پاناما کا بھوت اور قومی سیاست

میں نے اپنے پچھلے کالم میں لوگوں اور ارباب اختیار کی توجہ پاناما سے ہٹا کر عوامی نوعیت کے کچھ اہم مسائل کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن پاناما کا مقدمہ اب ریٹنگ کے تمام ریکارڈ توڑ کر شہرت کی بلندیوں پر ہے۔  دونوں فریقین کے چاہنے والے اور تیسری چوتھی لائن میں کھڑی قیادت اپنے اپنے لنگوٹ کس کر میدان میں موجود ہے۔ کچھ لوگ سیاسی جماعتوں میں دوسری لائن کی قیادت کا ذکر کرتے رہتے ہیں لیکن میرے خیال میں صرف پاکستان تحریک انصاف وہ واحد جماعت ہے جس میں دوسری لائن کی قیادت موجود ہے اور پر امید ہیں کہ جب تک اقتدار ان تک پہنچتا اس وقت تک وہی پہلی لائن پر ہوں گے۔ باقی سب جماعتوں میں دوسری لائن ہی نہیں کیوں کہ یہ خلا ان کی اولادیں یا خاندان والے پر کرتے ہیں۔

بہرحال بات ہو رہی تھی پاناما کی۔ تو آج کل پی ٹی آئی والے بہت خوش نظر آتے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ان کے لیڈر عمران خان نے نون لیگ کے رہنما میاں نواز شریف کے گرد شکنجہ خوب کس لیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب اقتدار ان کے گھر کی لونڈی ہوگا اور پھر یہ نیا پاکستان بنائیں گے۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔ گلیاں ہوں گی سجیاں  اور بیچ میں عمران یار پھرے گا۔ لیکن مجھ جیسے پاگل اور کم علم لوگ کچھ اور ہی سوچتے رہتے ہیں اور ہر وقت دال سے کچھ کالا ڈھونڈنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کی وجہ کم علمی بھی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ ہمیں زیادہ تر کھانے کو بھی دال ہی ملتی ہے۔ اس میں اکثر کچھ کالا بھی ہوتا ہے۔ ممکن ہے وہ جلے ہوئے لہسن کی تری ہی ہے لیکن ہم ہیں کہ اس کو بھی کیڑا ہی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کیا کریں اب تو نظر بھی کمزور ہے اور جب نظر ٹھیک ہوا کرتی تھی تب کالے کیڑے ہی ہوتے تھے۔ اس لیے اب ہمارا شک دور نہیں ہو رہا۔

مجھ جیسے کج فہم لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان تو بس ایک مہرہ ہے اور اس کا استعمال کوئی اور کر رہا ہے کیوں کہ ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں گزری جب خان صاحب نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے لمبا  (دنوں کے حساب سے ) دھرنا دیا اور لوگوں کو پل پل خوشخبری دی کہ بس حکومت کا دھڑن تختہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ بس کچھ دن صبر کرو۔ ایک بار تو صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ کل تک امپائر اپنی انگلی کھڑی کر دے گا اور نواز شریف کے پاس کوئی ریویو کی گنجائش باقی نہیں ہوگی۔ لیکن امپائر تو اپنے مفادات کے چکر میں تھا اور زیادہ سے زیادہ مطالبات منوانے کے لیے دباؤ بڑھا رہا تھا اور جب امپائر کے تمام مطالبات منظور ہو گئے اور منتخب وزیراعظم اور حکومت چاروں شانے چت ہو گئی تو امپائر نے میچ کے ڈرا ہونے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے دھرنے والوں کے آف سائیڈ کے فیلڈرز کو میدان سے باہر بھیجا اور پھر آن سائیڈ کو بھی فارغ کرتے ہوئے دھرنے کی بساط لپیٹ دی۔ پھر جب نواز شریف کیمپ کے کچھ کھلاڑیوں نے میاں صاحب کو سمجھایا اور کہا گو کہ موجودہ امپائر نے ہمیں بہت دبا کر رکھا ہے لیکن پھر بھی یہ کچھ نیوٹرل ہے لہذا اسی کو اگلے 2 سال تک امپائرنگ کرنے دی جائے تو بہتر ہوگا لیکن میاں صاحب کے فارورڈ پلئیرز اس کے برعکس اپنے کلب لیڈر کو زور دے رہے تھے کہ کچھ بھی ہو جس کی اننگز مکمل ہو گئی ہے اس کو گراونڈ سے باہر بھیج دیا جائے۔ اور نیا امپائر مقرر کیا جائے۔ اس طرح شخصیات کا مرہون منت ہونے کی بجائے اداروں کو مضبوط کیا جائے۔

