شکریہ ! پاکستان کرکٹ ٹیم
- تحریر شیخ خالد زاہد
- سوموار 19 / جون / 2017
- 2956
پاکستان کرکٹ ٹیم جب چیمپینز ٹرافی میں شرکت کیلئے انگلینڈ روانہ ہو رہی تھی تو شائد ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جس نے یہ نہ کہا ہو کہ گھومنے پھرنے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر تھی۔ یہ آٹھواں نمبر بھی ویسٹ انڈیز کے حالیہ دورے کی طوفیل نصیب ہوا تھا ۔ لیکن پاکستانیوں نے اپنے وارم اپ میچ میں بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایک ناقابلِ یقین ہدف کو عبور کرکے شکست سے دوچار کیا ۔
بنگلہ دیش کو ہرانا بڑی بات نہیں تھی بڑے بات تھی 362 رنز کا پہاڑ عبور کیا تھا۔ جس میں کلیدی کردار ایک نوجوان آل راؤنڈر فہیم اشرف نے ادا کیا تھا۔ گوکہ اس میچ کی کوئی حیثیت نہیں تھی مگر کرکٹ سمجھنے والوں کو یہ میچ کھٹکا تھا کہ پاکستان نے اتنا بڑا ہدف کس طرح سے عبور کر لیا۔ تو معلوم یہ ہوا کہ فہیم اشرف نامی کھلاڑی نے بوم بوم آفریدی کی یاد تازہ کردی۔ اب پاکستانی قوم کے دل میں اس کھلاڑی کو کھیلتا ہوا دیکھنے کی دبی دبی خواہش نے سر اٹھانا شروع کیا۔ پاکستان نے اپنا پہلا میچ اپنے روائتی حریف بھارت سے کھیلنا تھا اور ساری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان بھارت سے کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں نہیں جیتا۔ اس لئے دل کو بہلانے کیلئے ہم پاکستانی کہتے ضرور ہیں کہ پاکستان جیت جائے گا مگر پاکستان نے تاریخ نہیں بدلی اور پاکستان کو حسب روایت بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس شکست کیلئے ہم پاکستانی تو تیار تھے کیونکہ ہمیں پتہ تھا کہ مصباح ، یونس اور آفریدی کے بغیر پاکستانی ٹیم کیا کرسکے گی۔
پاکستانی ٹیم نے پہلا میچ ہارنے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کیلئے کمر بستہ ہوئے۔ اپنے آپ کو یک جان کیا اور پھر شکست جیسے لفظ کو پلٹ کر نہیں دیکھا ۔ سری لنکا سے میچ میں کپتان سرفراز نے ذمہ داری کی وہ ناقابلِ فراموش مثال قائم کی جو نہ توسری لنکن بھول پائں گے اور نہ ہی ہم پاکستانی۔ اس کے بعد تو جنوبی افریقہ اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کو بھرپور انداز سے شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ ان میچز کے بعد پاکستان کو غیریقینی ٹیم کا باقاعدہ خطاب دیا گیا کہ یہ وہ ٹیم ہے کب کیا کرے گی پتہ چلانا مشکل ہے۔ اب پھر فائنل میں بھارت مدِ مقابل تھا اور ناقابلِ شکست رہا تھا۔ بھارت کی پہاڑ جیسی بلے بازوں کی لائن جس کی ساری دنیا ہی معترف ہے ۔ مگر صورتحال کچھ مختلف دیکھائی دے رہی تھی۔ یہاں پاکستانی بھی پہلی جیسی روش پر نہیں چل رہے تھے ایک طرف دعاؤں کا سہارا تھا تو دوسری طرف پاکستان کی بہترین بولنگ اٹیک پر بڑا بھروسہ تھا۔
فائنل میں بھارت نے ٹاس جیت لیا، کیونکہ پاکستان رنز کا تعاقب قدرے بہتر انداز سے کرنے میں کامیاب رہا تھا تو بھارت نے پاکستان کو پہلے بلے بازی کرنے کی دعوت دی اور پاکستان نے بھارتی کپتان کے اس فیصلے کو غلط ثابت کردکھایا ۔ بھارت کےخلاف اپنے کیرئیر کا پہلا میچ کھیلنے والے فخرزمان نے سینچری اسکور کی اور اظہر علی کے ساتھ مل کر ایک بہت پائیدار بنیاد رکھی جسے حفیظ نے بھرپور انداز سے اختتام پذیر کیا۔ پاکستانی قوم دبی دبی خوشی منارہی تھی کیونکہ ان کو خطرہ تھا کہ جس ٹیم کے پاس ایک روزہ میچوں میں دو بار دو سو رنز بنانے والا کھلاڑی ہو ، جس ٹیم کے پاس ٹورنامنٹ کا بہترین بلے باز ہو، جس ٹیم کے پاس چھ گیندوں پر چھ چھکے لگانے والا بلے باز ہو اور جس ٹیم کا کپتان اول درجے کا بلے باز ہو ان کے لئے یہ اسکور شائد کافی نہ ہو۔ مگر پاکستانیوں کے دل میں یہ بات بھی تھی کے محمد عامر ، جنید خان اور حسن علی نے بڑے بڑے ستون گرادئے تو یہ کایابی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسا ہی ہوا۔ جہاں قوم کی دعاؤں کا سہارا تھا وہیں انتہائی عمدہ بولنگ اور فیلڈنگ نے بھارتی بلے بازوں کی آہنی دیوار کو ریت کی دیوار کی طرح ڈھادیا۔ الحمدوللہ ! پاکستان تاریخی فتح سے ہمکنار ہوا اور چیمپینز کا چیمپیئن بنا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایسی کارکردگی تسلسل کے ساتھ شاید ہی کبھی رہی ہو۔ ہوتا یہ رہا ہے کہ کبھی بولنگ اچھی تو کبھی بلے بازی اچھی تو کبھی فیلڈنگ اچھی ۔مگر اس ٹورنامنٹ میں پہلے میچ کے بعد سارے شعبوں میں بھرپور مہارت نظر آئی۔
اس جیت میں جہاں کپتان نے اعلی پائے کی قیادت کی وہیں ٹیم مینجمنٹ کا کردار بھی بھرپور انداز میں فعال نظر آیا۔ پہلے ہی میچ میں یہ بھانپ لیا گیا کہ احمد شہزاد اور وہاب ریاض ٹیم کیلئے کارگر ثابت نہیں ہورہے اور ایک بہت ہی دلیرانہ فیصلہ فخرزمان جیسے بلے باز کو بطور اوپنر کھلانے کا کیا گیا۔ بین الاقوامی کرکٹ میں داخلہ اور وہ بھی دنیا کی بہترین ٹیموں کے سامنے بغیرکسی بین الاقوامی مقابلوں کے تجربے کے۔ فخر زمان نے اپنے چناؤ کو کتنا صحیح ثابت کیا اور جس نے چنا ، کتنا صحیح چنا ، اب یہ بات سب کے سامنے ہے ۔ دوسری طرف وہاب ریاض کی جگہ جنید کو کھیلانا اور پھر شاداب اور فہیم اشرف کو گاہے بگاہے استعمال کرنا بہت دلیرانہ فیصلے تھے ۔ ان فیصلوں کی بدولت ہی پاکستان نے نہ صرف بھارت کوعبرتناک شکست دی بلکہ ٹورنامنٹ جیت کر قوم کا سرفخر سے بلند کردیا۔ اور دنیا کو یہ بھی بتا دیا کہ آپ ہم پر بھلے کسی بھی قسم کی پابندیاں لگادیں کرکٹ ہمارا جنون ہے۔
پچھلے دنوں پاکستان میں ٹیلنٹ کے حوالے سے بہت بحث و مباحثے ہوئے اورکم وبیش تمام تجربہ کار اور نامور کھلاڑی اس بات پر متفق نظر آئے کہ پاکستان میں ٹیلینٹ کی کمی ہے ۔ پھر فخرزمان جیسا بلے باز ، عماد وسیم اور فہیم اشرف جیسے آل راؤنڈر، شاداب خان جیسا اسپنر اورسب سے بڑھ کر حسن علی جیسا بہترین تیز بولر کسی اور ملک سے منگوائے ہوئے کھلاڑی ہیں کیا۔ ان نوجوان کھلاڑیوں نے نہ صرف ان ناقدین کے منہ بند کردیئے بلکہ اپنی کارگردگی کے تسلسل سے اپنے سینئر کھلاڑیوں کو بھی اپنی رائے بدلنے پر مجبور کردیا۔ سرفراز کی قیادت میں پاکستان کی اتنی شاندار کارکردگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان اس جیت اور ایسی کارکردگی کے سفر کو جاری رکھے گا۔ اب میرٹ پر کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے گا۔
انشاء اللہ پاکستان ان نوجوانوں میں موجود خداداد صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے نکھارے گا اور آنے والے وقتوں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم بے یقینی کا ٹیگ ہٹانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اور صرف جیتنے والی ٹیم بن کر سامنے آئے گی۔ تمام پاکستانی قوم سرفراز اور ان کی پوری ٹیم کو عید سے پہلے عید کا اتنا بڑا تحفہ دینے پر بھرپور شکریہ ادا کرتی ہے۔ ہم اپنی ٹیم کی کامیابی کیلئے ہمیشہ دعاگو رہیں گے۔