومت اس طرح کی چالیں ماضی میں بھی چلتی رہی ہے اور جس طرح اب چل رہی ہے تو کیا یہ قوم اندھی ، گونگی اور بہری ہے کہ اسے آپ کی چالاکیاں سمجھ نہیں آتیں۔ آپ اقتدار سے کب تک چمٹے رہیں گے۔ یہاں تو تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ آخر آپ کو اس منصب سے سکبدوش ہونا ہی ہے۔ انسان کی اوقات ہی کتنی ہے، پھر کیسا رعب ، کیسا پروٹوکول ، کیسی شان وشوکت۔ قبر میں اللہ تعالیٰ اس انسان کو پروٹوکول دیں گے جو متقی ہو۔ وہاں نہ تو دھمکیاں کام آئیں گی، نہ دنیا وی عہدوں کے لالچ میں قصیدے پڑھنے والے اور نہ ہی یہ دولت جس پر آپ اتراتے ہیں اوررعایا کو بھیڑبکریوں سے زیادہ کی اہمیت نہیں دیتے۔
حضرت عمر فاروقؓ اگر کتے مرنے پر حساب دینے کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اس بارے میں بھی حاکم وقت سے پوچھے گا تو آپ آسمان سے اتری ہوئی کوئی افضل مخلوق نہیں کہ آپ نے اُس جہاں میں بھی جنت کے پلاٹوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ یہاں ہر روز درجنوں افراد صرف اس لئے موت کو گلے لگا لیتے ہیں کہ ا ن کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں کہ دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کر کھا سکے۔ سینکڑوں مریض سرکاری ہسپتالوں میں اس لئے سسک سسک کر مر جاتے ہیں کہ ان کے پاس پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کےلئے پیسے نہیں ۔ دو کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے اس لے باہر ہیں کہ ان کے والدین تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ پڑھے لکھے لاکھوں نوجوان در بدر اس لئے پھر رہے ہیں کہ ملک میں نئے روزگار کیلئے مواقع پید انہیں کئے گئے۔ سوائے سڑکیں اور پل بنانے کہ اس حکومت کے پاس کوئی جامع ویژن ہے کہ سسکتی بلکتی قوم کے آنسو پونچھ سکیں۔ منصوبے بھی ایسے کہ مکمل بھی نہیں ہوتے اور کرپشن کی بدبو آنا شروع ہوجاتی ہے۔
حکومت دن رات دعوے کرتی نہیں تھکتی کہ توانائی منصوبوں پر دن رات کام ہورہاہے۔ تو بتائیں! نندی پور، قائداعظم سولر پاور اور اب بھکی پاور پلانٹ کے ساتھ کیا ہوا۔ کہاں غرق کردیا قوم کے خون پسینے کی کمائی کو۔ یا وہ ان فائلوں کی نذر ہو چکا جس کے ریکارڈ کو جلا دیا گیا ۔ لیکن ان سب کے باوجود مجھے اور میری قوم کے باشعور لوگوں کو یقین ہے کہ ظالموں ،اورقاتلوں کا احتساب ہوگا۔ ایسا احتساب جیسا فرعون ، شداد ، نمرود کا ہوا تھا۔ یا اور موجودہ صدی میں کرنل قذافی اور صدر صدام حسین جیسے بااثر حاکموں کا ہوا۔ خاکسار کبھی بھی طاہر القادری کے ووٹر اور سپورٹرنہیں رہا لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جو ریاست کے شہریوں کے ساتھ ہوا۔ حاملہ ماؤں کو جس طرح گولیاں ماری گئیں۔ ریاست کے کمزور قوانین ان قاتلوں کی نشاندہی نہیں کرسکے تو نہ سہی، ان شہدا کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ وہ آپ کی گردن پر ہے۔ جب بھی ظلم کی فائل کھلے گی تو آپ کااحتساب ہوگا اور ضرور ہوگا۔۔۔