اس بحث نے کافی طول پکڑا اور اسی دوران فارورڈ پلئیرز کی قیادت کرنے والے کھلاڑی  (جو کافی حد تک فئیر گیم کھیلتا ہے) کو بھی جھوٹے فاؤل کے الزام میں گراونڈ سے ایسا باہر کیا کہ وہ اس کے بعد ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی مانند نئی ٹیم پر تنقید بھی نہیں کر سکتا۔ بلکہ مکمل خاموشی پر مجبور کر دیا گیا۔ تو ان تمام اقدامات کے بعد بھی کیا کچھ لوگ اس  خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کا لیڈر ملک کے منتخب وزیراعظم اور اس کے سارے خاندان کو جے آئی ٹی کے سامنے گھسیٹ لایا ہے اور اب اس خاندان سے تمام لوٹا ہوا مال بھی وصول ہوگا اور یہ سب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاسی میدان سے آؤٹ ہو جائیں گے اور ایک بار پھر گلیاں ہوں سجیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  دیوانے اور متوالے لوگ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اب احتساب کی ایک ایسی مثال قائم ہو جائے گی اور آئیندہ اول تو کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ کو بدعنوانی کا یارا ہی نہیں ہوگا۔ پھر بھی اگر کسی نے ایسی جسارت کی تو وہ احتساب سے بچ نہیں پائے گا۔ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے انٹرنیشنل کرکٹ میں نیوٹرل امپائرنگ کی تحریک چلا کر کامیابی حاصل کی جس کا فائدہ آج بھی دنیا اٹھا رہی ہے۔ بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ اب ریویو کی  سہولت بھی میسر ہے۔ لیکن میرے یہ بھائی اس بات کو فراموش کر رہے ہیں کہ وہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں وہ مہذب ممالک بھی شامل تھے جو ہر طرح کی بدعنوانی کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے اپنے ملکوں میں بھی بدعنوانی کے راستے مسدود کر رکھے ہیں۔ ان ممالک کے تمام ادارے اپنے اپنے آئینی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض پوری آزادی اور دیانتداری سے سر انجام دے رہے ہیں۔

ادھر اپنا پیارا پاکستان ہے جس میں آج تک کسی پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا گیا نہ احتساب کی روایت۔ یہاں تک پاکستان کے وجود میں آنے سے لےکر آج تک ذاتیات کے کھیل کھیلے گئے ہیں۔ آج تک کسی نے ملکی مفاد کا نہیں سوچا، اداروں کو مضبوط کرنے کا خیال ڈکٹیٹروں کو آیا نہ سیاستدانوں کو۔ جب بھی کسی ڈکٹیٹر کا اقتدار پر دل للچایا اس نے ملک کے اندر ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ لوگ یہی سمجھیں کہ بس یہ ملک اب ڈوبنے ہی والا ہے اور پھر اقتدار پر شب خون مارنے کے بعد پہلا پیغام ہم وطنوں کو یہی دیتا جاتا رہا کہ یہ سیاستدان بدعنوانی میں ملوث تھے۔ اور ملک کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پھر پکڑ دھکڑ اور احتساب کا شور اور سزاؤں کی دھمکیوں کی گونج اور بالآخر جس نے آقا کی بیعت کرلی وہ پاک صاف ہوا اور جو اپنے موقف پر قائم رہا وہ سزا کا مستحق ٹھہرا۔ اس سارے کھیل میں ہماری اعلی عدالتیں ڈکٹیٹروں کی نہ صرف حمایت کرتی رہیں بلکہ ان کی آلہ کار بنتی رہیں (آج بھی ہم انہی عدالتوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں)۔ اس ملک میں کوئی بے لاگ احتساب کی رسم چلی نہ کوئی ایسا ادارہ قائم ہو سکا جو ہر کسی کا بےلاگ احتساب کر سکے۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے بعد جب باہر آئے تو انہوں نے  پہلے سے لکھی تحریر پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ کٹھ پتلیوں کا تماشا جاری ہے اور ان کے اس بیان کے جواب میں حزب اختلاف کے لیڈر خورشید شاہ نے فرمایا کہ میاں نواز شریف کٹھ پتلی تماشے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اب پتہ نہیں شاہ صاحب کی اس سے کیا مراد تھی لیکن مجھ جیسے شقی القلب لوگ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ چونکہ میاں صاحب خود اس تماشے میں ایک لمبے عرصے تک کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں لہذا ان سے زیادہ اس کھیل کا علم کس کے پاس ہوگا۔ اسی لیے تو وہ اب عمران خان صاحب کو بھی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خان صاحب آپ میرا دھڑن تختہ کرنے میں تو شاید کامیاب ہو جائیں لیکن آپ کے اپنے ہاتھ کچھ نہیں لگنے والا۔ مگر خان صاحب  اتنی باریک باتوں کو سمجھنے والے ہوتے تو آج شیخ رشید کے مشوروں پر سیاست نہ کر رہے ہوتے، افتخار چوہدری سے دھوکا نہ کھاتے، پرویز مشرف کے ریفرنڈم کا ساتھ نہ دیتے، دھاندلی کے ثبوت اپنے ہاتھ میں لیے بغیر ہی دھرنے کا اعلان نہ کرتے، اور اتنے زیادہ یو ٹرن نہ لیتے۔

