قومی ادارے اور سیاسی انا
- تحریر شیخ خالد زاہد
- ہفتہ 17 / جون / 2017
- 3956
مرحوم اشفاق احمد کا اٹلی میں پیش آنے والا ایک انتہائی مشہور واقعہ ہے جہاں وہ بطور استاد اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ آپ کو کسی وجہ سے عدالت میں پیش ہونا پڑا اور جب جج کو پتہ چلا کہ آپ پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں تو اس نے بے ساختہ کہا کہ استاد عدالت میں اور کمرہ عدالت میں موجود تمام افراد بشمول جج اپنی اپنی نشستوں سے ایک استاد کی تعظیم میں کھڑے ہوگئے۔ استاد کی ایسی تعظیم و تکریم دیکھ کر استاد خود ہی محوِ حیرت ہوگیا۔
اس واقعہ کا مختصر سا تذکرہ کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا میں اداروں کی کیا اہمیت اور افادیت ہوتی ہے اور اس کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیں۔ بلکہ ایک دوسرے کی پاسداری کریں۔ دنیا میں ریاستیں نہ صرف اپنے اداروں کا احترام کرتی ہیں بلکہ کروانا بھی جانتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ تمام ادارے ضابطہ اور اصولوں کے تحت چلائے جاتے ہیں ۔ ان اداروں میں سیاسی عملداری کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی وجہ سے ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں کہ وہاں ادارے اپنا کام آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے کر رہے ہیں اور کوئی ادارہ کسی ادارے سے نہیں الجھتا۔
پاکستان دنیا کہ ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سیاسی جماعتوں کا ایک حجمِ غفیر ہے اور ہر سیاسی جماعت اپنے اثر و رسوخ کیلئے کچھ بھی کر گزرنے سے گریز نہیں کرتی۔ یہ سیاسی جماعتیں صرف علاقوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنا اثر و رسوخ اداروں میں بھی پہنچادیتی ہیں۔ یعنی سیاسی بھرتیاں کروا کر ادارے کو اپنے بس میں کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔ پاکستان اسٹیل مل کے نام سے ہر پاکستانی واقف ہے۔ یہ منافع بخش ادارہ تھا۔ اسی طرح پی آئی اے کا نام لیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ریلوے کو ہی لے لیجئے۔ یہ ادارہ بھی ملک پر بوجھ بن چکا ہے ۔ آخر کیا وجوہات ہیں کہ مذکورہ ادارے دھیرے دھیرے نہ صرف تباہی کا شکار ہوتے گئے بلکہ یہ عوام کے ٹیکس پر بوجھ بنتے چلے گئے۔ ان اداروں کی تباہی ذمہ آخر کس کے سر پر رکھا جائے۔ تو بہت واضح پتہ چلتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر ہونے والی بھرتیوں نے ایسے بہت سے اداروں کو ختم کر دیا ۔ یہ ادارے ملک کیلئے لازم و ملزو م ہیں لیکن حکومتیں ان اداروں کو پامال لررہی ہیں۔
دنیا میں سیاست ملک اور عوام کیلئے کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ہونے والی سیاست سوائے ایک دوسرے کی ٹانگے کھینچنے کے اور کچھ بھی نہیں۔ یہاں ادروں میں سیاست کا اتنا عمل دخل ہوتا ہے کہ ادارے اپنے اختیارت استعمال کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ چور کو پکڑنے کیلئے پولیس علاقے میں موجود سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی جماعت سے اجازت کی منتظر دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی کی بلکہ یہاں تک بھی ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ پر باقاعدہ حملہ بھی کیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو معزول بھی کیا گیا۔ راتوں رات قانون پر شب خون بھی مارا گیا، ایک سیاسی جماعت کے رکن نے عدلیہ کو سرِعام سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ملک کے ایک انتہائی اہم ادارے کی حرمت کو اس سے زیادہ اور کس طرح سے پامال کیا جاسکتا ہے۔ پھر یہی سیاست دان فوج کے ساتھ نباہ نہیں کر پاتے۔ یہ قومی سلامتی کونسل کو بھی اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کیوں ماضی سے سبق سیکھنے سے قاصر رہتے ہیں اور بار بار ایک ہی غلطی دہراتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ساری سیاسی جماعتیں صرف اپنی بقا کی خاطر سیاست کرتی ہیں۔ اس کے لئے انہیں کسی سے بھی ہاتھ ملانا پڑجائے ملا لیتی ہیں۔ ہمارے ملک کے سیاست دانوں کو عوام صرف انتخابات کے دنوں میں یاد آتے ہیں۔ باقی دنوں میں تو یہ اپنی ہی دال روٹی میں سرگرداں رہتے ہیں۔