میاں صاحب آپ بھی اب صبر سے کام لیں۔ جتنے عرصے میں آپ کو کٹھ پتلی تماشے کی سمجھ آئی خان صاحب یقینا اس سے کچھ زیادہ ہی وقت لیں گے۔ بات دور نکل گئی ہے دراصل میں اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں کے گوش گزار یہ کرنا چاہتا تھا کہ آپ ابھی قبل از وقت ہی بیگانی شادی میں بھنگڑے نہ ڈالیں کیوں کہ اول تو شریف خاندان کو کچھ نہیں ہونے والا۔ وہ پرانے کھلاڑی ہیں اس طرح کے بحرانوں سے بچ نکلنے کے گر جانتے ہیں۔ اور اگر نہ بھی بچ سکے تو پھر بھی اس کا کریڈٹ آپ کے لیڈر کو نہیں بلکہ گھر کے مالکوں کو جاتا ہے اور یاد رہے کہ اقتدار کا پکا پکایا پھل پھر بھی آپ کی جھولی میں گرنے والا نہیں ہے۔ اور نہ ہی ملک میں یہ روایت پختہ ہو سکے گی کہ سب کا بےلاگ احتساب ہو سکے۔ اگر آپ اس ملک کی تقدیر بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں تو پھر اپنے عوام پر بھروسا رکھیں اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں ہاتھ بٹائیں اور عوام کو بالعموم اور اپنے کارکنوں کو بالخصوص ایجوکیٹ کریں۔ ان کی تربیت کریں کہ کس طرح وہ اپنے اندر سیاسی پختگی لائیں، اچھے برے کی تمیز کریں اور دھاندلی کی روک تھام کریں۔

خان صاحب کو چاہیے کہ وہ اسمبلی کے اندر خرابیوں کی نشاندہی کریں اور منصفانہ انتخابات کے لیے قانون سازی کے لیے اسمبلی میں بل پیش کریں۔ آپ ذرا دوسرے ممالک کی مثالیں سامنے رکھیں کہ وہاں تبدیلیاں کیسے آئی ہیں۔ انڈیا ہمارے ساتھ بنا تھا ان کا سیاسی نظام دیکھ لیں، بلکہ بنگلادیش کو دیکھ لیں جو صرف 46 سال پہلے ہم سے الگ ہوئے تھے۔ آج تقریبنا ہر شعبے میں ہمیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ میں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ میرا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق ہے نہ شریف خاندان سے کوئی ہمدردی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ شریف خاندان بدعنوانی میں ملوث رہا ہے اور اقتدار سے ناجائز فوائد حاصل کرتے رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست میں پیسے کے عمل دخل کی ابتدا میاں نواز شریف نے ہی کی تھی۔ اور ہر شعبے میں بدعنوانی کو فروغ دیا ۔ لیکن اب اس ملک میں کوئی بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس نے کبھی کوئی بدعنوانی نہیں کی۔ تو پھر سارا شور و غل پاناما کے گرد کیوں ہے۔   سب سیاستدان مل کر کوئی ایسا نظام کیوں وضع نہیں کرتے جس سے بدعنوانی کا راستہ روکنے میں مدد ملے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جمہوریت کا تسلسل برقرار رہے اور لوگوں کو موقع ملے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے  ان سیاستدانوں کا احتساب کریں ۔

بدعنوانی کو ہر حال میں ختم ہونا چاہئے۔ احتساب کے لیے ایک غیر جانبدار اور مضبوط ادارہ ہونا چاہئے جو مختصر وقت میں فیصلے دے۔ جس کے خلاف بھی بدعنوانی کا الزام ثابت ہو جائے اسے کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور ہمیشہ کے لیے سیاسی میدان سے باہر کر دیا جائے ۔ یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب ساری سیاسی جماعتیں اپنی جماعت میں جمہوریت لائیں سیاسی کارکنوں کی تربیت ہو، سیاسی جماعتوں سے شخصی فیصلوں سے نجات حاصل کرکے اجتماعی فیصلے کیے جائیں۔  عوام کی نچلی سطح پر سیاسی جماعتوں کی باقاعدہ تنظیم سازی ہو۔  آخر میں خان صاحب کے لیے میرا ایک مشورہ ہے کہ اگر آپ سیاسی طور پر میاں نواز شریف کو شکست دینے کے متمنی ہیں تو پاکستان پیپلزپارٹی سے اتحاد کریں۔ ویسے بھی اب آپ کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی آئی بن چکی ہے تو اس میں کیا حرج ہے کہ آپ پیپلزپارٹی سے انتخابی اتحاد کر لیں۔ اگر آپ کے خیال سے زرداری صاحب کی کلوننگ نہیں ہو سکتی تو بلاول سے ہتھ جوڑی کر لیں۔ اس کے ساتھ کرپشن کے خلاف کوئی تحریری معاہدہ کر لیں۔

اگر تمام ایشوز پر اتفاق نہ بھی ہو تو کچھ نکات پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ سیاست میں کامیابی کے لیے سیاستدانوں کے لئے تعاون بہتر ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے سے طاقتور لوگوں سے اتحاد اور دوستی رکھیں گے تو کامیابی کے ثمرات آپ تک کم ہی پہنچ پائیں گے ۔