ملک کی سلامتی کا مسلۂ صرف فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ اور ایٹمی قوت رکھنے والی ریاست ہے۔ مگر دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں سیاستدان کرپشن زدہ ہیں اور اپنی کی گئی کرپشن کو ماننے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ اگر وہ بدعنوان نہیں ہیں تو پھر عوام سے کیوں چھپتے پھرتے ہیں۔ پھر یہ ادارے کیوں تباہ و برباد ہوتے جارہے ہیں۔ پھر کوئی بھی ہمیں منہ اٹھا کر جودل چاہتا ہے بولتا چلا جاتا ہے۔ ہمارے ادارے اچھے ہیں ان میں کام کرنے والے لوگ قابل اور صلاحیتوں سے بھرپور ہیں مگر انہیں کام کرنے نہیں دیا جاتا۔ انہیں کام کرنے کیلئے بھی ان سیاستدانوں کی جانب دیکھنا پڑتا ہے جن کے اپنے مفادات سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔ جہموریت کا ضامن ادارہ پارلیمنٹ ہاؤس کہلاتا ہے اوراس میں ہونے والے اجلاسوں میں شریک ہونے والے ممبران پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ان میں شرکت کریں تاکہ پتہ چلے کہ آخر حکومت اور حکومت مخالف کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ مگر پارلیمنٹ میں آنا ہمارے سیاست دان اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ تو پھر اس نام نہاد جمہوریت کا کیا فائدہ ۔ اس ادارے میں ملک اور قومی مسائل تو کم زیرِ بحث آتے ہیں مگر ممبران کے ذاتی نوعیت کے مسائل پر بحث ہوتی ہے اور یہ مسائل حل بھی ہوجاتے ہیں۔
دنیا میں دہشت گردی کی جنگ عرصہ دراز سے جاری ہے اور پاکستان کا اس جنگ میں سب زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک ہے ۔ اس جنگ کو عملی طور پر پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے بہت جانفشانی اور منظم طریقے سے لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے فوج کا کردار بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ملکی سلامتی کے فیصلے بغیر فوج کے نہیں کئے جاسکتے مگر سیاسی حکومت چاہتی ہے کہ وہ سارے فیصلے خود ہی کر لے۔ اس کے نتیجے میں اب پھر وہی محاذ آرائی کا ماحول ہے۔ ہم پچھلے کچھ سالوں سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں یعنی کسی ادارے کی کسی ادارے سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ہم سنتے آرہے ہیں کہ پاکستانی فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ ایک راستے کے مسافر ہیں۔ ان کے درمیان کسی قسم کی کوئی محاذآرائی نہیں ہو رہی۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیرِاعظم یہ تین لوگ طاقت کا منبع سمجھے جاتے ہیں۔
آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے سیاست دان اداروں سے محاذ آرائی ختم کردیں۔ اپنا بے جا اثرو رسوخ دباؤ کی صورت میں ادروں پر نہ ڈالیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو ملک سے نہ صرف کرپشن کا خاتمہ ہونا شروع ہوجائے گا بلکہ میرٹ بھی عام ہوگا۔ کوئی سیاست دان چاہے حکومت میں ہو یا حزبِ اختلاف میں۔ عدالت میں پیش ہونے سے عار محسوس نہ کرے۔ ملک کی بقا کی خاطر ، ملک کی سلامتی کی خاطر اور ملک کے دوام کی خاطر اور اداروں کی بحالی کی خاطر ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی انا کی قربانی دینا پڑے گی۔ ورنہ اتنی بھاگ دوڑ کے بعد بھی کچھ نہیں بدلے گا۔